اگر ایک سو کامیاب انسانوں کی زندگی کا مطالعہ کریں، ان کی کامیابی کی راز کیا ہے تو ان ایک سو انسانوں کے درمیان جو قدر مشرک ہو گی، وہ ایک سو انسان سنجیدہ انسان ہیں، آج جس سنجیدہ اور علمی شخصیت کا آپ کے سامنے تذکرہ کرنے لگاہوں، وہ شخصیت حامد محمود ہیں، حامد محمود 16 جنوری 1976کو محمد رمضان کے ہاں کھاریاں کینٹ میں پیدا ہوئے، ان کے والد صاحب اس وقت پاکستان آرمی میں سروس کررہے تھے، اس وقت ان کے والد صاحب کی پوسٹنگ کھاریاں کینٹ تھی۔ حامد محمود کے تایا ماسٹر عبدالغفور أرمی سے ریٹائر ہو کر سکول ٹیچر بھرتی ہوئے ان کی اولاد نہ تھی اس لئے انھوں نے حامد محمود کو اپنا بیٹا بنالیا، وہ دونوں میاں بیوی سکول ٹیچر تھے۔
حامد محمود نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول ڈھوک قاضیاں سے حاصل کی، پھر ہائی سکول ساگری سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا،گورنمنٹ کالج کلرسیداں سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا،پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے اردو کی ڈگریاں حاصل کیں‘اس کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم اے ایجوکیشن اور سرحد یونیورسٹی أف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ایم ایس سی ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن ڈگریاں حاصل کیں پروفیشنل تعلیم میں سی ٹی اور بی ایڈ کی ڈگریاں AIOU اسلام آباد سے مکمل کیں، تعلیم مکمل کرنے بعد شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گے۔سروس کا آغاز بطور ٹیچر 2000 میں فیض الاسلام مندرہ کیمپس سے ہوا۔ 2002 سرکاری سکول میں پہلی تعیناتی گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول ہرکہ ہوئی، 2009 میں گورنمنٹ پرائمری سکول موہڑہ بھٹاں میں پوسٹ ہوئے۔ 2012 گورنمنٹ ہائی سکول مانکیالہ2014 میں ڈائریکٹوریٹ آف سٹاف ڈیویلپمنٹ لاہور کی طرف سے بطور ٹیچر ٹرینر GHS دوبیرن کلاں تقرری ہوئی، 2017 GHS آراضی میں پوسٹنگ ہوئی۔ اس کے بعد 2021 بھورہ حیال ہائی سکول میں تعیناتی ہوئی اور تا حال اسی سکول میں ہیں، اب گورنمنٹ ہائی سکول بھورہ حیال میں انچارج ہیڈماسٹر ہیں، حامدمحمود سکول کے زمانے سے ایک سنجیدہ نوجوان تھے، دوسرا نمبر پر ان کا کتاب کے ساتھ گہرا تعلق ہے،
یہ سنجیدگی اور کتاب کے سے ان کا تعلق ان کو ہمارے مرحوم قائد محمد عباس بٹ صاحب کی صحبت میں لے گیا، محترم جناب محمد عباس بٹ صاحب کے ذریعے 2008 میں حامد محمود کے ساتھ رابطہ ہوا ان کو رکنیت کا سیٹ دیا، الحمد اللہ 2009 میں وہ جماعت اسلامی پاکستان کے رکن بن گیے، حامدمحمود پڑھا لکھا اور سنجیدہ انسان ہے، ان کی بڑی خوبی کہ وہ پڑھے لکھے ہیں، سنجیدہ ہیں، قرأن اور حدیث کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہے، ہمارے مرحوم قائد محمد عباس بٹ صاحب اپنی زندگی میں سکارا مسجد ساگری کے خطیب تھے انھوں نے وصیت کی کہ میرے بعد حامدمحمود اس مسجد میں خطابت کریں گے، ان کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق حامد محمود نے پانچ سال اس مسجد میں خطابت کی، ان کا الفاظ کا چناؤ بہت خوبصورت ہے، لوگوں کے ساتھ ان کا بہترین سماجی تعلق ہے، ہر فرد کی خوشی وغمی شرکت کرنا ان کا معمول ہے، ایک ان سے میرا شکوہ رہتا ہے کہ سستی دور کرکے ایک متحرک لائف گزاریں، وہ کافی متحرک رہتے ہیں لیکن ابھی تک وہ مرحوم قائد محمد عباس بٹ صاحب کا خلا پر نہیں کرسکے کیونکہ جس تحرک کا ان کی زندگی میں ہونا ضروری ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہو سکا،
اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار اوصاف عطا کیے ہیں، بلاشبہ وہ محمد عباس بٹ رحمہ اللہ کا خلا پر کر سکتے ہیں، حامد محمود بہت ہی مخلص انسان، مخلص دوست اور بھائی ہیں، ہر طبقے میں ان کو عزت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، میرے الیکش 2013 اور 2018 میں انھوں نے یوسی امیر کی حیثیت سے ایک کلیدی رول ادا کیا، ان کا ایک ہی بیٹا ہشام محمود اور دو بیٹیاں ہیں، بیٹا شادی شدہ ہے، ہشام محمود کی ایک بچی اور ایک بچہ ہے، بڑی ہماری بیٹی عائشہ حامد شادی شدہ ہے اور چھوٹی ہماری بیٹی ہاجرہ حامد زیر تعلیم ہے، ان کے چار بھائی ہیں ساجد محمود‘ماجد محمود‘یاسر محمود اور وقار محمود ان کے والد صاحب 2019 اور والدہ صاحبہ 2022 اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں، اللہ ان کے ولدین کی مغفرت فرمائے اور ان کی اور اہلیہ محترمہ کی زندگیوں میں برکت عطا فرمائے، ان کے گلشن کی حفاظت فرمائے ان سے اپنے دین کی اقامت کا اور کمزور انسانوں کی خدمت کا کام لے لیے آمین
