بے نظیر بھٹو شہید کو رخصت ہوئے اٹھارہ برس بیت گئے

قائد جمہوریت، شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو رخصت ہوئے اٹھارہ برس بیت گئے
ان کی یاد تا زندگی رہے گی اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے ! آمین

مغرب کے وقت اچانک جڑواں شہروں میں عجیب سا ماحول بنا ایک طرف اسلام آباد ایکسپریس وے نزد کھنہ پل کے قریب ن لیگی ریلی پر فائرنگ اور حملہ تو دوسری جانب بم دھماکہ لیاقت باغ جلسہ گاہ کے باہر کی بازگشت ہر طرف افراتفری پھیل گئی گاڑیوں کے رش کی وجہ سے ٹریفک کا قبلہ بھی بگڑ چکا تھا ایسے میں میاں نواز شریف کو جب دھماکہ کی اطلاع ملی تو وہ بھی سیدھے اس وقت جسے سینٹر ہسپتال کہتے تھے بعد ازاں بی بی شہید کے نام سے منسوب کردیا گیا تو وہ بھی وہاں پہنچ گئے میں نے جیسے ہی بم دھماکے کی اطلاع ملی فورا گاؤں میں اپنے یونین کونسل کے چیئرمین محمد خان بھٹی صاحب کو اطلاع دی جنہوں نے بہت افسوس کیا زندگی میں پہلی بار دھڑے کی سیاست میں قومی سیاست کا رنگ سمجھ آیا کیونکہ انہوں نے کہا بہت دکھ کی بات ہے سیاسی لیڈر تھی ملک کا نقصان ہے فون بند کردیا گیا اسی وقت ہسپتال کے باہر ایک لیب کے مالک دوست کو کال کی تو انہوں نے بتایا کہ بی بی شہید ہوگئیں ہیں اور وہ مصروف ہیں گاڑیاں اور موٹر سائیکل ہٹانے کو میں نے اپنے ساتھ موجود چوہدری اویس سکائی ویز کو بتایا کہ بھائی جان خبر تو درست ہے دھماکہ بھی ہوا ہے اور شہادتیں بھی چونکہ چوہدری اویس قمر زمان کائرہ کے ننھیال اور سسرال دونوں سے قریبی رشتے دار ہیں پریشانی مذید بڑھ گئی اتنے میں کال آئی اور توقیر اشرف کائرہ کی شہادت نے مذید غمزدہ کردیا اب سوگوار تو ہم اور بھی زیادہ ہوگئے جبکہ صحافتی حوالے سے نوجوانوں تو تھے ہی لیکن اپنی عمر بھی کم تھی ۔

ادھر اس وقت کے تعلق دار اور استادوں جیسے بڑے بھائی جو ذمہ داریاں نبھا رہے تھے کے ساتھ بھی رابطہ رکھنا شروع کر دیا کیونکہ اس وقت انکی ٹیم کا حصہ تھا بی بی شہید کے پوسٹمارٹم کو لیکر زرداری صاحب نے انکار کردیا کہ ہم پوسٹمارٹم نئیں کروانا چاہتے جبکہ دوسری جانب پنجاب پولیس کے چند افسران پر الزام لگا کہ انہوں نے جائے حادثہ کو پانی سے صاف کرنا شروع کردیا ہے ادھر جسد خاکی تیار ہوا اور اسے ایک اعلی حساس ادارے کے افسر کی ہائی سیکیورٹی میں نور خان ائیرپورٹ پہنچانے کا ٹاسک ملا جنہوں نے بخوبی فرض ادا کیا مجھے زرائع سے پتہ چلا کہ جسد خاکی ائیر پورٹ پہنچ چکا ہے رات کے تقریبا دس بج چکے تھے اور میں نے بھی اپنے گھر کی جانب نکلنے کا ارادہ کیا ڈبل روڈ پر سکائی ویز کی ورکشاپ ہوتی تھی وہاں سے باہر نکل کر ٹیکسی لینے کی سوچ میں نکل آیا باہر کا ماحول تو شدید خوفزدہ کردینے والا تھا ہو کا عالم ڈبل روڈ مکمل سنسان اللہ کا نام لیا اور پیدل ہی چل پڑا اکا دکا موٹر سائیکل یا گاڑی والا گزرتا اور وہ بھی خود کے عالم میں بھاگم بھاگ اللہ اللہ کرکے شمش آباد ڈبل روڈ پوائنٹ پہنچا تو مری روڈ کا نقشہ مکمل تبدیل جگہ جگہ جلاؤ بپھرے جوانوں نے مظاہرے شروع کر رکھے تھے

ایک بابا جی بیچارے سائیکل پر جارہے تھے ان کو بھی دھکے دیکر گرا دیا گیا اس وقت کے ق لیگ کے سیاستدانوں کے بڑے بڑے ہورڈنگس پینا فلیکس کو پھاڑا جارہا تھا اور آگ لگا کر جلایا جارہا تھا منظر دیکھ کر اللہ پاک نے ذہن میں ڈالا اور راجہ راشد کی پینا فلیکس کے پیچھے چھپ گیا جو پیپلز پارٹی پی پی 14 کے ایم پی اے کے امیدوار تھے موقع دیکھ کر مری روڈ کراس کیا تو شمش آباد سے ڈہوک علی اکبر روڈ پر پہنچا

ایسے میں ایک ٹیکسی والے نے ٹرانسفارمر چوک کا راستہ پوچھا تو میں نے بھی فورا کرایہ پوچھ لیا وہ کہنے لگا بیٹھو بیٹھو جو مرضی دے دینا مجھے بھی یہاں سے نکالو دونوں غرض کے ماروں کو سہارا مل گیا یوں میں مری روڈ تک پہنچ گیا آگے کری روڈ پر بھی مظاہرین نے جلاؤ گھیراؤ کے لیے الاؤ جلا رکھے تھے اس کو میں نے ایک سیدھی لیکن تنگ سے گلی کا راستہ دکھا دیا تاکہ وہ محفوظ طریقے سے گھر کو پہنچ سکے اور جب میں گھر پہنچا تو ٹیلیویژن ان کیا پھر کیا تھا دل انتہائی اداس ایسے لگ رہا تھا جیسے سب کچھ اجڑ گیا ہو الزام اس وقت کی حکومت جنرل پرویز مشرف پر آیا لیکن بعد میں حکومت پیپلز پارٹی کی بنی اور زرداری صاحب پہلی بار صدارت کے عہدے پر براجمان ہوگئے یکن ملک کی ترقی کو ایسا ریورس لگا کہ اس وقت تک ملکی معیشت ہچکولے کھارہی ہے جب کہ بھٹوازم کو ل