جی ٹی روڈ واہ کینٹ انڈیا اور افغانستان بارڈر سے بھی زیادہ خطرناک ہو چکا ہے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نوٹس لیں۔ نعیم اشرف

ٹیکسلا۔ جی ٹی روڈ واہ کینٹ ٹیکسلا حسن ابدال انتہائی خطرناک ہو چکا ہے ایک دن میں تقریبا تین حادثات، والدین اپنے پیاروں کی زندگیاں کھو رہے ہیں لاشوں کا قیمہ بننا معمولی بات بن چکی ہے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے انیشیٹو پر بنائی گئی عوامی ایکشن کمیٹی جی ٹی روڈ کے سربراہ نعیم اشرف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جی ٹی روڈ واہ کینٹ ایک قتل گاہ بن چکی ہے اور روزانہ مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں اور زخمی انتہائی کرب سے گزرتے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ اپنی ترجیحات میں جی ٹی روڈ کو صف اول میں رکھیں اور اس پر کام شروع کرائیں۔

جی ٹی روڈ اس قابل نہیں کہ اس پر ہیوی ٹریفک چلے۔ جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی روڈ کی خستہ خالی، گنجائش سے زیادہ ٹریفک، بے ضابطہ یوٹرن اور سب سے زیادہ این ایچ اے کی ایڈمنسٹریشن کا موجود نہ ہونا حادثات کا باعث بن رہا ہے۔ این ایچ اے ٹرکوں کی سپیڈ مناسب کروانے میں ناکام ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پبلک ایکشن کمیٹی جس میں واہ کینٹ ٹیکسلا حسن ابدال کی 50 سے زیادہ تنظیموں کے نمائندگان موجود ہیں، نے مل کر فیصلہ کیا کہ اگر اس پر رمضان المبارک کے مہینے میں کام شروع نہ ہوا اور این ایچ اے نے اپنی کارکردگی نہ دکھائی تو تمام چیمبر آف کامرس، فیڈریشن آف پاکستان، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، تمام انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کو ساتھ جوڑ کر پرامن، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عید کے بعد گرینڈ دھرنا دے کر یہاں کے لوگوں کی آواز کو بلند کیا جائے گا۔

انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر سے اپیل کی کہ اس ایشو پر ایمرجنسی بنیادوں پر کام شروع کرایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.