بی ۔آر ۔بی بہتی رہے گی/اعظم احساس

1966ء کی بات ہے پاکستان نے بھارت سے نئی نئی جنگ جیتی تھی پاکستانی عوام کا جوش و جذبہ قابل دید تھا میں فیصل آباد میں تھا اور اس وقت میری عمر تیرہ چودہ برس ہو گی ٹیلی ویژن پاکستان میں نیا نیا متعارف ہوا تھا البتہ ریڈیو کچھ لوگوں کے پاس ضرور تھا جنگ کے دنوں لوگ دیوانہ وار عطیات جمع کرواتے ہوتے تھے جس سکول میں میں پڑھتا ہوتا تھا اس سکول کے طالب علم ایک گتے کا ڈبہ بناتے جس پر لکھا ہوتا ٹیڈی پیسہ ٹینک ۔ یہ ڈبہ پانچ پانچ طالب علم لے کر نکل جاتے اور ایک گھنٹے کے اندر ،جو عوام،راہگیر، مزدور اور ملز مالکان بطور عطیہ اس میں ڈالتے آکر سکول میں جمع کرواتے اور پھر واپس نکل جاتے قوم کی دیوانگی اور جذبہ حب الوطنی کا یہ حال تھا کہ اس وقت فیصل آباد میں جنگی جہازوں کے اڑنے اور لینڈ کرنے کا کوئی رن وے نہ تھا لہذا تمام مل مزدور،طالب علموں،جیل کے قیدیوں اور تمام لوگ معمول کے سارے کام چھوڑ کر فیصل آباد 12نمبر جا پہنچے جہاں اتنے لوگ رضا کارانہ طور پر جمع ہو گئے کہ بڑے جہاز کے اڑنے اور لینڈ کرنے کے لیے رن وے ایک دن میں مکمل ہو گیا اس وقت تحصیل گو جرخان کے اخترحسین کیانی آل پاکستان لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری اور سرگودھا ڈویژن کے صدر تھے جن کی کال پر تما م لیبرز نے لبیک کہا اور وہ رن وے ایک دن میں مکمل ہو گیا ۔
ان دنوں علامہ عنائیت اللہ مشرقی کے ناول بی۔ آر۔ بی بہتی رہے گی کے ناول کی بڑی دھوم تھی میری عمر اگرچہ ان دنوں ناول پڑھنے کی نہیں تھی تاہم میں نے وہ ناول اپنے محلے کی لائبریری سے کرائے پر لے کر پڑھا۔ مصنف اس میں جنگ کے دنوں کی کہانی بیان کرتا ہے جس میں آرمی کا ایک (ر) میجر مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
چھے ستمبر کی جنگ شروع ہو چکی تھی انڈیا کے میجر جنرل نرنجت پرشاد نے اپنی گیدڑ فوج سے وعدہ کیا ہوتا ہے کہ وہ انہیں چھ اور سات ستمبر کی درمیانی شب کی صبح ناشتہ لاہور میں کروائے گا لہذا انڈیا کی فوج اچانک پاکستان پر حملہ کر دیتی ہے اس (ر) میجر جو رضاکارانہ طور پر اپنا فرض سمجھتے ہوئے وزیر آباد کے پل کی حفاطت کر رہا ہوتا ہے اسے رات کے اندھیرے میں ایک نوجوان لڑکی ملتی ہے اپنے آپ کو نارووال کی رہائشی بتاتی ہے اور جنگ کی وجہ سے بارڈر ایریا پر حالات خراب ہونے کی وجہ سے اپنی جان و عزت بچانے کی استدعا کرتی ہے مصنف اپنے ناول میں لکھتا ہے کہ جنگ کے دنوں میں ایک ٹرین نے اسلحہ و بارود واہ فیکٹری سے لاہور اور سیالکوٹ پہنچانا ہوتا ہے یہ اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان اس جنگ کے لیے تیار ہی نہ تھااس ناول کے مطابق ایک نوجوان لڑکی کے چند جاسوسوں کے ساتھ اس مشن پر تھی کہ وہ اس ٹرین کو وزیر آباد والے پل پہ اڑا دے تاکہ پاکستان کے پاس اسلحہ و بارود وقت پر نہ پہنچ سکے لہذا دشمن کا وہ پورا گینگ متحرک ہو گیا اس لڑکی کا کام تھا کہ اس میجر کو روکے۔
