دنیا کی اقوام متحدہ اورپاکستان رویت ہلال کمیٹی میں کوئی فرق نہیں رہا ہے

اقوام متحدہ بیکارادارہ
دنیامیں جب بھی کسی خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں یا خونریزی بڑھتی ہے تو عالمی برادری کی نظر یں فوراََ اقوام متحدہ کی طرف اٹھتی ہیں جیساکہ ان دنوں امریکہ اسرائیل نے کسی ٹھوس وجہ اور ثبوتوں کے بغیر ایران پر صرف اس لئے حملہ کر دیا کہ وہ انہیں آنکھیں دکھاتا ہے اور مستقبل میں اسرائیل کے لئے خطرہ بن سکتا ہے جس پر اقوام متحدہ میں مخص مذمتی اجلاس بلایا گیا اور بس حالانکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945میں یہ ادارہ اسی مقصدکے لئے قائم کیا گیا تھا کہ آئندہ دنیا کو جنگوں کی تباہ کا ریوں سے بچایا جا سکے

مگر آج آٹھ دہائیوں کے بعد یہ سوال شدت سے اُٹھ رہا ہے کہ کیا اقوام متحدہ واقعی اپنے بنیادی مقصد میں کامیاب ہوئی ہے یا وہ عالمی سیا ست کے طاقتورکھلاڑیوں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے یہ ادارہ جنگ عظیم دوسری کی ہو لناک تباہیوں کے بعد قائم کیا گیا تھا اس جنگ میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے تھے اور پورا یورپ کھلاڑبن گیا تھا اس پس منظر میں عالمی رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسا ادارہ ہو نا چاہیے جو تنازیا ت کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے اور جنگ کو روکنے کے لئے عالمی قوانین نافذکرے

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ امید یں کمزور پڑتی نظر آئیں لٰہذابتایا جائے کہ اقوام متحدہ نے آج تک کونسے مسائل حل کئے ہیں؟اور پھر جب پانچ ملکوں کو ویٹوپاوردے دی گئی ہے تو پیچھے کیا رہ جا تا ہے؟ پھر یہی پانچ ممالک ویٹوپاور کا استعمال کر کے پوری دنیا میں بدمعاشی کر تے ہیں اور کمزور ممالک پر اپنا دباؤبڑھاتے ہیں اور بعض اوقات چڑھائی بھی کر دیتے ہیں اس سلسلے میں ویٹو پاور ختم کر دیں یا پھر اقوام متحدہ ادارے کو بند کر دیں اگر کچھ نہیں کر نا تو پھر اقوام متحدہ کی ایک بڑی فورس قائم کر لیں جس کا خوف ہو یا جو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرکے تایہ فورس اس کے خلاف استعمال کی جائے اور اقوام متحدہ میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ امریکہ کو کہے کہ فلاں جنگ ختم کر دے ورنہ اسے تنہاکر دیا جا ئے گا تو امریکہ فوراََ عملدرآمدکرے اور جنگ ختم کر نے کا اعلان کر دے یا اقوام متحدہ روس سے کہے کہ وہ یوکرین سے اپنی فوجیں واپس بلالے اور روس فوری طور پر جنگ ختم کر نے کا اعلان کر دے اگر یہ ایسا نہیں کر سکتے تو یہ اقوام متحدہ کا یہ ادارہ دنیا بھر کے عوام پر محض بوجھ ہے اور بڑے اور طاقتور ممالک اس پر فنڈنگ کے ذریعے اپنا اثر ورسوخ بڑھاتے ہیں

لٰہذا یہ کہنا بجا ہو گا کہ اقوام متحدہ اور ہماری رویت ہلال کمیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے رویت ہلال کمیٹی کے کہنے پر عید وغیرہ ہو جا تی ہے لیکن اقوام متحدہ کے کہنے پر تو کوئی ایک ملک بھی اپنی حرکتوں سے باز آنے والانہیں جیسے مسلہ کشمیر کو دیکھ لیں جس کی قراردادیں 1948کو منظور کی گئی تھیں لیکن مجال ہے کہ ابھی تک انہیں منظور نہیں کر وایا جا سکا کیونکہ ہندوستان اُن قراردادوں پر عمل کر نے کے لئے تیا ر نہیں ہے اقوام متحدہ ابھی تک فلسطین کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کر واسکا حتی کہ اقوام متحدہ کی آنکھوں کے سامنے ایک لاکھ فلسطینی بچے بوڑھے اور خواتین شہید کر دئے گئے اور اقوام متحدہ محض مذمتوں سے آگے نہ بڑھ سکا

عراق کو دیکھ لیجئے جس پر حملے کر نے کے لئے اقوام متحدہ نے خود اجازت دی مگر بعد میں وہاں پر نہ تو جر اثیمی ہتھیا ر ملے اور نہ ہی ایٹمی تنصیبات کا کو ئی سراغ ملا بعد میں اقوام متحدہ نے محض معذرت سے کا م چلایا بہر حال یہ اقوام متحدہ ہی ہے کہ جس کے زیر سایہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایک ہی بدمعاشی ہے۔ 1990

تک روس سپر پاور تھا اس وقت تک امریکہ ایسی حرکتیں نہیں کر تا تھا اور دنیا کا توازن بھی قائم تھا لیکن جیسے ہی سویت بونیں کو توڑاگیا امریکہ کی من مانیا ں بڑھ گئیں اس لئے جب تک چین امر یکہ کے زور کو توڑنے کے لئے آگئے نہیں آئے گا تب تک امریکہ یہ بد معاشیا ں کر تا رہے گا اور ویسے بھی یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ طا قت میں ہو تو اپنے نئے اصول پیداکر تا ہے کہ ایسا نہیں بلکہ ایسا ہو نا چاہیے فلاں ملک ٹھیک کا نہیں کر رہا برطانیہ کو اپنے اڈے دے دینے چاہیے تھے سپین نے اڈے نہیں دئے اس لئے ہم اس سے تجارت ختم کر رہے ہیں بعد میں دونوں ملک اپنے آپ کو امریکہ کے آگے سجدہ ریزکر دیتے ہیں کہ محلے کے اس غنڈے کے سامنے ان کی اوقات ہی کیا ہے اس لئے دنیا میں ہر دور میں ایسا ہی ہو تا ہے کہ جس کے پاس طاقت ہو تی ہے وہ اپنے اصول وضوابط طے کر لیتا ہے اقوام متحدہ ہم وقت ہر لحاظ سے اور ہر فورم پر نا کا م رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ دیگر تنظیمیں اوآئی سی اور عرب لیگ وغیرہ تنظیمیں بھی مکمل نا کا م رہی ہیں یہ آج کی نہیں بلکہ تا ریخ اس کی کئی مثالوں سے بھری پڑی ہے 2003میں عراق پر ہو نے والا حملہ اس کی نمایا ں مثال ہے

اقوام متحدہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق جنگ شروع کی حالانکہ عالمی سطح پر اس کے خلاف شدید اختلافات موجودتھے اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں لو گ مارے گئے اور پورا خطہ عدم استحکا م کا شکا ر ہو گیا۔ مگر اقوام متحدہ اس جنگ کو روکنے میں نا کا م رہی اسی طرح 2011میں لیبیا میں ہو نے والی مداخلت کو بھی تنقید کا سامنا کر نا پڑا ابتدا میں انسانی تخفظ کے نا م پر کاروائی کی گئی مگر بعد میں نیٹو کی فوجی مداخلت نے ملک کو طویل خانہ جنگی کی طر ف دھکیل دیا آج تک لیبیا مکمل استحکا م حاصل نہیں کر سکا ذرا شام کو دیکھ لیجئے شام کی خانہ جنگی بھی اقوام متحدہ کی کمزوری کی ایک بڑی مثال ہے 2011سے شروع ہو نے والی اس جنگ میں لاکھوں افراد مارے گئے اور کروڑوں لوگ بے گھر ہو ئے کئی بار جنگ بندی کی کو ششیں کی گئیں مگر عالمی طاقتوں کے اختلافات کے باعث کو ئی مستقل حل سامنے نہ آسکا

