متوقع بلدیاتی انتخابات کی آمد کے پیش نظر پورے پنجاب کی طرح تحصیل کلر سیداں کی ٹاؤن وارڈز اور یونین کونسل کی سطح پر بھی سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے تمام یونین کونسل سے چئیرمین شپ کیلئے موجودہ حکومتی جماعت ن لیگ کے پلیٹ فارم سے کئی پینلز سامنے آ رہے ہیں تمام یونین کونسلز اور میونسپل کارپوریشن کی وارڈز میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں مقابلہ متوقع ہے چند ایک یونین کونسل میں پی پی پی کے امیدوار بھی اپنی قسمت آزمائیں گے وہ صرف اپنی موجودگی ظاہر کر پائیں گے ان کیلئے کامیابی کا اصول مشکل نظر آتا ہے جبکہ جماعت اسلامی اور دیگر مضبوط دھڑے بھی میونسپل کارپوریشن کلر سیداں کی چند وارڈز میں اپنے امیدوار لانے میں کوشاں ہیں تحصیل کلر سیداں کی زیادہ تر یونین
کونسلز میں ن لیگی امیدوار آمنے سامنے ہیں اور اپنی ہی جماعت کے امیدوار کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں پی ٹی آئی کا ہر یونین کونسلز میں ایک پینل موجود ہے جبکہ چند یونین کونسلز میں پی ٹی آئی کو بھی پی پی پی کی طرح امیدوار کی تلاش ہے ۔ تحصیل کلر سیداں کی باقی یونین کونسلز اور وارڈز کی طرح یونین کونسل غزن آباد میں سیاسی گہما گہمی اور جوڑ توڑ عروج پر ہے یونین کونسل غزن آباد میں نئی شامل ہونے والی آبادی حلقہ پٹوار سدیوٹ کی وجہ سے الیکشن مہم میں کافی تبدیلی آ گئی ہے نئی حلقہ بندی کے مطابق موجودہ یونین کونسل کے ووٹرز کی تعداد 11ہزار کے لگ بھگ ہے 11ہزار ووٹر ز کی یونین کونسل غزن آباد سے چئیرمین شپ کیلئے4امیدوار میدان میں ہیں جن میں ماسٹر مجید چوہدری ، کیپٹن فاروق ، بابو اخلاق اور طارق یاسین کیانی ہیں راجہ فیصل زبیر اس دوڑ سے باہرہو گئے ہیں وہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے چئیرمین شپ کے امیدواران میں سے زیادہ تر امیدوار مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لینے کے خواہش مند ہیں پارٹی خدمات ، گہری وابستگی اور عوامی خدمات کے صلہ میں ٹکٹ کے حوالے سے تمام امیدوار کوشش کررہے ہیں بلند و بانگ دعوے کرنے والے چند مخصوص افراد کی حمایت سے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہش مند بھی ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں یو سی غزن آباد میں پی پی پی کا علم چھپری اکو کے نمبر دار محمد افضل نے ہر دور میں سنبھالے رکھا ہر مشکل سے مشکل وقت میں بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے والے نمبر دار محمد افضل بھی پی پی پی کے ٹکٹ پر چئیرمین کا الیکشن لڑ سکتے ہیں یو سی غزن آباد کی مضبوط ترین وارڈ تریل میں 2400ووٹوں کا اندراج ہے یونین کونسل چئیرمین کا فیصلہ بھی یقیناًپولنگ اسٹیشن تریل کے رزلٹ پر ہو گا جبکہ سدیوٹ میں ووٹر ز کی تعداد 2 ہزار کے لگ بھگ ہے سدیوٹ کے ووٹرز بھی الیکشن پر اثر انداز ہوں گے جس امیدوار کا وائس چئیرمین مضبوط ہو گا اور جسے اہلیان تریل یا اہلیان سدیوٹ کی مکمل حمایت حاصل ہو گی وہی چئیرمین بنے گا ۔ ماسٹر مجید چوہدری کا فوکس سدیوٹ پر ہے وہ نئے حلقہ سے شامل ہونے والے حلقہ سے وائس چئیرمین لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں طارق کیانی بھی حلقہ میں اپنا اچھا اثر و رسوخ رکھتے ہیں ماسٹر مجید اور طارق کیانی کا الحاق بھی متوقع ہے اس الحاق کی صورت میں ایک مضبوط پینل بن سکتا ہے ماسٹر مجید چوہدری چئیرمین اور راجہ طارق کیانی وائس چئیرمین شپ کیلئے ن لیگ کے ٹکٹ کی دوڑ میں سب سے آگے ہوں گے راجہ شفقت محبوب ایڈووکیٹ آغاز سے ق لیگ کے ساتھ ہیں تا حال ان کی ہمدردیاں تو ق لیگ کے ساتھ ہیں مگر ان کا ن لیگی حلقوں میں بھی کافی اثر و رسوخ ہے شفقت محبوب کا اپنا گاؤں چمبہ کرپال چند سو ووٹوں پر محیط ہے شفقت محبوب ایڈووکیٹ بھی چئیرمین کے متوقع امیدوار ہیں ۔ کیپٹن فاروق کی تریل سے وائس چئیرمین لینے کی کوشش تقریباً کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس بھی امیدوار کے ساتھ وائس چئیرمین مضبوط ہو گا وہ اپ سیٹ کر سکتا ہے حال ہی میں ن لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق نائب ناظم غزن آباد مداح شاہ اس الیکشن میں کس حد تک با اثر ثابت ہوں گے اب دیکھنا یہ ہے وہ اپنی پرانی جماعت کی حمایت کرتے ہیں یا ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر پینل کی حمایت کریں گے ان کے قریبی رفقا نے ان کا پارٹی بدلنے کا فیصلہ تسلیم بھی کیا ہے کہ نہیں بابو اخلاق بھی مخصوص دھڑے کے ساتھ میدان میں شامل ہوگئے ہیں ان کے علاوہ بھی کچھ نئے لیگی عہدے داران بھی الیکشن میں آنے کیلئے پر تول رہے ہیں کاغذات نامزدگی جمع ہونے تک شاید کوئی اور پینل بھی سامنے آجائے پی ٹی آئی کا یو سی غزن آباد میں سرے سے کوئی پینل موجود نہیں بہر حال موجودہ صورت حال کے مطابق ماسٹر مجید چوہدری اورکیپٹن محمد فاروق میں کانٹے دار مقابلہ ہونے کا خیال کررہے ہیں لیکن نئے امیدواروں کے آنے سے صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے یو سی غزن آباد میں موجود پارٹی عہدے داران ٹکٹ کے حصول کیلئے کس کا ساتھ دیں گے اور ان کی کوششیں کیا رنگ لائیں گی یہ وقت ہی بتائے گا ۔ چئیرمین یونین کونسل کا تاج کس کے سر سجے گا ۔۔۔۔۔فکر چمن ہے جس کو غم آشیاں نہیں ہے ۔{jcomments on}