سوڈان میں جاری خونی کھیل


یہ وہ دور ہے جہاں بے پناہ خود غرضی” ہے، جہاں ہر شخص صرف اپنی فکر میں مبتلا ہو اور دوسروں کی پرواہ نہ کرے موجودہ حالات بھی ایسی ہی ہیں انسان اور خاص طور پر مسلمان کا قتل ایسے ہو رہا ہے جیسے چیونٹی کو پاوں سے مسل دیا جائے اور پتہ بھی نہ چلے یہ خون ریزی اور یہ نفسا نفسی کب تک جاری رہے گی مگر جس حساب سے جانے نگل رہی ہے عنقریب ہے کہ ایک ایسی عدالت لگ جائے جس سن لو ‏بہت جلد ایک عدالت لگنے والی ہے اور اس عدالت میں وہ
وکیل بھی خود ہوگا اور جج بھی اور پھر اعلان ہوگا ترجمہ
اے مجرموں آج تم الگ ہو جاؤ
موجودہ سوڈان میں دو جرنلیوں کی حرس و حبس نے عام انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا جو اس خوف سے ہجرت کررہے ہیں انکے لیے جینا مشکل ہو گیا دو وقت کی روٹی میسر تک نہیں ۔ سوڈان اس وقت قتل گاہ بن چکا ہے جس میں اب تک 1 لاکھ پچاس ہزار لوگوں کا قتل ہو چکا ہے اور ایک کڑور بیس لاکھ لوگ مہاجر بن گئے ہیں اس وقت سوڈان قحط سازی کا شکار ہے مگر حیرت یہ ہے کہ دیگر اسلامی ممالک کیوں تماشا دیکھ رہے ہیں یہ فساد اگر کسی غیر اسلامی ملک میں ہوتا تو اسی وقت ساری اقوام متحدہ انکے ساتھ ہوتی مگر ہمارے ہر ملک کو اپنی اپنی بھاری کا انتظار ہے اور یہ انتظار ایک ایک کرے مسلمانوں کا صفہ ہستی سے مٹانے کا سبب بنے گا عالم اسلام کا حکمران طبقہ آج جان مال عزت آبرو نظریہ اور جغرافیہ کی چوکیداری کے بجائے شکاری بن گیا اور دیکھتا ہے کیسے کب کس کو آغیار کے ساتھ مل کر شکار کیا جائے ۔ سوڈان کے اس خون ریزی کو روکنا ہو گا ہر ملک اپنا کردار ادا کرے ورنہ اہل غزہ کی طرح یہ بھی مٹ جائے گے پھر آگلے کا نمبر آجائے گا تقریبا ہر مسلمان ممالک کی اندرونی جنگ نے اسے کھوکلا بنا دیا اگر مسلمان متحد نہ ہوئے اندرونی خانہ جنگی سے سب سے زیادہ فائدہ کفار کو مل رہا ہے اور آخر میں پوری دنیا وہ اپنی لپیٹ میں لے لے گے کیونکہ آج کے مسلمان کی ترجیعات پیسہ ، لڑکی ، گانا بجانا ، محل اور اسی کے پیچھے اپنی توانائیاں لگائی جارہی ہیں اور دنیاوی لالچ نے ہمیں دین سے دور کر دیا اس کا نقصان یہ ہوا کہ آج مسلمان ہی مسلمان کا قاتل ہے ۔سوڈان میں معصوموں کے خون اور مفادات کی جنگ
جہاں کبھی زمینیں نیل کے پانی سے سیراب ہوتی تھیں جہاں دنیا کا سب سے بڑا زرعی منصوبہ جزیرہ پروجیکٹ قائم تھا جسے Food Basket of Africa کہا جاتا تھا۔ آخر کس ان حکمرانوں اور جرنلیوں  نے سونے کے بدلے انسانیت بیچ دی اور سوڈان کے لوگوں کو زبح کر دیا آہ امت مسلمہ آہ ۔
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے
جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسرٰی خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہےوہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے