…سخت قوانین ضروری تو ہیں مگر

کسی بھی ملک کی بنیاد قانون پر ہوتی ہے۔ ریاست اگر اپنے شہریوں کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر قوانین نہ بنائے تو نہ امن قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جہاں قانون کو کمزور سمجھا نہ جائے، جہاں نظم و ضبط اجتماعی زندگی کا حصہ ہو اور جہاں شہری جانتے ہوں کہ حدود و قیود کے بغیر آزادی محض انتشار کو جنم دیتی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات درست ہے کہ عوام کو درست سمت میں رکھنے اور ریاستی نظام کو چلانے کے لیے سخت قوانین ناگزیر ہوتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ایک“مگر”بھی جڑا ہوا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

قوانین کی سختی اس وقت فائدہ مند ہوتی ہے جب وہ قابلِ عمل ہوں اور عوام انہیں سمجھنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگر ایک قانون معاشرے کی زمینی حقیقتوں سے کٹا ہوا ہو، عوامی حالات، معاشی مسائل اور تعلیمی سطح کو نظر انداز کر کے نافذ کر دیا جائے تو وہ اصلاح کے بجائے بے چینی اور ردِعمل کو جنم دیتا ہے۔ قانون کا اصل مقصد محض سزا دینا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور شہری کو ذمہ دار بنانا ہے۔ جب قانون صرف خوف کی علامت بن جائے تو وہ وقتی طور پر نظم تو قائم کر دیتا ہے، مگر دیرپا بہتری پیدا نہیں کر پاتا۔

ایک مہذب ریاست کی پہچان یہ بھی ہے کہ وہاں قانون امیر اور غریب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہے۔ جب غریب معمولی غلطی پر ذلیل و خوار ہوتا ہے اور بااثر شخص سنگین جرم کے باوجود بچ نکلتا ہے تو قانون کی ساکھ مجروح ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں عوام قانون سے ڈرنا تو سیکھ لیتے ہیں، اس کا احترام نہیں کر پاتے۔ حالانکہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں، کیونکہ مساوی نفاذ کے بغیر سخت ترین قانون بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔

اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عوام کے ساتھ رویہ بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ قانون کی سختی اگر بدتمیزی، تحقیر اور طاقت کے بے جا استعمال کے ساتھ نافذ کی جائے تو عوام کے دلوں میں نفرت جنم لیتی ہے۔ پولیس، انتظامیہ اور دیگر ادارے ریاست کا چہرہ ہوتے ہیں؛ اگر یہ چہرہ سخت، بے رحم اور غیر منصفانہ ہو تو شہری ریاست کو اپنا محافظ نہیں بلکہ مخالف سمجھنے لگتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں کا فرض ہے کہ وہ قانون پر عمل کرواتے وقت وقار، اخلاق اور ہمدردی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، کیونکہ شائستگی کے ساتھ کی گئی کارروائی زیادہ مؤثر اور دیرپا ہوتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں قوانین واقعی سخت ہوتے ہیں، مگر وہاں عوام کو پہلے شعور دیا جاتا ہے، سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور قانون کی منطق سمجھائی جاتی ہے۔ ٹریفک قوانین ہوں، ٹیکس نظام ہو یا شہری نظم و ضبط، ریاست پہلے شہری کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ قانون پر عمل کر سکے۔ اس کے بعد اگر کوئی دانستہ خلاف ورزی کرے تو قانون پوری قوت سے حرکت میں آتا ہے۔ یہی توازن قانون کو بوجھ نہیں بلکہ اجتماعی ضرورت بنا دیتا ہے۔

لہٰذا اصل مسئلہ سخت قوانین کا نہیں بلکہ ان کے نفاذ کے طریقے کا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرے، سہولت فراہم کرے، امیر و غریب میں فرق کیے بغیر قانون نافذ کرے اور قانون نافذ کرنے والوں کو عوام دوست رویہ اپنانے کی تربیت دے۔ سختی اگر انصاف، مساوات اور ہمدردی کے ساتھ ہو تو معاشرہ سنور جاتا ہے، لیکن اگر سختی ناانصافی اور تحقیر میں بدل جائے تو قانون اپنی روح کھو بیٹھتا ہے۔ کامیاب ریاست وہی ہے جہاں قانون مضبوط بھی ہو اور عوام کے لیے قابلِ قبول بھی، کیونکہ اصل قانون وہی ہوتا ہے جسے لوگ دل سے مانیں، محض خوف سے نہ اپنائیں۔

ضیاء الرحمن ضیاءؔ