وطن عزیز میں اس وقت سازشوں اور اختیارات کے بل بوتے پر ایسے خون آشام فتنوں کی آبیاری کی جارہی ہے جس کا خمیازہ قوم آنے والے وقتوں میں بھگتے گی کیونکہ یہاں عمل کا ردعمل ایک ضروری امر ہے کچھ کردار اس وقت ملک کو سیاسی طور اس قدر نفرت انگیز بنا چکے ہیں کہ آنے والے وقتوں ان کرداروں کی اپنی باری لگنا ایک مسلمہ حقیقت ہے الیکشن 2018 سے قبل نئی حکومت کا پورا نقشہ تیار کیا چکا تھاکہاں کہاں سے پی ٹی آئی کو جتوانا اور جتوانے کے لیے کیا گیم پلان ہو وہ سب طے ہوچکا تھاکئی لیگی امیدواروں کے ٹکٹ واپس کروائے گئے جنھیں آزاد جتوانا اور پھر عمرانی سلطنت قائم کرنے میں ان آزاد امیدواروں کو بطور ستون یا بطور بیساکھی فراہمی ممکن بنائی گئی جہاں گھی سیدھی انگلیوں نہیں نکلا وہ انگلیاں ٹیڑھی بھی کی گئیں۔حلقہ این اے 59 میں ن لیگی امیدوار نے جیپ والوں کی بات مان کر ہاتھ نہ اُٹھایا تو امیدوار خود اُٹھو الیے گئے۔گلیاں ہو جان سنجھیاں تے وچ مرزا یار پھرے کے مقولے پر عمل کرتے ہوئی لیگی ٹکٹ ہولڈر راجہ قمر السلام کو صاف پانی کیس میں گرفتار کر کے مرزا یار کے لیے گلیاں تو سنجھیاں کروا لی گئی لیکن مرزا نکما نکلا اور غلام سرور سے ہار گیا واقعہ اجمال یہ کہ قومی احتساب بیورو(نیب)نے صاف پانی کیس میں 20 افراد کے خلاف ریفرنس دائر کیا جس میں لیگی ٹکٹ ہولڈر قمرالسلام سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا 250سے زائد صفحات اور نو جلدوں پر مشتمل ریفرنس میں ملزمان پر 345 ملین لوٹنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ملزمان پر ملی بھگت کے تحت ناجائز اختیارات اور بڈنگ کاغذات میں ردوبدل کا بھی الزام تھا۔بہاولپور ریجن میں 116فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب میں خرد برد کا جبکہ حاصل پور خان پور‘ لودھراں اور منچن آباد میں واٹر ٹریمنٹ کے معاملے میں من پسند کمپنیوں کو ٹھیکے دینے کا بھی الزام تھا ان الزامات کے تحت راجہ قمر السلام کو عین اس دن گرفتار کیا گیا جب وہ پارٹی ٹکٹ کے لیے لاہور پہنچے نیب نے لاگت بڑھانے کا بھی الزام لگایا الیکشن میں اس سیٹ کوبچائے رکھنے کے لیے راجہ قمر السلام کو نو ماہ سے زائد جیل میں رکھا گیا جیل میں ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جانا پورے ملک میں پے رول پر صحافی نما ہاکاروں کی ہاہا کار سے ان کی کردار کشی کروانا ساڑھے تین سال لاہور احتساب عدالت میں ہرہفتے پیشی ڈلوانا حکمرانوں کی پست ذہنیت کی عکاسی کرتی رہی اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ سارے ثبوت نیب کے منہ دے مارے گئے اور راجہ قمراسلام باعزت بری کردئیے گئے فیس نہیں کیس دیکھنے کا ڈائیلاگ مارے والے خود توہین عدالت کیس میں بلوائے جا چکے ہیں راجہ قمرالسلام نے تمام سختیاں سہ کر بھی جماعت سے بے وفائی نہیں کی یہ ان کا پارٹی سے لگاؤ اور نظریات پر پہرہ قرار دیا جاسکتا ہے جب سب سیاست ذاتی فائدے کے بجائے پارٹی اور عوامی مفاد پر فیصلہ لیں گے تو کوئی انہیں نہ خرید سکے گا نہ بلیک میل کر سکے گا۔حکمران یاد رکھیں خدا کی رسی ڈھیلی ہوتی ہے تو یہ وقت توبہ کے لیے مقرر ہوتا ہے گھمنڈ کھیل کا ہو یااقتدار کا کبھی خیریا سر بلندی پر متنج نہیں ہوتا راجہ قمر السلام کی بریت میں حکمران طبقہ کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا