نظریہ چاہے کسی فرد کا ہو قوم کا انسانی زندگی میں ایک نمایاں مقام و حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ نظریہ یا کسی مقصد و منشاء کا نہ ہونا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک سرپٹ دوڑتا ہوا بے لگام گھوڑا۔ اگر مقصد یا نظریہ میں خیر کا عنصر موجود ہو تو وہ نہ صرف انفرادی سطح پر بھی سود مند ہوتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پربھی۔
اسی طرح کسی نظریہ میں شر کا عنصر موجود ہو توہ نہ صرف انفرادی طور پر باعث نقصان ہوتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پہ بھی۔ دور حاضر میں دو ریاستیں ایسی ہیں جو ایک واضح نقطہ نظر، افکار و نظریات کی حامل ہیں۔ ان میں سے ایک وطن عزیز یعنی پاکستان اور دوسری ریاست جسے اگر موجودہ دور کا ناسور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا

۔ ریاست پاکستان کا نظریہ کیا لاالہ الا اللہ جو کہ ہماری دستور ساز عمارت، پارلیمینٹ کے ماتھے کا جھومر بھی ہے۔ بقول قائداعظم ہندوستان میں دو بڑی قومیں آباد ہیں۔۔۔ جو اپنے طرز معاشرت، اپنے عقائد، اپنے رسوم و رواج غرضکہ ہر لحاظ سے دو الگ قومیں ہیں۔ اس لیے ہندوستان کی تقسیم لازمی ہے مزید برآں ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کیلئے ایک ایسی ریاست کا قیام ضروری ہے جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ دین اسلام پر عمل پیرا ہو سکیں اور عبادات بجا لا سکیں۔
اگرچہ ہم کسی حد تک اپنے نظریہ سے دور ہٹ چکے بہر حال ہمیں وطن عزیز میں آزادی جیسی نعمت بدرجہ اتم حاصل ہے۔ رہی دوسری ریاست جو ایک نظریہ کی بنیاد پہ قائم ہوئی ہے وہ روئے زمیں پہ ایک ناسور اور متشدد ریاست کے طور پہ ابھری جس کا یہ فلسفہ ہے ،فلسفہ کیا تالمود میں یہ بات تحریر ہے کہ غیر یہود کے علاوہ اس دنیا میں جتنے بھی لوگ آباد ہیں وہ گوئم ہیں۔ گوئم مطلب جانور ہیں انسانیت کے دائرہ کار میں محض اہل یہود ہی موجود ہیں۔
اسی لئے یہ ناسور ریاست ایک انتہائی فاشسٹ اور متشدد ریاست کہلاتی ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جو دودھ پیتے بچے کو جانور سمجھ کر کچل دیتی ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جس نے لبنان میں صابرہ اور شتیلہ میں پناہ گزین کیمپس میں موجود حاملہ عورتوں کے پیٹ تک چاک کئے کیونکہ یہودیت کی نظر میں تمام غیر یہود جانور ہیں۔
بات چلی تھی ریاستی نظریہ کی تو ریاست اسرائیل کا نظریہ ہے کہ اے اسرائیل تیری سرحدیں دریائے نیل سے لیکر فرات تک ہیں۔ جہاں لاالہ الااللہ پاکستان کی پارلیمنٹ کا جھومر ہے تو وہیں اسرائیل کی پارلیمنٹ میں یہی تحریر کندہ ہے۔
آپ ذرا اسرائیل کے جھنڈے پہ غور کریں تو چھ کونوں والے ستارہ دو نیلی اور متوازی سطروں میں مقید نظر آتا ہے۔ یہ نیلی سطریں آخر کس چیز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ نیلا رنگ نشانات کی زبان میں پانی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور ایک نیلی سطر دریائے نیل کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری دریائے فرات کو، دنیا میں واحد اسرائیل ایک ایسا ملک ھے جس نے ببانگ دہل دوسرے ممالک پر قبضہ کرنے کا ارادہ اپنی پارلیمنٹ کی عمارت پر کندہ کر رکھا ہے۔
کسی دوسرے ملک نے اس طرح ا علانیہ اپنی جارحیت کے ارادوں کا اظہارکبھی نہیں کیا۔اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ھے اُن میں دریائے نیل تک مصر، پورا اُردن، پورا شام، پورا لبنان، عراق کا بڑا حصّہ، ترکی کا جنوبی علاقہ، اور دل تھام لیجئے کہ مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ھے۔
بقول ان کے مذہبی پیشواوں کے ان کی مقدس کتابوں میں مذکور ہے کہ اِس وجہ سے اُس دِن خداوند نے ایک وعدہ کر کے اَبرام سے ایک معاہدہ کر لیا۔ اور خداوند نے اُس سے کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک دوں گا۔ میں اُن کو دریائے مصر سے دریائے فرات تک کے علاقے کو دوں گا
اللہ رب العزت قرآن پاک کی سورہ مائدہ میں فرماتے ہیں آیت نمبر 82 میں اس حقیقت کو واضح کر دیا گیا: ”البتہ ضرور پائیں گے آپ (دوسرے) لوگوں سے زیادہ سخت دشمنی میں ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے ہیں‘ یہودیوں کو اور اُن لوگوں کو جنہوں نے شرک کیا‘‘
قارئین یہودی اللہ رب العزت کی محبوب ترین قوم تھی اللہ پاک نے اس قوم پہ بادلوں کے سائے سے لیکر من و سلوٰی تک اتارا لیکن پے درپے نافرمانیوں کی وجہ سے پھر یہی قوم اللہ پاک کی مبغوض ترین قوم بن گئی۔
