روات تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا کام تعطل کا شکار

این اے 59 وہ خوش قسمت حلقہ ہے کہ یہاں سے جو بھی نمائندہ منتخب کیا جاتا ہے اسکا ملک کی بھاگ دوڑ میں کلیدی کردار رہا ہے یعنی اس حلقے نے یہاں سے بہت سے لوگوں کو کامیاب کروا کے انکی قسمت بدلی ہے مگر بدقسمتی اس کو بولیں یا پھر اس پر حکمرانی کرنے والے حکمرانوں کی بے حسی کہ اس حلقہ کی اپنی قسمت نہیں بدل سکی اس حلقہ کو چند بڑی اور بنیادی سہولیات سے ہمیشہ محروم رکھا گیا ہے آج ہم ذکر کریں گے چند بنیادی سہولیات کا اور موازنہ کریں گے انکا ماضی میں ان پر کیا کام ہوا اور تحریک انصاف کے قیام کے تین سال گذر گئے وہ ان پر کیا کر رہی ہے جن میں بنیادی ضرورت اور حق تعلیم ہے مگر بدقسمتی سے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اس حلقے میں خاص طور پر اس کے مضافاتی علاقوں میں آج بھی کوئی یونیورسٹی اور کالج موجود نہیں ہے جسکی وجہ سے یہاں کے طلباء و طالبات کو دور دراز شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سی بچیاں جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن کالج یا یونیورسٹی نہ ہونے کے سبب یہ لوگ تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہوجاتی ہیں اور آگے نہیں پڑھ سکتی یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہے دوسری بڑی بنیادی ضرورت اتنے بڑے آبادی والے حلقے کے لیے کوئی بڑا ہسپتال موجود نہیں ہے کہ جہاں سے یہاں کے باسی اپنا علاج معالجہ کروا سکے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی مریض بیمار ہوتا ہے تو اسکو اٹھا کر شہر کے ہسپتالوں میں لایا جاتا ہے جس کے سبب اکثر مریض فوری طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے راستے میں ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں مگر ماضی میں اس حلقے پر حکمرانی کرنے والوں نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہ دی کہ لوگوں کو یہ بنیادی سہولت مل سکے لیکن چوہدری نثار علی خان نے بطور وزیر داخلہ اپنے آخری دور اقتدار میں ایک بڑا ہسپتال منظور کروایا روات کے مقام پر مگر ان کی شکست کے بعد اس ہسپتال میں کام بھی سست روی کا شکار ہوگیا ہے جو تاحال مکمل نہیں ہوسکا اگر یہ ہسپتال بروقت مکمل ہوجاتا یا اب بھی ہوجائے تو یہاں کے باسیوں کو خاص طور پر ارد گرد کی آبادیوں کو اس سے بہت سہولت ہوگی تیسری بڑی اور بنیادی ضرورت صاف پانی کی ہے جس پر ماضی میں اس حلقے کے شہری علاقوں میں واٹر سپلائی سکیم کا قیام بھی عمل میں لایا گیا راجہ بشارت جو موجودہ صوبائی وزیر قانون ہیں ماضی میں جب وہ صوبائی وزیر تھے تو انھوں نے اس پروجیکٹ پر کام کیا اس کے بعد مسلم لیگ(ن) کے دور حکومت میں چوہدری نثار علی خان نے اس پر کام کیا اور کروڑوں روپوں کی خطیر لاگت سے واٹر سپلائی سکیم کا قیام عمل میں لایا گیا مگر اسکو متعلقہ محکموں کی نااہلی بولیں یا پھر یہاں کی عوام کی قسمت کے اتنے بڑے پروجیکٹ سے جس پر کروڑوں روپے کا فنڈ لگا پائپ بھی ڈالے گئے لوگوں کو کنکشن بھی لگا کر دیئے گئے اس کے باوجود یہاں کے باسیوں کو پانی کی بوند تک نہ مل سکی اور جن علاقوں میں پانی آتا تھا وہ بھی اب گزشتہ کئی ماہ سے نہیں آرہا اور مزے کی بات یہ کے پانی تونہیں مل رہا لیکن واسا والوں کی طرف سے بل متواتر آرہے ہیں اب ماضی کے بعد