عید کی خوشیوں کے پیچھے چھپی خاموش کہانی

انعم مقبول

عید کا تہوار جہاں اکثریت کے لیے بے پناہ خوشیوں، مسکراہٹوں اور جشن کا دن ہوتا ہے، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پریشانیوں کے حصار میں جکڑے، بھاری قدموں کے ساتھ، غمگین اور بجھی ہوئی آنکھوں اور تھکے ہوئے کندھوں کے ساتھ اس خوبصورت دن کو گزارتے ہیں۔ ان کے لیے عید کی خوشیاں ہسپتالوں کی دیواروں کے اندر اپنے پیاروں کی صحت یابی کی دعاؤں اور جدوجہد میں ڈھل جاتی ہیں۔

یہ احساس انسان کو تب شدت سے ہوتا ہے جب زندگی خود اسے کسی کٹھن موڑ سے گزارتی ہے۔ ایسا ہی ایک لمحہ میری زندگی میں بھی آیا، جب میرا ننھا، پیارا دس ماہ کا بیٹا زندگی اور سانسوں کی کشمکش میں یکم رمضان سے لے کر عید کے دن تک ہسپتال میں رہا، اور یوں ہماری عید بھی ہسپتال میں گزری۔دل بھرے جذبات کے ساتھ میں اپنے بیٹے کو گلے لگا کر “عید مبارک” تو کہہ رہی تھی، مگر آنکھوں میں آنسو، چہرے پر تھکن اور دل میں چھپی پریشانی کو بیان کرنا ممکن نہ تھا۔ اس کرب اور آزمائش کے وقت میں کچھ ایسے رشتے بھی تھے جو ہر روز رابطے میں رہے، ہماری ڈھارس بندھاتے رہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرتے رہے۔ وہ ہمیں یہ یقین دلاتے رہے کہ اللہ کریم ہے اور وہ ضرور بہتر معاملہ فرمائے گا

میں ان چند عزیز رشتوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں، جن میں میری پیاری امی، شازل عباسی، دختران مقبول اور فرزند مقبول، مطلوب عباسی صاحب، مسٹر و مسز پرویز اختر اعوان، محترم منیر خان صاحب، ڈاکٹر شعیب حسن، مصباح ملک اور عائشہ صدیقہ شامل ہیں۔ ان سب نے اس مشکل سفر میں مسلسل حوصلہ دیا اور ہر ممکن تعاون کیا۔

آپ سب میرے اور ماجد علی اعوان کے لیے بے حد اہم ہیں۔ آپ کی محبت، شفقت، دعاؤں اور امید کی کرن دکھانے پر ہم دل کی گہرائیوں سے مشکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اور آپ کی نسلوں کو ایسی ہر پریشانی سے محفوظ رکھے۔

انعم مقبول