برطانیہ میں سکیورٹی پر خرچ کرنا اب لگژری نہیں بلکہ ایک مجبوری بن چکا ہے

انجینئر بخت سید یوسفزئی –

برطانیہ کی معروف سپر مارکیٹ چین اسڈا (Asda) نے بڑھتے ہوئے جرائم اور چوری کے واقعات کے پیش نظر اپنی اسٹور سکیورٹی کی ذمہ داری اب ایک نجی سہولتی ادارے مائٹی (Mitie) کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایک طویل المدتی اور کثیر سالہ معاہدے کے تحت ملک بھر میں اسڈا کے ہزار سے زائد اسٹورز کی نگرانی کرے گا۔

اس معاہدے کے تحت مائٹی کو اسڈا کے تقریباً 1,100 سپر اسٹورز، سپر مارکیٹس، لیونگ اسٹورز اور ایکسپریس اسٹورز میں سکیورٹی خدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانا اور صارفین و عملے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

مائٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسڈا کو ایک جدید اور ڈیٹا پر مبنی سکیورٹی ماڈل کی طرف منتقل کرے گا، جس میں روایتی نگرانی کے بجائے نتائج پر مبنی حکمت عملی اپنائی جائے گی، تاکہ سکیورٹی اقدامات زیادہ مؤثر اور بروقت ثابت ہوں۔

(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

اس نئے نظام میں سب سے اہم پہلو “فلیکسبل گارڈنگ” ہوگا، جس کے تحت سکیورٹی گارڈز کو ان اسٹورز میں زیادہ تعینات کیا جائے گا جہاں جرائم اور چوری کے واقعات زیادہ رپورٹ ہو رہے ہوں گے، تاکہ وسائل کا درست استعمال ممکن ہو اور کم خطرے والے علاقوں میں غیر ضروری نفری کم رکھی جا سکے۔

اس کے علاوہ خصوصی اسٹور ڈیٹیکٹوز بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں، جو ڈیٹا اور تجزیے کی بنیاد پر مخصوص علاقوں میں چوری کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں کریں گے، تاکہ پیشہ ور چوروں، گروہوں اور بار بار جرم کرنے والوں کو بروقت شناخت کر کے روکا جا سکے۔

اسڈا کے تمام اسٹورز کو ایک مرکزی 24 گھنٹے فعال آپریشن ہب سے منسلک کیا جائے گا، جہاں سے ریموٹ مانیٹرنگ کی جائے گی، لائیو فیڈ دیکھی جائے گی اور کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری ردعمل ممکن ہوگا۔

اس معاہدے کے نتیجے میں اسڈا کے تقریباً دو ہزار سے زائد سکیورٹی گارڈز مائٹی میں منتقل ہو جائیں گے، جس سے ایک طرف ملازمین کی نوکریاں محفوظ رہیں گی اور دوسری طرف سکیورٹی کا مکمل انتظام ایک ہی ادارے کے تحت آ جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ بھر میں ریٹیل جرائم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، خاص طور پر سپر مارکیٹس اور بڑے اسٹورز میں چوری، دھوکہ دہی اور عملے کو ہراساں کرنے کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق انگلینڈ میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں پاؤنڈ مالیت کا سامان چوری ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف کاروبار کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ عملے اور صارفین دونوں کے لیے خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا ہو رہا ہے۔

اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اشیائے خورونوش، دودھ، روٹی، سبزیوں اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عام آدمی کی قوتِ خرید تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔

جب لوگوں کے پاس ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے پیسے کم ہوں تو بعض افراد مجبوری میں یا عادتاً چوری جیسے جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جو معاشرتی بگاڑ اور معاشی ناکامی کی واضح علامت ہے۔

مہنگائی کے علاوہ بے روزگاری، کم اجرتیں، بڑھتے ہوئے کرائے، انرجی بلز، ٹیکسوں کا بوجھ اور سماجی عدم مساوات بھی ایسے عوامل ہیں جو جرائم میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں اور معاشرے میں بے چینی کو جنم دے رہے ہیں۔

برطانیہ میں اس وقت زندگی گزارنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کے لیے، جنہیں روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کئی خاندان خیراتی اداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسی لیے بڑے کاروباری ادارے جیسے اسڈا اب اپنی سکیورٹی کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں، کیونکہ انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ اگر حفاظتی اقدامات مضبوط نہ کیے گئے تو نہ صرف مالی نقصانات بڑھیں گے بلکہ عملے کے لیے کام کرنا بھی خطرناک ہوتا جائے گا۔

یہ صرف اسڈا تک محدود نہیں بلکہ ٹیسکو، سینزبری، مارکس اینڈ اسپینسر اور دیگر بڑی ریٹیل چینز بھی اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر ازسرنو غور کر رہی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں۔

سی سی ٹی وی کیمروں کے علاوہ اب چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سینٹرل کنٹرول رومز کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے، تاکہ مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔

مائٹی (Mitie) جیسے ادارے اس رجحان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف گارڈ فراہم کرتے ہیں بلکہ مکمل سکیورٹی سسٹم، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، رسک اسیسمنٹ اور اسٹریٹجک پلاننگ بھی ڈیزائن کرتے ہیں، جو بڑے اداروں کے لیے ایک جامع حل بن چکا ہے۔

تاہم کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی میں اضافہ مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ اصل مسئلہ معاشی بحران ہے، جسے حل کیے بغیر جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، کیونکہ غربت اور مایوسی جرم کی بنیادی جڑ ہیں۔

اگر حکومت مہنگائی پر قابو پائے، لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرے، کم از کم اجرت میں اضافہ کرے اور بنیادی سہولیات کو سستا بنائے تو جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور معاشرے میں اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

مگر موجودہ حالات میں کاروباری ادارے مجبور ہیں کہ وہ خود اپنی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کریں، کیونکہ نقصانات اب ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکے ہیں اور ہر سال اربوں پاؤنڈ کا سامان چوری ہو رہا ہے۔

اسڈا کا یہ فیصلہ دراصل موجودہ انگلینڈ کی معاشرتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں جرائم ایک معمول بنتے جا رہے ہیں اور سکیورٹی ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے، جو پہلے صرف مخصوص علاقوں تک محدود سمجھی جاتی تھی۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کے دور میں برطانیہ میں سکیورٹی پر خرچ کرنا اب لگژری نہیں بلکہ ایک مجبوری بن چکا ہے، کیونکہ ہر ادارہ اپنی ساکھ، عملے کے تحفظ اور صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

مستقبل میں اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو ممکن ہے مزید ادارے بھی اسی طرح اپنی سکیورٹی آؤٹ سورس کرنے پر مجبور ہو جائیں، اور پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیاں سماجی ڈھانچے میں پہلے سے زیادہ طاقتور کردار ادا کرنے لگیں۔

کیونکہ یہ مسئلہ اب صرف کاروبار کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ بن چکا ہے، اور جب تک مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام جیسے بنیادی عوامل پر قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک چاہے جتنی بھی سکیورٹی بڑھا لی جائے، جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں