کہوٹہ ( ساجد جنجوعہ ) تحصیل آفس کہوٹہ شہریوں کے لئے وبال جان بن گیا۔ سرکاری امور پرائیویٹ منشیوں اور کمیشن مافیا کے سپرد کر دئیے گئے ہیں، جہاں من پسند افراد کے کام چند منٹوں میں نمٹا دئیے جاتے ہیں جبکہ عام شہری سارا دن خوار ہوتے رہتے ہیں، شہریوں کے مطابق رجسٹری کے نام پر سات ہزار سے آٹھ ہزار روپے تک اضافی رقم سرعام وصول کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب پٹواریوں کے پرائیویٹ منشی پرائیویٹ دفاتر میں بیٹھ کر تحصیل بھر کے حساس ریکارڈ سے کھلواڑ میں مصروف ہیں، جس سے ریکارڈ کی شفافیت اور حفاظت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق تحصیل آفس میں آئے روز آئی ڈی لنک ڈاؤن کا بہانہ بنا کر سرکاری کام روکے جاتے ہیں جبکہ بند کمروں میں مبینہ طور پر مک مکا کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کے باوجود تحصیل کہوٹہ میں درجنوں پرائیویٹ منشی پرائیویٹ دفاتر میں مختار کل بنے بیٹھے ہیں، عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور تحصیل آفس میں جاری بے ضابطگیوں، کمیشن مافیا اور غیر قانونی پرائیویٹ منشیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.