جمہوریت ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس کی بنیاد عوام کے اختیار، مساوات اور آزادی پر رکھی جاتی ہے۔ اس میں ہر شہری کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرے اور ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو۔ بانیانِ جمہوریت نے اسے انسانی شرافت اور اجتماعی شعور کی علامت قرار دیا تھا۔ مگر آج جب ہم دنیا کے کئی جمہوری ملکوں کی حالت دیکھتے ہیں، تو جمہوریت کی آنکھوں میں آنسو صاف نظر آتے ہیں۔ طاقتور طبقے کا قبضہ، کرپشن، اقرباپروری اور ناانصافی نے جمہوریت کے چہرے کو دھندلا کر دیا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جو کبھی عوامی خوشحالی کا ضامن تھا، مگر اب عوامی مایوسی کا استعارہ بن چکا ہے۔
اگر ہم برصغیر کی مثال لیں تو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک جمہوریت کے نام پر وجود میں آئے، مگر آج ان میں جمہوری روح کہیں کھو چکی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت اکثر سیاسی جوڑ توڑ، ذاتی مفادات اور اقتدار کی رسہ کشی کی نذر ہو جاتی ہے۔ عوام کے ووٹ کو عزت دینے کے نعرے لگائے جاتے ہیں مگر اقتدار حاصل کرنے کے بعد عوامی مسائل پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ بھارت میں جمہوریت کے پردے کے پیچھے فرقہ واریت اور سیاسی انتہاپسندی سر اٹھا چکی ہے۔ وہاں اقلیتوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، اور میڈیا و عدلیہ پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی ایک ہی پارٹی کی اجارہ داری نے جمہوریت کو کمزور کر دیا ہے۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی عکاس ہیں کہ جمہوریت صرف نام کی رہ گئی ہے، روحانی طور پر وہ زخم خوردہ ہے۔
روتی ہوئی جمہوریت کی ایک بڑی علامت آزاد میڈیا کی غیر موجودگی ہے۔ نظری طور پر میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، لیکن حقیقت میں اکثر ممالک میں یہ ستون یا تو کمزور ہے یا پھر طاقتور طبقے کے ہاتھوں میں قید ہے۔ پاکستان میں حق گو صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں، چینلز بند کیے جاتے ہیں اور سچ بولنے پر مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ بھارت میں بھی میڈیا کا ایک بڑا حصہ حکومت کی تعریف میں مصروف ہے جبکہ عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا، جو کبھی عوامی آواز کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اب نفرت انگیزی، غلط معلومات اور پروپیگنڈا کا گڑھ بن چکا ہے۔ جب سچ دبایا جائے تو جمہوریت کی سانس رکنے لگتی ہے۔
اداروں کا غیر متوازن کردار بھی جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ جب عدلیہ، مقننہ، اور انتظامیہ اپنے دائرے سے تجاوز کرتی ہیں، تو ریاست میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ ترکی میں فوجی بغاوتوں نے جمہوریت کو کئی بار کمزور کیا، مصر میں عوامی مینڈیٹ رکھنے والے صدر کو چند دنوں میں ہٹا دیا گیا۔ پاکستان میں بھی سیاسی حکومتوں اور غیر منتخب طاقتوں کے درمیان کشمکش نے جمہوریت کو ہمیشہ کمزور رکھا۔ جمہوریت کا اصل حسن اداروں کے توازن میں ہے۔ جب کوئی ادارہ اپنے حدود سے نکلتا ہے تو نظام بکھر جاتا ہے اور عوام مایوس ہو جاتے ہیں۔
روتی ہوئی جمہوریت کا سب سے بڑا نقصان عوامی شعور اور اعتماد کا خاتمہ ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ان کے ووٹ سے کوئی تبدیلی نہیں آتی، انصاف صرف طاقتوروں کے لیے ہے، اور قانون صرف کمزوروں پر لاگو ہوتا ہے، تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی مایوسی انہیں انتہاپسندی، خودغرضی، یا بے حسی کی طرف لے جاتی ہے۔ نتیجتاً معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جمہوریت کی بقا صرف قانون سازی یا انتخابات سے نہیں، بلکہ عوامی اعتماد سے ہوتی ہے، اور جب وہ ختم ہو جائے تو نظام خود بخود خالی ڈھانچہ بن جاتا ہے۔
حالیہ سیاسی حالات اور انتخابی نتائج نے ان شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے۔ جب قوم ایک انتخابی معرکے کے بعد یہ سوال کرے کہ “کون جیتا اور کون ہارا؟” تو اس کا مطلب ہے کہ جمہوریت اپنے اصل روح سے کوسوں دور ہے۔ ایک جانب ظہران ممدانی جیسے قابل اور ذہین نوجوان ملک میں موجود ہیں، جو اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود، الیکشن کمیشن جیسے اداروں کے نظام یا فیصلوں کی وجہ سے شاید آگے نہ آ سکیں۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) جیسے اہم آئینی ادارے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں کہ وہ کس حد تک آزاد اور خودمختار ہے۔ جیسا کہ حامد میر صاحب اپنے کالم کے اقتباس میں اشارہ کرتے ہیں، پاکستان میں بہت سے قابل نوجوان ہیں، لیکن کیا انہیں آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے؟
حامد میر کے کالم کا یہ اقتباس، جس میں انہوں نے ظہران ممدانی کا ذکر کیا، اس اجتماعی مایوسی کا آئینہ دار ہے جو ملک کے نوجوانوں اور شہریوں میں پائی جاتی ہے۔ ان کا یہ سوال کہ “اگر ظہران ممدانی جیسا کوئی نوجوان، شہر میں میئر کے الیکشن میں کھڑا ہو بھی جائے اور ووٹروں کی بڑی اکثریت اسے ووٹ بھی دے تو الیکشن کا نتیجہ اس کے حق میں نہیں آئے گا، وجہ آپ کو بھی اچھی طرح معلوم ہے،” الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور بالخصوص فارم 47 جیسے دستاویزات کی شفافیت پر ایک گہرا طنز ہے۔ جب الیکشن کا فیصلہ بیلٹ بکس کے بجائے کسی اور میز پر ہوتا محسوس ہو تو جمہوریت کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ جاتا ہے۔
فارم 47 کا ذکر خاص طور پر اہم ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کا کام ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہے، وہ خود بدنامی کا شکار ہو جائے تو یہ جمہوریت کے لیے ایک سانحہ ہے۔ الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے، مگر اسے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ صرف قانون کی کتابوں میں آزاد نہیں، بلکہ عملی طور پر بھی ہر طرح کے دباؤ سے پاک ہے۔ ملک کو حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے، اور یہ تبدیلی صرف اسی صورت میں آ سکتی ہے جب قابل اور ایماندار لوگ، جن میں ظہران مدانی جیسے نوجوان شامل ہیں، بلاخوف و خطر انتخابی عمل کا حصہ بن سکیں اور ان کے ووٹ کی طاقت کو تسلیم کیا جائے۔
یہ وقت ہے کہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول سیاسی جماعتیں، عدلیہ اور سب سے بڑھ کر الیکشن کمیشن، اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ اگر جمہوری عمل صرف ایک رسم بن کر رہ جائے اور نتائج پہلے سے طے شدہ ہوں تو یہ ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا۔ پاکستان کو روتی ہوئی جمہوریت نہیں، بلکہ ایک ایسی مضبوط جمہوری بنیاد چاہیے جہاں ہر شہری کا ووٹ مقدس ہو اور ہر ظہران مدانی کو آگے بڑھنے کا پورا حق ملے۔ بصورت دیگر، یہ ‘روتی ہوئی جمہوریت’ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