غزل

جہاں جہاں اے مرے یار روشنی چپ ہے
وہی وہی تو یہ لگتا ہیزندگی چپ ہے
کھلیں گے پھول چمن میں بہار آئے گی
جسے تو جانچ رہا ہے یہ عارضی چپ ہے
سکوں نصیب نہ ہو گا انھیں اندھیرے سے
جو کہہ رہے ہیں چراغوں میں دائمی چپ ہے
میں آ گیا ہوں ہواؤں سے گفتگو کرنے
میں کہہ رہا ہوں چراغوں میں آخری چپ ہے
نگاہ یار سے مہکیں گے پھول الفت کے
نہیں نہیں مرے احسن یہ واجبی چپ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں