غزل

اس کا دو قدم میرے ساتھ چلنا میں کیا سمجھ بیٹھا
اس کی ہلکی سی مسکراہٹ کو میں پیار کی ابتداء سمجھ بیٹھا
وہ تو اپنے مطلب کے لیے میرے ساتھ چلا تھا
اس نے مجھ کو زہر دیا کچھ اس طرح سے
میں مریض محبت کی اسے دوا سمجھ بیٹھا
جب جان میرے لبوں پہ آئی میری
تب مجھے احساس ہوا اس کے زہر کا
اب وہ خوشیاں منا رہے ہیں میرے مرنے پر
وہ کیا تھا اظہر اور تو اس کو کیا سمجھ بیٹھا
(اظہر جاوید‘ گوہڑہ شریف)

اپنا تبصرہ بھیجیں