رمضان کی نورانی ساعتیں اور دروسِ قرآن کی فکری و روحانی محفلیں

تحریر: حاجی محمد رفیق قادری

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں حسن ابدال کی سرزمین ایک بار پھر علم و عرفان کی روشنی سے جگمگا اٹھی، جب تحریک منہاج القرآن کے زیرِ اہتمام سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تین روزہ دروسِ قرآن کی تربیتی و اصلاحی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان محافل کا بنیادی مقصد عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عوام الناس کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی رہنمائی کرنا تھا۔
ان دروس کے لیے نہایت اہم اور فکرانگیز موضوعات کا انتخاب کیا گیا، جن میں “علمِ دین انسان کی حقیقی ضرورت ہے”، “خاندانی استحکام میں زوجین کا کردار” اور “اخلاقِ نبوی ﷺ اور عہدِ حاضر کے تقاضے” شامل تھے۔ ان موضوعات پر روشنی ڈالنے کے لیے ممتاز علمی شخصیات، علامہ مفتی عبدالرشید تبسم، علامہ عبدالواحد یمنی اور پروفیسر شیر محمد خان قادری کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے اپنے بصیرت افروز خطابات سے حاضرین کے قلوب کو منور کیا۔
یہ روح پرور تقریبات بعد نمازِ فجر جامعہ مسجد الحسنین کریمین، محلہ محمود آباد حسن ابدال میں منعقد ہوئیں، جہاں عوام الناس کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور معزز شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ان میں استاد العلماء علامہ حفیظ الرحمن عابد الازہری، صدر سنی علماء کونسل علامہ محمد اویس ہزاروی، خطیب مرکزی جامع مسجد علامہ خلیل احمد رضوی، نائب صدر منہاج علماء کونسل اٹک علامہ مفتی سید دلدار حسین شاہ، پیر سید عبدالقادر شاہ گیلانی، علامہ محمد امیر اعوان، سینئر وکیل وقار عالم جدون، علامہ اورنگزیب علی قادری ایڈووکیٹ، علامہ محمد الطاف نقشبندی، حافظ محمد فیاض، پرنسپل ہائی سکول ہاؤسنگ کالونی امجد علی اعوان، سابق میڈیکل آفیسر ٹی ایچ کیو ڈاکٹر اشتیاق حسین، اور سیرت کمیٹی کے سابق عہدیداران حاجی فاروق احمد اور حاجی عبدالحمید مغل سمیت دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔
تقریبات کی سرپرستی خطیب جامع مسجد ہزا، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحیم مغل نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض صاحبزادہ محمد رضا طاہر نے احسن انداز میں انجام دیے۔
پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مفتی عبدالرشید تبسم نے علمِ دین کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ علم جو دل میں اتر جائے، انسان کے لیے نفع بخش ثابت ہوتا ہے، جبکہ محض زبان تک محدود علم بے اثر رہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے علم سے پناہ مانگنی چاہیے جو انسان میں تکبر پیدا کرے۔ انہوں نے احادیثِ نبوی ﷺ کے حوالے سے بتایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے، اور علم کا حصول ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔
انہوں نے علماء کے درجات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک طبقہ صوفیاء کا ہے، جنہیں باطنی و روحانی علوم سے نوازا جاتا ہے؛ دوسرا وہ ہے جن کا علم مذہبی دائرے تک محدود رہتا ہے؛ جبکہ تیسرا وہ اہلِ علم ہیں جو قدیم و جدید علوم پر یکساں دسترس رکھتے ہوئے ظاہر و باطن کے امتزاج سے معاشرے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں قائد تحریک منہاج القرآن پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری مسلم اُمہ کے لیے ایک عظیم نعمت ہیں، جنہوں نے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اخلاقِ نبوی ﷺ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان اوصاف کو اپنایا جائے تو معاشرہ امن و محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف کر کے رہتی دنیا تک عفو و درگزر کی اعلیٰ مثال قائم کی اور عرب معاشرے کو نفرتوں سے نکال کر اخوت و محبت کی لڑی میں پرو دیا۔
دوسری نشست میں علامہ عبدالواحد یمنی نے “خاندانی استحکام میں زوجین کا کردار” پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت سے بندوں کو ان کی کوتاہیوں کے باوجود قبول فرماتا ہے، اسی طرح میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے کی کمزوریوں کو برداشت کرتے ہوئے محبت اور درگزر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے نکاح کو اللہ تعالیٰ کی نشانی قرار دیتے ہوئے اس رشتے کی نزاکت اور اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں انبیاء کرام علیہم السلام کی ازواج کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کی بیویوں، فرعون کی زوجہ حضرت آسیہؑ، اور حضرت ابراہیمؑ و حضرت سارہؑ کی مبارک زندگیوں سے مثالیں پیش کیں اور نہایت خوبصورتی کے ساتھ اپنے موضوع کو سمیٹا۔
یہ تین روزہ دروسِ قرآن نہ صرف علمی و فکری رہنمائی کا ذریعہ بنے بلکہ روحانی بالیدگی، اخلاقی اصلاح اور معاشرتی استحکام کی ایک روشن مثال بھی ثابت ہوئے۔ رمضان المبارک کی ان نورانی محفلوں نے شرکاء کے دلوں میں علمِ دین کی محبت اور سیرتِ مصطفی ﷺ کی پیروی کا جذبہ مزید تازہ کر دیا۔ان محافل میں سکالرز کی بروقت شرکت کو یقینی بنانے میں تنظیمی عہدے داران محمد رمضان طاہر ارشد نواز ملک شاکر زمان رفیق منہاج اور ان کے ساتھیوں نےاہم کردار ادا کیا۔جو کہ قابل صد ستائش تھا۔
حاجی محمد رفیق قادری
حسن ابدال۔
0313.5751398.