بلدیاتی اداروں کی بحالی‘پنجاب کی سیاست میں ہلچل

سپریم کورٹ کی طرف سے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کے فیصلے کے بعد سابق منتخب چیئرمین‘وائس چیئرمین سمیت میئر‘ ڈپٹی میئر کے گھروں میں مبارکبادیں دینے والوں کا تانتا بندھ گیا اب اس فیصلے کے بعد کیا موجودہ حکومت تمام نمائندوں کو دوبارہ سے چارج دے گی یا کوئی اور راستہ یا ہتھکنڈا استعمال کرے گی لیکن اس فیصلے نے پورے پنجاب کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے تمام یونین کونسلز ختم کر کے تحصیل کونسل میں ضم کر دی تھیں اور ایک نیا نظام متعارف کروا رہے تھے مگر حکومت اس نئے نظام کو قانونی شکل دینے میں ناکام رہی اور اب یہ عدالتی فیصلہ ایک نئے بحران کو جنم دے گا جسکی وجہ سے پنجاب میں موجودہ حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ پنجاب بھر میں اور خاص طور پر راولپنڈی کی ہم بات کریں تو 2015 میں منتخب ہونے والے اکثریتی بلدیاتی نمائندوں کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا جو اب دوبارہ بحال ہوگئے ہیں اب اگر عدالتی فیصلے کے بعد منتخب نمائندے چارج لے کر اپنے دفاتر میں چلے گئے تو پاکستان تحریک انصاف کو نیچے گراؤنڈ میں یعنی یونین کونسل کی سطح پر مستقبل قریب میں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا یعنی پاکستان تحریک انصاف جیسا کہ متعدد اپنی ڈائریوں میں بھی ذکر کرچکا ہوں کہ راولپنڈی کی دیہی سمیت شہری یونین کونسل میں بھی ایک ایک یوسی میں تین سے چار لوگ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہاں ہیں ایسے میں مسلم لیگ ن کے نمائندوں کا دوبارہ سے بحال ہونا اور ترقیاتی کاموں سمیت دیگر کام انکی نگرانی ہونا کسی صورت وہ برداشت نہیں کریں گے اور پارٹی سے انکے اختلافات سمیت دیگر غلط فہمیاں جنم لیں گی جو آنے والے قومی الیکشن سمیت بلدیاتی انتخابات میں بھی نقصان کا باعث ثابت ہوگی دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کو اس کا بہت فائدہ ہونے والا ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ فیصلہ آنے کے بعد کہ بلدیاتی نمائندوں کو کتنا وقت ملتا ہے یعنی کتنے وقت تک وہ اپنے عہدے پر دوبارہ برقرار رہ سکیں گے لیکن جو بھی وقت ملا اگر ان منتخب نمائندوں نے عوام کے وہ تمام ترقیاتی کام جو سیاسی اختلافات کی نظر ہوئے یا کسی اور وجہ سے رکے رہے انکو کروا دیتی ہے اور باقی تمام تر ترقیاتی کام جو ہورہے اپنی نگرانی میں کروائے تو اس سے ووٹر کو دوبارہ سے مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کے لیے راضی کر لیں گے اور اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور یقینی طور پر اسکا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہوگا اور عوام کو بھی بلدیاتی نظام کی بحالی کا فائدہ ہوگا کیونکہ بلدیاتی نظام کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے عوام کے مسائل براہ راست منتخب نمائندوں تک پہنچتے ہیں اور ان مسائل کو حل بھی ہوتا ہے مگر اس ساری صورتحال میں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ این اے 59 اور 63 کی بہت سی یونین کونسل میں یہ منتخب چیئرمین، وائس چیئرمین سمیت دیگر بلدیاتی نمائندے تاحال چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ہیں اور ان سے اپنی وفاداری قائم کیے ہوئے ہیں اور انکا موقف بھی یہی ہے کہ وہ اپنی سیاست داو پر لگا دیں گے مگر چوہدری نثار علی خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے جن میں یونین کونسل

ساگری، یونین کونسل دھاماں سیداں، یونین کونسل چکری، یونین کونسل چک جلال دین، یونین کونسل کوٹھہ کلاں 2، سمیت دیگر بہت سی یونین کونسل شامل ہیں تو کیا ایسے میں جب میئر سمیت دیگر بلدیاتی نمائندے مسلم لیگ ن کے ہونگے تو کیا جو ان کچھ یونین کونسل کے نمائندے چوہدری نثار علی خان کے حامی و وفادار ہیں انکو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہوں گے یا پھر یہ نمائندے ایسے ہی چوہدری نثار علی خان کے ساتھ شامل رہیں گے لیکن یہ ساری صورتحال تب پیش آتی جب
حکومت دوبارہ انکو چارج دے گی اب دیکھتے ہیں کہ حکومت انکو دوبارہ چارج دیتی ہے یا اپیل سمیت دیگر کوئی راستہ نکالتی ہے لیکن دونوں صورتوں میں تاحال حکومت مشکلات کا شکار نظر آرہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں