اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں واقع ایک امام بارگاہ میں زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق جبکہ 80 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ جمعہ کے روز نماز کے دوران اس وقت ہوا جب امام بارگاہ میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ انتہائی شدید تھا جس کے باعث امام بارگاہ اور اطراف کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
زخمیوں کو فوری طور پر پمز اسپتال، پولی کلینک اور سی ڈی اے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ شواہد اکٹھے کر رہا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور حساس مقامات کی حفاظت مزید سخت کر دی گئی ہے۔ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات کو اجاگر کرتا ہے اور شہریوں میں شدید غم و غصے کی لہر پائی جا رہی ہے۔