1400 سال قبل نبی کریمﷺ کی آمد سے پہلے عرب ممالک میں جو سلوک عورتوں کے ساتھ کیا جاتا تھا وہ نا قابل ذکر ہے۔ مختلف مذاہب اور معاشروں میں خواتین کو بہت سے حقوق سے محروم رکھا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن آپﷺکی آمد سے خواتین کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہوا ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ نبی کریمﷺ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے عورت کے بارے ارشاد فرمایا ہے کہ : اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرو۔ (سورت النساء: 19)
حضرت عائشہ رضی اللہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صل اللہ نے فرمایا ہے کہ:
تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین برتاؤ کرنے والا ہوں ۔
(جامع ترمذی:3895)
اس کے ساتھ ساتھ نبی کریمﷺ نے بیٹیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم صل اللہ نے ایسے شخص کو جنت میں اپنے ساتھ کی بشارت عطا فرمائی جو بیٹیوں کی اچھی پرورش کرتا ہے۔ آپ صل اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں تو آپ صل اللہ نے اپنی انگلیوں کو ملاتے ہوئے فرمایا کہ میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح قریب ہوں گے۔ (صحیح بخاری: 6695)
لیکن آج کل کے زمانے میں ہم لوگ ایک بار پھر 1400 سال پہلے والے زمانہ میں جا رہے ہیں۔ آج کل کے اس جدید دور میں بھی کچھ لوگ بیٹی کی پیدائش کو معیوب سمجھتے ہیں۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو وہ لوگ جن کا تعلق دیہات سے ہے وہ بھی بیٹی کی پیدائش پر خاصے خوش نظر نہیں آتے کیوں کہ ان کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیٹی ایک رحمت نہیں بلکہ ایک زحمت ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاہد ہم بیٹی کی پرورش اچھے طریقہ سے نہیں کر سکتے جبکہ اس کے برعکس جب کسی کا بیٹا پیدا ہو تو وہ خاصے خوش نظر آتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بڑا ہو کر ہمارا سہارا بنے گا ان کا یہ موقف کچھ حد تک درست بھی ہے لیکن ان کا موقف لڑکی کے بارے میں غلط ہے۔ اس میں قصور نہ صرف ایک خاندان کا ہے بلکہ پورے ایک معاشرے کا ہے۔ اگر کسی کے گھر میں بیٹی کی پیدائش ہو بھی جائے تو لوگ خوشی منانے کی غرض سے نہیں بلکہ غم یا افسوس کرنے کی غرض سے جاتے ہیں۔آج کل کے دور میں یہ چیز دیہات سے نکل کر شہروں میں بھی داخل ہو گئ ہے جہاں پڑھے لکھے لوگ بھی بیٹی کی پیدائش کو برا سمجھتے ہیں ۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ بیٹی صرف گھر کے کام ہی کر سکتی ہے اور وہ ہمارا کام اور ہمارا بزنسن نہیں سنبھال سکتی جس کی وجہ سے وہ صرف لڑکوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ لڑکے یا لڑکی کی پیدائش کسی عورت کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ﷲ کے ہاتھ میں ہے لیکن لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے عورت ظلم وستم کا شکار ہوتی ہے۔ چند عرصہ قبل راولپنڈی میں ایک لڑکی کو اس کے والد نے اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے اپنے باپ کے کہنے پر ٹک ٹاک کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہیں کیا اگر وہ اپنی بیٹی کو اچھے طریقہ سے سمجھا دیتا تو شاہد وہ بات کو سمجھ جاتی اور اپنے والد کی بات مان لیتی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے جہاں ایک استاد نے ایک لڑکی کو پاسنگ مارکس دینے کے بدلے جنسی تعلقات قائم کرنے کو کہا۔ کیا یہ وہی اسلام ہے جو ہمیں نبی کریمﷺ نے سیکھایا اور سمجھایا ہے؟ اسی طرح کی بہت سی مثالیں اور بھی ہیں جو آج کل کے زمانہ میں ملتی ہیں۔ بلوچستان میں ہونے والا واقعہ جہاں ایک لڑکی نے اپنی پسند کی شادی کی اور گھر سے چلی گئی کچھ سال بعد وہ اپنی والدہ اور والد کے کہنے پر اپنے گھر واپس آئی لیکن راستے میں ہی اس کے والدین نے اس کو موت کے منہ میں ڈال دیا ۔ وہ ایک لڑکی وہاں پر موجود کئی مردوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہی اس نے کہا مجھے معلوم ہے قبیلے والوں نے مجھے مارنے کا ہی کہا ہوگا۔ وہ لڑکی مرتے دم تک کہتی رہی میں نے نکاح کیا ہے زنا نہیں۔
آج کل ہمارے معاشرے نے نکاح کو برا اور زنا کو درست تسلیم کیا جاتا ہے ۔
اگر لوگ اس جدید دور میں بھی عورت کی عزت اور مقام و مرتبہ کو نہ سمجھ سکیں تو یہ بہت بڑی بےوقوفی ہے۔ اگر ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں بھی اس بات کو نہ سمجھ سکیں تو اس سے زیادہ شرمندگی کی کوئی بات نہیں ہوسکتی۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسروں کی ماؤں بہنوں کو اپنی ماں بہن سمجھیں اور ان کی عزت کا خیال رکھیں- ﷲ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے غلطی ہر انسان سے ہو جاتی ہے ہمیں ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور آئندہ احتیاط کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کو معاف کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بقولِ شاعر:
کرو مہربان تم اہل زمین پر
خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر
