عالمی سیاست: طاقت کا نیا توازن زیرِ بحث

ایران کے ساتھ جاری تنازعہ اس وقت عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے پورے نظام کو ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلے پر لے آیا ہے۔ برطانیہ کے وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنے حالیہ دورۂ خلیج کے اختتام پر انتہائی سنجیدہ انداز میں کہا کہ یہ بحران محض وقتی نہیں بلکہ آئندہ ایک پوری نسل کی سوچ، ترجیحات اور عالمی توازن کو متعین کرنے والا ہے۔ ان کے مطابق دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں علاقائی کشیدگیاں لمحوں میں عالمی بحران کا روپ دھار لیتی ہیں۔

وزیرِاعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کو “کمزور اور غیر مستحکم” قرار دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر بنیادی تنازعات کو حل نہ کیا گیا تو یہ امن زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، کو اس عمل کا مرکزی حصہ بنایا جائے تاکہ عالمی تجارت کی روانی بحال ہو سکے۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، اس تنازعے کے باعث شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اس اہم راستے سے تیل، گیس اور کھاد جیسی بنیادی اشیاء کی ترسیل تقریباً معطل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں بے چینی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کے اثرات براہِ راست عام شہری کی زندگی پر پڑ رہے ہیں، جہاں ایندھن اور خوراک دونوں مہنگی ہو چکی ہیں۔

سر کیئر اسٹارمر نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں عام خاندان بار بار بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر ولادیمیر پوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے عالمی رہنماؤں کے فیصلوں کو اس غیر یقینی صورتحال کا سبب قرار دیا، جن کے اقدامات کا اثر دنیا بھر کے عوام پر پڑتا ہے۔

روس کی جانب سے 2022 میں یوکرین پر حملے نے پہلے ہی توانائی کے عالمی بحران کو جنم دیا تھا، جس کے نتیجے میں ایندھن اور بجلی کی قیمتیں بے قابو ہو گئی تھیں۔ اس وقت برطانیہ کی حکومت کو عوامی دباؤ کے تحت اربوں پاؤنڈ خرچ کر کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا پڑا تھا تاکہ وہ اس مشکل وقت سے نکل سکیں۔

اب ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر ویسی ہی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس نے حکومت کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ عوام کی جانب سے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا اس بار بھی حکومت ویسی ہی مدد فراہم کرے گی یا نہیں، اور اگر کرے گی تو اس کا دائرہ کار کیا ہوگا۔

حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اس بار امدادی اقدامات محدود اور ہدفی ہوں گے، یعنی صرف ان افراد کو مدد دی جائے گی جو واقعی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جہاں کچھ اسے ذمہ دارانہ حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر اسے ناکافی سمجھتے ہیں۔

وزیرِاعظم نے بتایا کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ گفتگو میں زیادہ تر توجہ عملی اقدامات پر مرکوز رہی، خاص طور پر اس منصوبے پر کہ آبنائے ہرمز کو کس طرح دوبارہ کھولا جائے اور عالمی تجارت کو بحال کیا جائے۔

خلیجی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ اس اہم بحری راستے پر کسی قسم کی فیس یا پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔ ایران کی جانب سے اس پر محصولات عائد کرنے کی تجویز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

برطانیہ نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے تیس سے زائد ممالک پر مشتمل ایک اتحاد قائم کیا ہے، جس کا مقصد ایک جامع اور مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنا ہے۔ اس میں سفارتی، سیاسی، فوجی اور لاجسٹک پہلوؤں کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ مسئلے کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔

وزیرِ دفاع جان ہیلی کے مطابق برطانوی فوجی ماہرین کو امریکی فوجی ہیڈکوارٹرز میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے سکیں اور کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری ردعمل دے سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ برطانوی بحریہ کے جہازوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے، جن میں خودکار ڈرونز بھی شامل ہیں جو سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو تلاش کر کے ناکارہ بنا سکتے ہیں، جس سے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت ممکن ہو سکے گی۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تنازعے میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔ انہوں نے یہاں تک اشارہ دیا کہ امریکہ نیٹو سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے، جو عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ نیٹو ایک مضبوط دفاعی اتحاد ہے جس نے دہائیوں سے یورپ اور مغربی دنیا کو تحفظ فراہم کیا ہے، اور امریکہ کا اس اتحاد میں رہنا نہایت ضروری ہے۔ یورپی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا اور زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی سلامتی کے لیے دوسروں پر کم انحصار کریں۔

اپنے دورۂ خلیج کے دوران وزیرِاعظم نے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جہاں باہمی تعاون، علاقائی استحکام اور اقتصادی ترقی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش پائی جاتی ہے، خاص طور پر دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں، جو دونوں اطراف کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیرِاعظم کے مطابق اس تنازعے کے اثرات براہِ راست برطانیہ کی معیشت پر پڑ رہے ہیں، جہاں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین کی رکاوٹیں عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

اس وقت عالمی سطح پر اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ انفرادی فیصلے اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں اور مسائل کو طول دے سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تنازعہ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے، جس کا اثر آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیا جائے گا اور جس کے نتائج نسلوں تک منتقل ہوں گے۔ صرف فوجی طاقت کافی نہیں بلکہ سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی اعتماد بھی اتنے ہی اہم ہیں تاکہ ایک پائیدار اور دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

وزیرِاعظم نے یقین دلایا کہ برطانیہ اس بحران کا مقابلہ پوری قوت، حکمت اور عزم کے ساتھ کرے گا اور ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ عوام کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں صبر، حوصلہ اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں، کیونکہ عالمی بحرانوں کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوتے بلکہ وقت اور دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعے ہی کم کیے جا سکتے ہیں۔

سر کیئر اسٹارمر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ تنازعہ واقعی ایک نسل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے، اور دنیا کو اس کا سامنا اتحاد، بصیرت اور استقامت کے ساتھ کرنا ہوگا تاکہ ایک محفوظ، مستحکم اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