اسی قوم نے سب سے زیادہ ناحق انبیاء کو قتل کیا اسی قوم نے موسیٰ کے کوہ طور جانے کے بعد گاو سالہ پرستی شروع کر دی۔ اس شریر ترین قوم کو کہیں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے تباہ وبرباد کیا تو کہیں روم کے ٹائٹس نے نکال باہر پھینکا
۔ جرمن کے آمر ایڈولف ہٹلر سے کون واقف نہیں۔ ہٹلر کے اوپر 60 لاکھ یہودیوں کے قتل کا الزام لگایا جاتا ہے۔ یہودی اس قتل عام کو ہولو کاسٹ کا نام دیتے ہیں۔ آج ارض مقدس پہ یہودیت ایک خونخوار بھیڑئے کی طرح قبضہ کرنے کیلئے ایسے ایسے حربے اختیار کر رہی ہے جن کو سن کر انسانیت تک شرما جائے۔
یہودی موجودہ،معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں۔ وہ انسانیت کے مقام سے گر چکے ہیں۔یہ ظلم و بربریت میں اس حد تک آچکے کہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو بے دریغ قتل کر رہے ہیں۔ آج فلسطین میں جاری ظلم و ستم اس نہج تک پہنچ چکا کہ ہسپتالوں تک کو بمباری کر کے تہس نہس کر دیا گیا اور اقوام عالم اس ظلم کو رکوانا تو درکنار اسرائیل کے قصاب نیتن یاہو کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔اور سلامتی کونسل محض ایک علامتی ڈھانچہ بن چکا جو کسی طرح بھی اس ظلم و بربریت کو نہ رکوا سکا۔
الٹا انکل سام اسرائیل کی ناجائز ریاست کی حمایت میں کھل کر سامنے آیا اور سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرار دادیں جو جنگ بندی کیلئے پیش کی گئیں وہ ویٹو کر دیں۔اور اسرائیل کی مد د کیلئے بحیرہ روم میں نہ صرف جنگی بحری جہاز بھیجے بلکہ بحری بیڑوں کو بھی وقتاً فوقتاً روانہ کیا۔
یاد رہے امریکہ بہادر ایک عیسائی ریا ست ہے اور عیسائی حضرات کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو اہل یہود نے مصلوب کیا (معاذاللہ) کیونکہ عیسائی حضرات حضرت عیسیؑک کے پیروکار ہیں اور اہل یہود کو اپنا ازلی دشمن گردانتے ہیں۔, Brown University’s Costs of War project, کے مطابق سات اکتوبر ٍسے لے کر اب تک امریکہ اسرائیل کو دفاع کی مد میں 17.9ارب ڈالر کی امداد دے چکا ہے۔اور سات اکتوبر سے لے کر اب تک امریکہ کے فوجی آپریشنز کیلئے اب تک 4.86 ارب ڈالر خرچ کئے جا چکے ہیں
۔اگر آپ اسرائیل کے جھنڈے کو غور سے دیکھیں تو دو نیلی لایئنز کے درمیان ایک چھ کونوں والا ستارہ آپ کو دکھائی دے گا اور اگر آپ امریکہ کے ایک ڈالر کے کرنسی نوٹ کی پشت پہ نگاہ دوڑائیں تو یہی چھ کونوں والا ستارہ آپ کو عقب کے سر کے اوپر ملے گا۔
2017 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہیں اور اور ہم اپنی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں گے۔ یہاں ایک اور بات بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کہ آپ ؐ جب معراج کے سفر انور پہ روانہ ہوئے تو مسجد اقصیٰ میں انبیاء ؑ کی امامت کروائی اس سفر میں جو آپ ؐ کی سواری تھی اس کا نام براق تھا وہ دیوار جس کے ساتھ آپؐ نے براق کو باندھا تھا دیوار براق کے نام سے مشہور ہوئی۔آج دو دیوار یہود کے قبضہ میں ہے اور عام و خاص یہودی اس دیوار کے پاس جا کر گریہ و زاری کرتا ہے اور آہ و بکا میں یہ پکارتا ہے کہ اے خدا ہمارا مسیحا (دجال) جلد از جلد آئے اور ہمیں زلت ورسوائی سے آزاد کروائے اور دنیا کی بادشاہت ہمارے پاس آ جائے یوں اس دیوار کو دیوار گریہ کا نام دے دیا گیا
۔لیکن حیرت اور اچنبھے کی بات یہ ہے کہ صدر بش ہو یا صدر کلنٹن، رونالڈ ریگن ہو یا ڈونلڈ ٹرمپ،صدر اوبامہ ہو یا جوبائیڈن امریکہ کیتقریباً تمام صدور اس دیوار کے پاس جا کر بظاہر یہودیت کی دعاوں میں شریک ہوتے ہیں اور ان کا ساتھ دیتے ہیں۔
قارئین 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں 15.7ملین یہود ی آباد ہیں۔ اتنی تھوڑی سی تعداد کے حامل یہودی امریکہ جیسے سپر پاور کو اپنے کنٹرول میں لئے ہوئے ہیں جو مذہبی شدید ترین اختلاف رکھنے کے باوجود اسرائیل کی ہر جائزو ناجائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے ہر حد سے گزر جائے اسرائیل جیسے ناپاک نظریات کے حامل ملک کے بظاہر ایک مظبوط نظرئییکا عکاس ہے
۔ہمیں اس ناجائز ریاست کے ناجائز وجود کو ارض فلسطین سے بے دخل کرنے کیلئے یک جان ہونا پڑے گا نہیں تو یہ خون آشام بلا ہمارا خون پیتی رہے گی آج یمن، شام، لبنان،فلسطین ، عراق و مصر کے حالات سب کے سامنے ہیں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور امت مسلمہ کو حقیقی معنوں میں متحد ہونے کی توفیق دے۔
بقول علامہ اقبال
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیﷺ، دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک