تحریر:- حماد چوہدری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج دل بہت بوجھل ہے۔ خبر سن کر دل لرز گیا کہ انسان کس حد تک گر سکتا ہے۔ چند دن پہلے یہ خبر سامنے آئی کہ ایک شخص قبرستان میں نئی قبروں کو کھول کر میت کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت کرتا رہا۔ پولیس نے جب گرفتار کیا تو اس نے اعتراف کیا کہ وہ اس مکروہ فعل کا کئی بار ارتکاب کر چکا ہے۔ اسی طرح حال ہی میں راولپنڈی، گرجا روڈ پر سات سالہ بچی کی قبر کھلی ہوئی ملی، کفن باہر پڑا تھا اور اینٹیں بکھری پڑی تھیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ کس معاشرے میں ہو رہا ہے؟ کیا یہ وہی امت ہے جس کے بارے میں ہمارے پیارے نبی ﷺ نے رب کے حضور رو رو کر مغفرت مانگی؟ہم مسلمان کہتے ہیں کہ اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے، مگر ہم رزق کے پیچھے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ لیکن مغفرت کا وعدہ نہیں ہے، اس کے لیے محنت اور دعا کرنی پڑتی ہے۔ افسوس کہ آج ہم میں سے زیادہ تر کو اس کی پرواہ ہی نہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اور قیامت ضرور آنی ہے۔ اُس وقت ہم کس منہ سے اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے؟آج کل زلزلے، سیلاب، کلاؤڈ برسٹ اور تباہ کن بارشیں بار بار ہمیں جھنجھوڑ رہی ہیں۔ بنوں، سوات، لاہور، سیالکوٹ اور ملک کے مختلف علاقے برباد ہو گئے۔ کیا یہ اللہ کی طرف سے تنبیہ نہیں؟ کیا ہم بھول گئے کہ قرآن نے پچھلی قوموں کی تباہی کی داستانیں کیوں سنائیں؟
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
“اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگ برائیوں میں لگ جاتے ہیں، پھر وہ بستی پر عذاب کا حکم صادر ہو جاتا ہے اور ہم اسے تباہ کر ڈالتے ہیں۔”
(سورۃ بنی اسرائیل، 17:16)
آج ہم اپنے بچوں کو صرف دنیاوی تعلیم کی دوڑ میں ڈال رہے ہیں۔ انگریزی میڈیم اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں لیکن قرآن کی زبان، قرآن کا پیغام سمجھانے کی فکر نہیں۔ مدارس میں بچے قرآن حفظ کر رہے ہیں لیکن ترجمہ اور مفہوم سے ناواقف ہیں۔ کیا یہ قرآن کا اصل مقصد ہے؟ نہیں! قرآن ہدایت کی کتاب ہے، جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔
ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔”
(صحیح بخاری)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن صرف پڑھنے یا یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کے لیے ہے۔
یہاں مجھے علامہ اقبالؒ کا شعر یاد آتا ہے:
؎ وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
آج ہم نے قرآن کو صرف قبروں پر پڑھنے تک محدود کر دیا ہے۔ مگر اس کی اصل ہدایت، اصل پیغام کو بھلا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا رہی۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں گمراہی اور تباہی سے بچیں، تو لازمی ہے کہ حکومت اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک قرآن کو ترجمے کے ساتھ لازمی مضمون بنائے۔ ہر مسلمان بچے کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ اس کا رب اس سے کیا فرما رہا ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہماری مغفرت اور کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں۔ اپنی اولاد کو قرآن کے ساتھ جوڑیں، صرف حفظ نہیں بلکہ ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ۔ اپنی زندگیوں میں قرآن کو داخل کریں۔ یہی وہ روشنی ہے جو ہمیں ظلمت سے نکال کر کامیابی کی طرف لے جائے گی۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اللہ کے احکامات سے منہ موڑ لیتی ہیں، وہ ہمیشہ تباہ ہو جاتی ہیں
کلرسیداں(یاسر ملک)چوہدری طارق محمود نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ چند…
پنجاب میں حالیہ سیلاب نے ایک بار پھر ملک کی پانی اور انتظامی صورتحال کی…
کلرسیداں چوک پنڈوڑی کے نواحی گاؤں چونترہ سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے جوان…
راولپنڈی(اویس الحق سے)انتہائی مصروف شاہراہ ایوب نیشنل پارک کے قریب ایک گاڑی جیسے ایک خاتون…
اسلام آباد(اویس الحق سے)ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ…
راولپنڈی(اویس الحق سے)پنجاب کے تین بڑے دریا اس وقت سپر فلڈ کی لپیٹ میں ہیں…