رسومات کا نام دین نہیں

کسی بھی معاشرے میں رسم ورواج کواجتماعی اورا نفرادی طورپر ایک اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ تہذیب و ثقافت اخلاق و کردار عادات وخیالات معاشرتی وسماجی ذہنی وفکری طورپر انسان کے خیالات پراسکے گہرے نقوش مزین ہوتے ہیں یہ رسومات مختلف اسباب کا نتیجہ ہوتی ہیں ان اسباب میں علاقائی جغرافیائی کیفیت کاعمل دخل بھی ہوتاہے لیکن ان رسومات کو جب مذہب کا حصہ بنادیا جائے فرائض واجبات سنن پر ترجیح دی جانے لگے تو پھر اس وقت اس پر بات کرنا لوگوں کی اصلاح کرناہر شخص کی اجتماعی وانفرادی ذمہ داری ہے جورسمیں اسلامی مزاج سے ہم آہنگ نہیں اورانسانی معاشرے کیلئے مضرہیں۔ اسلام کبھی بھی انکی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ حوصلہ شکنی کرتاہے جو رسومات اسلام کے مقابل آجائیں یاجو رسومات معاشرے میں عام آدمی کی زندگی میں مشکلات پیدا کریں۔ غرباء فقراء مساکین پربوجھ بن جائیں تو اس صورتحال میں ان رسومات کے رد کرنے میں اس بوجھ کو کم کرنے میں ہر شخص کواپنا کردار اداء کرناچاہیے۔ اسلام نے خالص دین بیان کیا ہے اسے مکمل بھی قرار دیاہے جو رسومات اور خرافات سے بالکل پاک صاف وشفاف ہے جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے آج کے دن دین مکمل ہو گیا دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے ایک اور مقام پر فرمایا اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتاہے اور نبی کریم روف الرحیمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرو اسی وجہ سے اسلام نے ایسے تمام کام تمام رسومات کی حوصلہ شکنی کی ہے جوانسانوں کیلئے تکلیف کا سبب بنیں۔
نبی کریم روف الرحیم ﷺنے بھی اپنے فرمان مبارک سے کمزور لوگوں سے تعاون کرنے ان سے صلہ رحمی اور ان سے حسن سلوک کرتے ہوئے ان کی مالی مدد کرنے کی ترغیب دی ناکہ ان کو مالی طور پر مزید کمزور کرنا۔پھر اسلام کے نام پر جن رسومات کو اداء کیاجاتاہے اس میں اسلامی احکام کی بجائے
معاشرے میں اپنی ناک اونچی رکھنے میں ترجیح دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کی خوشی و غمی کے مواقع کو ہی دیکھ لیاجائے جیساکہ شادی کے موقع پر وہ وہ رسمیں ادا کی جاتی ہے ہیں جو ناصرف فضول خرچی میں شامل ہیں بلکہ بہت ساری تو ایسی ہیں جو غیر قوموں کو دیکھا دیکھی شروع کی گئیں ہیں جیساکہ مہندی کی رسم‘ناچ گانا بھنگڑے ڈالنا‘ فائرنگ کرنا‘آتش بازی کرنا‘خواتین کی تصاویر اپنے پرائے کے کیمروں میں محفوظ کرنا اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر انتظامات کرنا‘ان سب کاموں کیلئے قرض اٹھانا پھر اس قرض کے بوجھ کو اتارنے کیلئے ایک لمبے عرصہ تک پریشانی سے دوچار ہونا‘ایسے ہی اگر فوتگی والے گھر کی صورتحال دیکھ لی جائے تو اس موقع پر بھی ایسی رسومات اپنی جگہ بنا چکی ہیں جن کا اسلام کے ساتھ نبی اکرم شفیع اعظمﷺ کی تعلیمات سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی کیساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں‘حضور اکرم شفیع اعظمﷺ کی تعلیمات میں اور اصحاب الرسولﷺ کی عملی زندگی میں کوئی نمونہ ہمیں نہیں ملتا اور اس موت کے موقع پر غمزدہ خاندان کو مزید دکھی کیاجاتاہے ان پر مالی بوجھ مزید بڑھایا جاتاہے جو اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔ مثال کے طور پر اسلام کہتاہے جب کسی کے ہاں فوتگی ہو جائے تو ان کوصبرکی تلقین کی کیساتھ ساتھ ان کے قیام وطعام کابندوبست کیاجائے کیونکہ وہ اس وقت صدمہ سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ آس پاس کے لوگوں کو چاہیے ان غمزدہ خاندان کی فکر کریں دیکھ بھال کریں۔ ان کا اکرام کریں لیکن یہاں تو قبرستان میں میت سامنے رکھ کر وہی غمزدہ خاندان اعلان کرنے پرمجبور ہوتاہے کہ سب حضرات کے کھانے کابندوبست ہے کھاناکھاکہ جائیں۔ اسی دن جس میت کے گھر جنازہ اٹھایاجاتاہے وہاں کھانے کا اہتمام کیاجاتاایک محفل سجی ہوتی ہے لوگ دنیاکی باتوں میں اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ ان کی ہنسی خوشی دیکھ کر گپ شپ دیکھ کر کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ غم بانٹنے آئے ہیں
پھر تیجا چالیسواں کے نام پر بھی خوب محافل سجائی جاتی ہیں یہاں یتیم مساکین بیوہ سب کو نظر انداز کردیا جاتاہے۔ انہوں نے بھی یہ اہتمام کرناہے یعنی جن یتیم مساکین فقراء پر خرچ کرنے کی تعلیم اسلام نے دی انہیں سے اس غمی کے موقع پرہمارے معاشرے کے مالدار کھانے کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ اگرچہ قرض لیکر کریں انہوں نے یہ رسم قل اداء کرنی ہے پھر رنگ برنگے کھانے پھلوں سمیت ہرقسم کے کھانے حاضرکئے جاتے ہیں اور سامنے بیٹھنے والے مستحق یتیم مساکین فقراء وغیرہ نہیں ہوتے بلکہ صاحب حیثیت رشتہ دار موجود ہوتے ہیں۔ نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ اگر کسی رشتہ دار کونابلایاجائے تو وہ ناراض ہوجاتاہے مستحق تو اس محفل میں تلاش کرنے سے بھی ناملیں وہ بڑی خوشی سے کھاتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ میت کے ورثاء کی طرف سے صدقہ خیرات تقسیم کیاجاتاہے اگر اسی مجمع میں یہ پوچھا جائے کہ صدقہ خیرات کھانے والے کتنے لوگ ہیں تو 80 فیصد لوگ انکار کردیں گے جبکہ حقیقت میں وہ صدقہ خیرات ہی کھارہے
ہوتے ہیں حج اور زکوٰۃ جیسے اہم فرائض میں بھی غرباء فقراء کو رعایت حاصل ہے لیکن ان رسومات میں ان کو بالکل رعایت نہیں دی جاتی یہی سوچاجاتا ہے کہ اگر ہم نے اہتمام ناکیاتو لوگ کیا کہیں گے یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کیاکہتاہے ہمارے معاشرے میں روز مرہ کے مسائل میں پہلے ہی لوگ پریشان ہیں ان کے لئے آسانیاں تلاش کرنی چاہیے کیونکہ اسلام کی تعلیمات بہت آسان ہیں ہم نے رسومات کو ترجیح دیکراسے مزید مشکل بنادیاہے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دین اسلام کاایک ایک حکم بالکل واضح ہے نبی کریم روف الرحیمﷺ کی تعلیمات اور زندگی کا ایک ایک لمحہ محفوظ ہے اور ہمارے عمل کیلئے مبارک اور روشن ہے ہمیں اس پر چل کرہی کامیابی مل سکتی ہے ہمیں زندگی چاہے خوشی کی ہویا غمی کی ہو گزارنے کا طریقہ سکھایا گیاہے ہمیں چاہیے ہم دینی تعلیمات حاصل کریں جن باتوں کا علم نہیں انہیں سیکھیں فرائض واجبات سنن کوترجیح دیں رسومات سے پرہیز کریں کیوں کہ کامیابی اور کامیاب زندگی صرف اسلام نبی کریم روف الرحیم ﷺ کی تعلیمات اور اصحاب الرسول کی عملی زندگی میں ہی پوشیدہ ہے۔

ظفر رشید