تھرپارکر سندھ کا وہ خطہ ہے جہاں پانی کی قلت برسوں سے سب سے بڑا بحران بنی ہوئی ہے۔ زیر زمین پانی کی موجودگی کے باوجود زیادہ تر آبادی کو پینے کے لیے محفوظ پانی دستیاب نہ ہو سکا۔ اہلِ علاقہ کو آلودہ پانی پینے پر مجبور ہونا پڑا، جس سے بیماریاں عام ہوئیں اور غربت و محرومی کا دائرہ مزید وسیع ہوتا گیا۔
اس بحران پر قابو پانے کے لیے سندھ حکومت نے 5 ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے تھرپارکر میں 700 سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے۔ منصوبے کو ابتدا میں کامیابی سمجھا گیا، کیونکہ ہزاروں گھروں تک صاف پانی پہنچنے لگا۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند ہی برسوں میں بیشتر پلانٹس ناکارہ ہوگئے اور یہ عظیم منصوبہ مقامی عوام کی زبان میں ’’فلٹریشن پلانٹس کا قبرستان‘‘ کہلانے لگا۔ عوامی فلاح کا سنگِ میل بننے والا یہ منصوبہ بدنظمی، بدانتظامی اور وسائل کے ضیاع کی بدترین مثال ثابت ہوا۔
بار بار کی مرمتیں بے سود ثابت ہوئیں۔ قیمتی مشینری صحرا کی دھوپ میں زنگ آلود ہو کر بیکار پڑ گئی۔ تھرپارکر کے عوام، جو پہلے ہی محرومیوں کے مارے ہوئے تھے، مزید مایوس ہوگئے۔
مگر چند ماہ قبل محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHED) نے حکمتِ عملی بدلی۔ ناکارہ پلانٹس کی بحالی کی ذمہ داری مٹھی کے ایم اینڈ او ڈویژن کے ایکزیکٹو انجینئر محمد فرخ خان اور ان کی ٹیم کو سونپی گئی۔ کام انتہائی مشکل تھا۔ بجٹ محدود تھا، مشینری تباہ حال تھی اور پچھلی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ لیکن فنی مہارت اور عزم کے ساتھ فاروق خان اور ان کے ساتھیوں نے ناممکن کو ممکن بنا دکھایا اور بیشتر پلانٹس دوبارہ فعال کر دیے۔
اس کامیابی کے ساتھ ہی صرف پانی نہیں بلکہ امید بھی لوٹ آئی۔ مٹھی اور گرد و نواح کی بستیوں کے لوگ ایک بار پھر محفوظ پینے کے پانی سے مستفید ہونے لگے۔ لوگوں کو لگا کہ شاید حکومت پر اعتماد کرنا اب بھی ممکن ہے۔
مگر پاکستان میں بہتری کے راستے ہمیشہ آسان نہیں ہوتے۔ اس کارنامے کو سراہنے کے بجائے کچھ عناصر نے افواہیں اور من گھڑت خبریں پھیلانی شروع کر دیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض سیاست دان اور محکمہ PHED کے اندرونی لوگ بھی پلانٹس کو غیر فعال رکھنے میں مفاد رکھتے ہیں۔ ان کی یہ سازش نہ صرف عوام کو دوبارہ پیاس اور مایوسی میں دھکیل سکتی ہے بلکہ انجینئرز اور مزدوروں کی حوصلہ شکنی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
یہ صورتحال ہمیں ایک بنیادی سبق دیتی ہے۔ ترقیاتی منصوبے صرف ڈھانچوں کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی وقار، بقا اور امید سے جڑے ہوتے ہیں۔ سیاسی کھینچا تانی، ذاتی مفادات اور افسر شاہی کی رکاوٹیں عوام کے اس بنیادی حق کو پامال نہیں کر سکتیں کہ انہیں پینے کے لیے صاف پانی میسر ہو۔
محمد فرخ خان کی قیادت میں فلٹریشن پلانٹس کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو، شفافیت ہو اور جواب دہی کا نظام موجود ہو تو بڑے سے بڑا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔ مگر اب اس کامیابی کو برقرار رکھنا حکومت کی سیاسی بصیرت اور عوامی نگرانی پر منحصر ہے۔
تھرپارکر کے لوگ کھوکھلے وعدوں کے نہیں بلکہ مسلسل صاف پانی کے حق دار ہیں۔ انہیں یہ جاننے کا بھی حق ہے کہ اگر دوبارہ غفلت یا سازش کے ذریعے یہ سہولت بند کی گئی تو ذمہ دار کون ہوگا؟
کلرسیداں(یاسر ملک)چوہدری طارق محمود نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ چند…
پنجاب میں حالیہ سیلاب نے ایک بار پھر ملک کی پانی اور انتظامی صورتحال کی…
کلرسیداں چوک پنڈوڑی کے نواحی گاؤں چونترہ سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے جوان…
راولپنڈی(اویس الحق سے)انتہائی مصروف شاہراہ ایوب نیشنل پارک کے قریب ایک گاڑی جیسے ایک خاتون…
اسلام آباد(اویس الحق سے)ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ…
راولپنڈی(اویس الحق سے)پنجاب کے تین بڑے دریا اس وقت سپر فلڈ کی لپیٹ میں ہیں…