سعودی عرب کی پیروی کرنے والی مساجد میں جب رمضان کے آغاز یا عید کا اعلان ہوتا ہے تو کئی لوگ ذہنی طور پر مطمئن ہو جاتے ہیں

انجینئر بخت سید یوسفزئی –
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

رمضان المبارک اور عیدین کے مواقع وہ مقدس لمحات ہوتے ہیں جن میں دل عبادت، شکر اور خوشی سے معمور ہو جانا چاہیے، مگر ہمارے معاشرے میں ان بابرکت دنوں کے ساتھ ایک عجیب سی خاموش اداسی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ یہ اداسی کسی ذاتی غم یا محرومی کی نہیں بلکہ ایک اجتماعی دکھ کی علامت ہوتی ہے، جو ہر سال ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم ایک امت ہونے کے باوجود ایک فیصلہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

چاند نظر آنے کی خبر آتے ہی خوشی کی بجائے بحث، انتظار اور اختلاف کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کہیں مساجد میں تراویح کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں اور کہیں اب بھی لوگ اعلان کے منتظر ہوتے ہیں، جس سے عبادت کا آغاز بھی اضطراب اور بے یقینی کے سائے میں ہو جاتا ہے۔

کسی کے لیے رمضان کا پہلا روزہ آج ہوتا ہے اور کسی کے لیے اگلے دن، اور یہی کیفیت عید کے موقع پر بھی دہرائی جاتی ہے۔ ایک ہی شہر، ایک ہی محلے بلکہ بعض اوقات ایک ہی خاندان میں مختلف دن خوشیاں منائی جاتی ہیں، گویا ہم نے اتفاق کے بجائے تقسیم کو معمول بنا لیا ہو۔

سعودی عرب کی پیروی کرنے والی مساجد میں جب رمضان کے آغاز یا عید کا اعلان ہوتا ہے تو کئی لوگ ذہنی طور پر مطمئن ہو جاتے ہیں، جبکہ برطانیہ اور دیگر ممالک میں رویتِ ہلال کمیٹیاں بیٹھ کر چاند دیکھنے اور فیصلہ کرنے کا اعلان کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی آسمان کے نیچے عبادات کے دن مختلف ہو جاتے ہیں۔

یہ اختلاف بظاہر ایک عام سی بات لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ہماری اجتماعی سوچ کی کمزوری، باہمی اعتماد کے فقدان اور مشترکہ لائحۂ عمل نہ ہونے کی واضح علامت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ چاند کہاں نظر آیا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم ایک امت ہو کر ایک رائے پر کیوں نہیں آ پاتے۔

یہ صورتحال ایک پرانی مگر نہایت بامعنی حکایت کی یاد دلاتی ہے، جو آج بھی ہمارے اجتماعی رویّوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک گاؤں میں ایک میراثی کی دو بیٹیاں تھیں، ایک کی شادی کمہار کے گھر ہوئی اور دوسری کی کسان کے گھر۔

کچھ عرصے بعد وہ باپ اپنی بیٹیوں سے ملنے گیا تاکہ ان کے حالات معلوم کر سکے۔ سب سے پہلے وہ کسان کے گھر گیا جہاں اس کی بیٹی نے فکرمندی اور امید کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس سے بات کی۔

اس نے کہا کہ اس کے سسرال والے چاول کی کاشت کر رہے ہیں اور اب ان کی ساری محنت بارش پر منحصر ہے۔ اگر بارش ہو گئی تو فصل اچھی ہوگی، گھر میں خوشحالی آئے گی اور مجھے مبارک سمجھا جائے گا۔

اس بیٹی نے مزید کہا کہ اگر بارش نہ ہوئی تو فصل برباد ہو جائے گی اور سارا الزام مجھ پر آئے گا، اور یوں میرا گھر بسنے سے پہلے ہی اجڑ جائے گا۔ اس کی باتوں میں ایک خوف بھی تھا اور ایک امید بھی۔

اس کے بعد وہ باپ دوسری بیٹی کے پاس پہنچا، جو کمہار کے گھر بیاہی گئی تھی۔ اس نے بالکل مختلف انداز میں بات کی اور کہا کہ اس کے سسرال والوں نے بڑی محنت سے مٹی کے برتن تیار کیے ہیں۔