اسی طرح حالیہ برسوں میں روس یو کر ین جنگ نے بھی اقوام متحدہ کے کر دار پر سوالات کھڑے کر دئے چونکہ روس سلامتی کو نسل کا مستقل رکن ہے اس لئے اس کے خلاف مؤ ثر کا رروائی ممکن نہ ہو سکی قراردادیں پیش ہو ئیں بیا نا ت جا ری ہو ئے مگر جنگ جا ری رہی غور کیا جا ئے تو پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ کا کو ئی فا ئدہ نہیں ہے یہ صرف عالمی طاقتوں سے فنڈز لے کر اپنے آپ کو زندہ رکھے ہو ئے ہے لٰہذا اگر عالمی برادری واقعی ایک پر امن مستقبل چاہتی ہے تو اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں بنیا دی اصلاحات نا گزیرہیں خصوصاََ سلامتی کو نسل کے ویٹو نظام پر نظر ثانی کئے بغیر عالمی انصاف کا خواب پورا ہونا نا ممکن ہے مو جو دہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا موجودہ عالمی نظام واقعی قواعد پر مبنی ہے یا محض طا قت کے تو ازن پر قائم ایک ایسا ڈھانچہ ہے جس میں قا نون کا اطلاق کمزور ریا ستوں تک محدود رہ جا تا ہے

بین الاقوامی قانون کے ماہر ین اکثر اس بات کی نشاندہی کر تے ہیں کہ اگر عالمی ادارے بڑی طاقتوں کو موثر انداز میں روکنے میں نا کا م رہیں تو ان کی اخلا قی اور سیا سی ساکھ کمزور ہو نے کا خدشہ لا حق رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دہائی میں عالمی سطح پر یہ بحث زور پکڑرہی ہے کہ اقوام متحدہ کے ڈھا نچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے تا کہ عالمی فیصلے زیا دہ نمائندہ اور متوازن ہوں دنیا کے موجودہ حالات میں یہ بھی واضح ہو تا جا رہا ہے کہ اگر بڑی طاقیتں اپنی پالیسیوں کو بین الاقوامی قانون کے تا بع کر نے پر آما دہ نہ ہو ئیں تو عالمی کشیدگی ایک ایسے مر حلے تک پہنچ سکتی ہے جہا ن سفارت کا ری کے امکا نا ت کم ہو جا ئیں گے

ما ہر ین اس با ت کی طر ف بھی توجہ دلا تے ہیں کہ جدید ہتھیاروں کی دوڑ خصوصاََ جو ہر ی اور مصنوعی ذہا نت سے پس عسکری نظام دنیا کو ایک ایسے خطرناک دور اہے پر کھڑا کر چکے ہیں جہا ں ایک غلط فیصلہ یا محدود جنگ بھی عالمی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کے مؤثر اقدامات با گزیر ہیں اس پس منظر میں اگر بڑی طا قتیں واقع عالمی امن اور استحکا م کی خواہاں ہیں تو انہیں اس حقیقت کو تسلیم کر ہو گا کہ بین الاقوامی نظام صرف اس صورت میں مستحکم رہ سکتا ہے جب اس کے اصول سب پر یکساں طور پر لا گوہوں سفا رتی دباؤ، عالمی معاہدات کی پاسداری اوراجتماعی سلامتی کے اصولوں کو مضبوط بنائے بغیر اس بحران کا حل ممکن نہیں

ایسی صورت میں یہ سوال محض نظریا تی نہیں رہ جا تا کہ عالمی نظام کس سمت جا رہا ہے بلکہ انسانی بقا کے سوال میں تبدیل ہو جا تا ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں تا ریخ کی دانش ہمیں یہ یا د دلاری ہے کہ اگر طاقت کو قا نون کا پا بند نہ بنا یا گیا تو آخر کا ر طاقت ہی قانون بن جا تی ہے اورجب ایسا ہو تا ہے تو دنیا کی تا ریخ اکژ نئے سانحات سے لکھی جا تی ہے


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.