اگر تحریک انصاف کی حکومت کا ان سے تقابلی جائزہ لیں اور دیکھیں تو یہاں سے منتخب ہونے والے ایم این اے جو وفاقی وزیر غلام سرور خان ہیں انھوں نے اس حلقے کی طرف توجہ دیتے ہوئے ان بنیادی سہولیات کی فراہمی کی طرف توجہ دینے کی کوشش کی ہے جس پر تعلیم کی طرف توجہ دیتے ہوئے انھوں نے جھٹہ ہتھیال میں گرلز ڈگری کالج کی منظوری کروائی ہے جسکا باقاعدہ سنگ بنیاد جلد رکھے جانے کا امکان ہے اگر یہ کالج پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا تو اس سے یہاں کی طالبات کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ وہ بچیاں جو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں کیونکہ کالج
نزدیک نہیں ہوتا اور والدین ان کو دور دراز بھیج نہیں سکتے وہ بھی اب تعلیم جیسی نعمت حاصل کر سکیں گی اس کے علاوہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے جسکا وعدہ اپنی انتخابی مہم میں بھی کیا تھا اور متعدد بار اپنے جلسوں اور میٹنگز میں بھی کر چکے ہیں کہ وہ این اے 59 میں پوٹھوہار یونیورسٹی کا قیام عمل میں لائے گے اگر یہ وعدہ پورا کر دیں تو یقینی طور پر یہاں کے بچوں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں ہوسکتا اس ڈائری کے توسط سے ان کو انکا یہ وعدہ بھی یاد دلاتے چلیں کہ خان صاحب گو کہ آپکی حکومت کو تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے اب اس میگا پروجیکٹ کی طرف توجہ دیں تاکہ یہاں کے بچے بھی تعلیم کے میدان میں اپنا اور اس ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں وفاقی وزیر غلام سرور خان نے منتخب ہونے کے بعد جو دوسرا بڑا مسئلہ جسکا ذکر کیا کہ یہاں کوئی بڑا ہسپتال موجودنہیں ہے جس پر انھوں نے توجہ دی اور چک بیلی خان روڈ جوڑیاں کے مقام پر 50 کروڑ کی لاگت سے ایک میگا ہسپتال کے قیام کا سنگ بنیاد رکھا جس پر کام تیزی سے جاری ہے جسکے قیام کے بعد یہاں کے باسیوں کو صحت جیسی بنیادی سہولت انکی دہلیز پر میسر ہوگی اور انکو شہر کے بڑے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا اور بہت سے مریض جو اپنی زندگی کی جنگ اس وجہ سے ہار جاتے تھے کہ انکو بروقت طبی سہولیات نہیں ملتی تھیں جن سے انکی جان بچائی جاسکتی ہے اور اس کے قیام سے شہر کے بڑے ہسپتالوں میں بھی مریضوں کا رش کم ہوگا تیسری بڑی بنیادی ضرورت پانی کو دیکھیں تو ماضی کے دور حکومت میں قائم واٹر سپلائی سکیم پر شروع کے چند سال انھوں نے رونا دھونا ہی رکھا کہ یہ سارا پروجیکٹ ماضی کے حکمرانوں کی ناقص حکمت عملی کے سبب بند پڑا ہے انھوں نے اتنے پیسے برباد کئے لیکن اب وفاقی وزیر غلام سرور خان اور ایم پی اے واثق قیوم عباسی نے ذاتی دلچسپی دکھاتے ہوئے اڈیالہ روڈ کی عوام کے لیے 42 کروڑ کی لاگت سے کہکشاں واٹر سپلائی سکیم کا قیام عمل میں لایا جس پر کام جاری ہے جس کے لیے باقاعدہ کنویں گھورگھپور کے مقام پر تیار کئے گئے ہیں جہاں سے پانی اڈیالہ روڈ کی آبادی جس میں دھاماں سیداں اور کلیال شامل ہیں کو سپلائی کیا جائے گا اب اللہ کرے کہ یہاں کے باسیوں کو صاف ستھرا پینے کا پانی میسر ہوسکے اب بھی تحریک انصاف کی حکومت کے دو سال باقی ہیں اور امید یہی کرتے ہیں جو پروجیکٹ اس دور حکومت میں شروع ہوئے وہ پایہ تکمیل تک پہنچیں گے۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

اپنا تبصرہ بھیجیں