فطرت کے خلاف جنگ: ہماری تباہی کی داستان

تحریر : حماد چوہدری

آج دل بہت بوجھل ہے۔ بدلتے ہوئے موسم اور بڑھتی ہوئی آبادی نے ہمارے فطری ماحول کو جس طرح تباہ کیا ہے، وہ دیکھ کر خوف محسوس ہوتا ہے۔ لوگ درخت لگانے کے بجائے انہیں کاٹ رہے ہیں۔ سب کی توجہ صرف پیسہ کمانے اور گھر بنانے پر ہے، مگر یہ نہیں سوچا جا رہا کہ ہم فطرت کے خلاف جا کر دراصل اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔پانی کے گزرنے کی جگہوں پر بے دریغ قبضے کیے جا رہے ہیں۔ اڈیالہ روڈ پر کئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں نالوں کے اوپر بنی ہوئی ہیں، مورگاہ اور بحریہ میں بھی یہی حال ہے۔ گوجرخان کے قریب بیول جیسے چھوٹے گاؤں میں بھی پارکوں اور کھلی جگہوں پر قبضہ کرکے سوسائٹی بنا دی گئی ہے۔ کوئی روکنے والا نہیں، حکومت خاموش ہے اور انتظامیہ تماشائی۔اس سب کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ حالیہ سیلاب میں کتنے ہی گھر تباہ ہوگئے، لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہر بار آفات کے بعد صرف کھانے کے پیکٹ اور عارضی امداد تقسیم کر کے حکومت اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتی ہے، جبکہ اصل مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت جاگ جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز یقیناً کئی اچھے اقدامات کر رہی ہیں اور نئی فورسز تشکیل دے رہی ہیں، لیکن اگر ماحولیاتی تباہی اور نالوں پر قبضوں کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا گیا تو حالات مزید بگڑیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان قبضہ مافیا کے پیچھے کسی بااثر ایم این اے یا ایم پی اے کی سفارش ہے؟ کیا اسی لیے انتظامیہ خاموش ہے؟ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اگر ابھی قدم نہ اٹھایا گیا تو جس طرح سیالکوٹ اور لاہور بارشوں کے بعد بربادی کا شکار ہوئے، کل کو پورا ضلع راولپنڈی بھی اسی انجام کو پہنچ سکتا ہے۔یہ سب دیکھ کر دل خوفزدہ ہے۔ دعا ہے کہ ہماری حکومت اور عوام دونوں اس مسئلے کو سنجیدہ لیں، ورنہ آنے والے دنوں میں حالات مزید خطرناک ہو جائیں گے