تعلیم یافتہ نوجوان اور روزگار کی امید — وزیراعلیٰ پنجاب کے نام ایک کھلا خط

عنوان: تعلیم یافتہ نوجوان اور روزگار کی امید — وزیراعلیٰ پنجاب کے نام ایک کھلا خطپنجاب ترقی کے ایک نئے دور سے گزر رہا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات اور عوامی سہولت کے کئی منصوبے ایسے ہیں جنہوں نے صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz کی قیادت میں کئی ایسے اقدامات سامنے آئے ہیں جنہیں عوام نے سراہا ہے۔ ان منصوبوں سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پنجاب ایک جدید اور ترقی یافتہ صوبہ بننے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس تمام ترقی کے باوجود ایک ایسا مسئلہ بھی ہے جو آج کے نوجوانوں کے ذہنوں میں بے چینی اور تشویش پیدا کر رہا ہے، اور وہ مسئلہ ہے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری۔آج کے نوجوان کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پہچانتی ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان اور خصوصاً پنجاب میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہزاروں طلبہ و طالبات اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہ دن رات محنت کرتے ہیں تاکہ ایک دن وہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے کچھ بہتر کر سکیں۔لیکن جب یہی نوجوان اپنی تعلیم مکمل کر لیتے ہیں تو ان کے سامنے ایک مشکل حقیقت آ کھڑی ہوتی ہے۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہیں معلوم ہوتا ہے کہ عملی زندگی میں قدم رکھنا اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سوچا تھا۔ بہت سے طلبہ بی ایس کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد یہ امید رکھتے ہیں کہ انہیں جلد ہی ایک اچھی ملازمت مل جائے گی۔ مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ بہتر مواقع کے لیے ایم ایس یا دیگر اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنا ضروری ہیں۔ اس طرح نوجوان مزید کئی سال تعلیم میں گزار دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ملازمت کی ضمانت نہیں ملتی۔یہ صورتحال نوجوانوں کے لیے ذہنی اور جذباتی طور پر بھی مشکل بن جاتی ہے۔ جب ایک طالب علم کئی سال محنت کے بعد بھی مناسب روزگار حاصل نہ کر سکے تو اس کی امیدیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ اس کے خواب دھندلے پڑنے لگتے ہیں اور وہ خود کو ایک غیر یقینی مستقبل کے سامنے کھڑا محسوس کرتا ہے۔اس مسئلے کا ایک اور پہلو سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کی فیس ہے۔ اکثر سرکاری اداروں میں نوکری کے لیے درخواست جمع کروانے کے لیے 1500، 2000 یا 2500 روپے تک فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایک تعلیم مکمل کرنے والا نوجوان جو ابھی عملی زندگی میں داخل ہونے والا ہوتا ہے، اس کے لیے بار بار اتنی فیس ادا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب وہ ایک ہی وقت میں کئی مختلف محکموں میں درخواست دیتا ہے تو یہ اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ بہت سے نوجوان ایسے بھی ہوتے ہیں جو مالی مشکلات کی وجہ سے چند ہی مواقع پر درخواست دے پاتے ہیں۔یہ مسئلہ خاص طور پر ان طالبات کے لیے زیادہ حساس ہے جو اپنے گھروں سے دور رہ کر تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ ایک بیٹی جب اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے گھر سے دور ہاسٹل میں رہتی ہے تو اس کے پیچھے اس کے والدین کی بڑی قربانیاں ہوتی ہیں۔ والدین اپنی بچیوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک دن ان کی بیٹی کامیابی حاصل کرے گی اور ان کا سر فخر سے بلند کرے گی۔لیکن جب تعلیم مکمل ہونے کے بعد بھی ملازمت کے مواقع محدود ہوں تو یہ صرف نوجوانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کے والدین کے لیے بھی ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ والدین کی امیدیں اور نوجوانوں کے خواب ایک ایسے مرحلے پر آ کر رک جاتے ہیں جہاں انہیں آگے بڑھنے کے لیے مزید مواقع کی ضرورت ہوتی ہے۔پنجاب میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی نوجوان اس صوبے کی اصل طاقت ہیں۔ اگر انہیں صحیح مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ملک کی معیشت کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں نوجوانوں کو تعلیم کے بعد فوری طور پر عملی میدان میں لانے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر بہت سے ممالک میں انٹرن شپ پروگرام، یوتھ ایمپلائمنٹ اسکیمز اور ہنر مندی کے پروگرام شروع کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے نوجوانوں کو عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی مہارتیں بھی سیکھتے ہیں اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد انہیں روزگار حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔حکومتِ پنجاب اگر نوجوانوں کے لیے ایسے پروگرام متعارف کروائے تو یقیناً بے روزگاری کے مسئلے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ طلبہ اپنی تعلیم کے دوران ہی عملی تجربہ حاصل کر سکیں۔ اسی طرح نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان قرضے اور رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ وہ خود روزگار پیدا کرنے کے قابل بن سکیں۔ایک اور اہم قدم سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست فیس میں کمی یا اس کے خاتمے کا ہو سکتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں گے۔یہ حقیقت ہے کہ حکومت ہر فرد کو سرکاری ملازمت فراہم نہیں کر سکتی، لیکن حکومت ایسی پالیسی ضرور بنا سکتی ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ صنعتی ترقی کو فروغ دینا، نئے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کرنا وہ اقدامات ہیں جو بے روزگاری کے مسئلے کو کم کر سکتے ہیں۔یہ تحریر دراصل ایک نوجوان کی آواز ہے۔ اس کا مقصد کسی پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ایک امید اور ایک درخواست کو سامنے لانا ہے۔ نوجوان اپنی قیادت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل کو سمجھے گی اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz سے یہی امید کی جاتی ہے کہ جس طرح انہوں نے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی ہے، اسی طرح وہ نوجوانوں کے روزگار کے مسئلے کو بھی ترجیح دیں گی۔ اگر نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا تو وہ یقیناً پنجاب کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ لیکن اگر تعلیم کے بعد روزگار کے مواقع نہ ہوں تو نوجوانوں کی محنت اور امیدیں مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیم اور روزگار کے درمیان ایک مضبوط تعلق قائم کیا جائے۔پنجاب کے نوجوان باصلاحیت، محنتی اور پرعزم ہیں۔ انہیں صرف موقع، رہنمائی اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور معاشرہ مل کر نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کریں تو یقیناً پنجاب کا مستقبل روشن اور مضبوط ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کے خواب پورے ہوں گے تو ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ بھی وجود میں آئے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

مصنفہ حفصہ اقبال راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی طالبہ ہیں اور ایم ایس ایچ آر کر رہی ہیں۔