اس بیٹی نے کہا کہ اگر موسم صاف رہا اور بارش نہ ہوئی تو یہ برتن اچھی قیمت پر فروخت ہوں گے اور کاروبار چلے گا، مگر اگر بارش ہو گئی تو سارا مال خراب ہو جائے گا اور مجھے منحوس سمجھا جائے گا۔

یہ دونوں باتیں سن کر باپ کے دل پر بوجھ سا آ گیا۔ وہ خاموشی سے واپس گھر آ گیا اور آ کر چارپائی پر بیٹھ گیا، جہاں اس کے چہرے سے پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔

اس کی بیوی نے جب یہ کیفیت دیکھی تو پوچھا کہ بیٹیوں سے مل کر آئے ہو، دونوں خوش ہیں تو پھر تم اتنے فکرمند کیوں دکھائی دیتے ہو۔ اس سوال میں بھی حیرت تھی اور فکر بھی۔

باپ نے گہری سانس لی اور کہا کہ مجھے لگتا ہے ان دونوں میں سے ایک کا گھر ضرور اجڑے گا، کیونکہ ایک کے لیے بارش رحمت ہے اور دوسری کے لیے زحمت، اور قدرت ایک وقت میں دونوں کو خوش نہیں رکھ سکتی۔

یہ حکایت آج ہماری اجتماعی زندگی کی مکمل تصویر بن چکی ہے۔ ہم سب ایک ہی دین سے وابستہ ہیں، مگر ہمارے زاویے، ترجیحات اور مفادات ہمیں ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں۔

چاند ایک ہے، آسمان ایک ہے اور کلمہ بھی ایک، مگر دیکھنے کی آنکھیں اور سوچنے کے انداز مختلف ہیں۔ اسی فرق کی وجہ سے عبادت کے دن بھی ہمیں یکجا نہیں کر پاتے۔

یہ مسئلہ محض چاند دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ، برداشت اور باہمی اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب ہم ایک واضح فطری معاملے پر متفق نہیں ہو سکتے تو بڑے قومی اور اجتماعی مسائل میں اتحاد کیسے ممکن ہوگا۔

فرقہ واریت نے ہمارے درمیان ایسی دیواریں کھڑی کر دی ہیں جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ دلوں اور ذہنوں تک پھیل چکی ہیں۔ ہم نے دین کو آسانی کے بجائے بحث اور اختلاف کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

حالانکہ دین ہمیں کردار، اخلاق اور عمل کی بنیاد پر پرکھتا ہے، نہ کہ فرقے یا مسلک کی بنیاد پر۔ مگر افسوس کہ ہم نے اس سادہ اور جامع پیغام کو نظرانداز کر دیا ہے۔

دنیا علم، تحقیق اور ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل چکی ہے۔ انسان خلا کی وسعتوں میں نئی دنیاؤں کی تلاش میں مصروف ہے، جبکہ ہم آج بھی بنیادی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔

اس تقسیم کا سب سے زیادہ اثر بیرونِ ملک رہنے والے مسلمانوں پر پڑتا ہے، جہاں ایک ہی شہر میں رہنے والے مسلمان مختلف دن عید مناتے ہیں اور نئی نسل کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں۔

بچے اور نوجوان پوچھتے ہیں کہ جب ہمارا خدا، ہمارا قرآن اور ہمارے نبی ایک ہیں تو ہماری عیدیں الگ الگ کیوں ہیں۔ اس سوال کا جواب نہ ملنا ان کے دلوں میں الجھن اور دوری پیدا کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ چاند کا نہیں بلکہ دلوں کا ہے۔ اگر دل قریب ہوں تو راستے خود نکل آتے ہیں، اور اگر دل دور ہوں تو ایک ہی آسمان پر چمکتا چاند بھی ہمیں ایک نہیں کر سکتا۔

ہمیں اختلاف کو دشمنی بنانے کے بجائے برداشت، احترام اور وسعتِ نظر کو اپنانا ہوگا۔ اپنی رائے پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے مؤقف کو عزت دینا ہی اصل شعور اور دین کی روح ہے۔

دعا یہی ہے کہ وہ دن ضرور آئے جب ہم ایک ہی چاند دیکھ کر ایک ساتھ خوشی منائیں، ایک دوسرے کو گلے لگائیں اور یہ محسوس کریں کہ ہم واقعی ایک امت ہیں، نہ کہ بکھری ہوئی جماعتیں۔