وہ لڑکی اپنے آپ کو لٹی پٹی ظاہر کرتی ہے اور میجر سے پناہ دینے کی درخواست کرتی ہے تو وہ مجبوراً اسے اپنے گھر لے آتا ہے اتنے میں پاکستانی جنگی جہاز وہاں سے تیزی سے گزرتے ہیں اور وہ میجر جلدی سے اپنی ڈیوٹی پر جانے کے لیے نکلنا چاہتا ہے کہ وہ لڑکی اس کا وقت ضائع کرنے کے لیے اسے چمٹ جاتی ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے میجر لڑکی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے میں نے تمہیں پناہ دے دی اب میں نے ڈیوٹی پر جانا ہے مگر وہ ایک اور چال چلتی ہے اور میجر کو دعوت گناہ دیتی ہے وہ اپنے پیٹ سے قمیض اوپر سرکاتی ہے کہ وہ میجر اس کے پیٹ کے ساتھ بندھا ہوا وائر لیس سیٹ دیکھ لیتا ہے چند لمحوں کے لیے اس کا ضمیر متزلزل ہوتا ہے مگر جب تیسری بار جہاز وہاں سے تیزی سے گزرتے ہیں تو وہ تیزی سے دروازہ کھول کے پل کی جانب بھاگنے لگ پڑ تا ہے ریل کی پٹڑی کے ساتھ وہ تیزی سے بھاگ رہا ہوتاہے کہ راستے میں ایک مقام پر اس کا پاؤں تار سے الجھ جاتا ہے جسے دشمن نے ریل کی پٹٹی اڑانے کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے وہ خطر ے کو بھانپ جاتا ہے اور تار کو ڈاٹنا میٹ سے الگ کر دیتا ہے یوں وہ ٹرین اسی پل سے بخیر و عافیت گزر جاتی ہے لیکن وہ جاسوس گینگ اس میجر کو نشانہ بنا دیتے ہیں اوروہ شہید ہو جاتا ہے ۔بی آر بی نہر 1951ء میں دیکھنے کا موقع مجھے اس وقت ملا جب پی ٹی وی میجر عزیز بھٹی شہید پر ڈرامہ کیپچر کر رہاہوتا ہے عاصم شیرازی اس میں میجر عزیز بھٹی کا رول ادا کرتا ہے اور اس ڈرامے کی شوٹنگ کے لیے پی ٹی وی کی ٹیم بی آر بی نہر جاتی ہے بی آر بی آج بھی اسی روانی کے ساتھ بہہ رہی ہے اور پاکستانی عوام اور فوج کا جذبہ اور ولولہ آج بھی ویسا ہی ہے دعا ہے کہ بی آربی نہر اسی طرح بہتی رہے پاکستانی فوج اس ملک کی حفاظت کرتی رہے اور پاکستانی عوام اسی جذبے کے ساتھ سرشار رہیں جو جذبہ اس قوم نے 65ء کی جنگ میں دکھایا تھا پاکستان زندہ آباد پاک فوج پائندہ آباد ۔آخر میں چند اشعار پیارے پاکستان کے نام
تیری پکار پہ لبیک یوں کہوں گا میں، میرے وطن تیری حرمت پہ مر مٹوں گا میں
عطا کیے جو خدا نے تجھ کو میرے وطن، شیر و سرور محفوظ سونپ دوں گا میں{jcomments on}


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

اپنا تبصرہ بھیجیں