برطانیہ جہاں لوگ مسکراتے کم اور فیصلہ زیادہ کرتے ہیں، وہاں پہنچنا میرے لیے ایک نیا اور کبھی کبھار حیران کن تجربہ رہا

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

جہاں لوگ مسکراتے کم اور فیصلہ زیادہ کرتے ہیں، وہاں پہنچنا میرے لیے ایک نیا اور کبھی کبھار حیران کن تجربہ رہا۔ میں نے برطانیہ میں کئی سال گزارے ہیں، اور یہ سمجھنا وقت طلب رہا کہ یہاں کے لوگ صرف ظاہری مہذب رویے کے مالک نہیں، بلکہ ان کے اندر ایک منفرد ثقافتی نظم اور خاموش طاقت بھی موجود ہے۔ ہم میں سے تقریباً ہر فرد کا خواب ہوتا ہے کہ کسی طرح یو کے پہنچ جائے، مگر یہاں آ کر محسوس ہوتا ہے کہ صرف پہنچنا کافی نہیں، بلکہ اس کلچر کو سمجھنا اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

میں نے یہاں رہتے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ بھی یاد کیا۔ ایک بار اسکول کے وقت، ایک بزرگ خاتون رضاکار کی حیثیت سے پیدل چلنے والوں کو کراس کرنے میں مدد کر رہی تھی اور ایک بینر پر لکھا تھا “Stop”۔ میں نے گاڑی روکنے کے بجائے آگے بڑھا دیا، اور وہ مجھے غور سے دیکھ رہی تھی۔ میں نے کراس کرنے کے بعد شکریہ کہا، اور بعد میں مجھے پتا چلا کہ ہر حال میں “Stop” کرنا لازمی تھا۔ یہ واقعہ مجھے اب بھی یاد آتا ہے اور اس پر میں ہنس پڑتا ہوں۔ ایسے کئی موقعے یہاں آئے ہیں جو ابتدا میں چھوٹے لگتے ہیں مگر بعد میں بڑے ثقافتی سبق بن جاتے ہیں۔

برطانیہ دنیا بھر میں تہذیب، شائستگی اور “Sorry” کے استعمال کی مثال کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میں نے خود کئی مواقع پر دیکھا ہے کہ اگر آپ کسی سے ٹکر مار جائیں یا معمولی غلطی کر بیٹھیں، تو وہ شخص فوراً معذرت کر لیتا ہے، لیکن دل ہی دل میں وہ آپ کو زندگی بھر کے لیے ناپسند کر سکتا ہے۔ یہ رویہ مجھے ابتدا میں عجیب لگتا تھا، مگر وقت کے ساتھ سمجھ آیا کہ یہ معاشرتی نظم اور شائستگی کا حصہ ہے۔

برطانوی قوم کا سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ وہ غصہ یا ناراضگی کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ اسے اندر جمع کر لیتے ہیں۔ میں نے کئی بار ایسے منظر دیکھے ہیں جہاں کوئی اچانک زور سے بات کرے، اور اردگرد کے لوگ خاموشی سے ایسے گھورتے ہیں جیسے قومی سلامتی پر خطرہ پیدا ہو گیا ہو۔ پہلی بار میں نے یہ دیکھا تو حیران رہ گیا، مگر بعد میں سمجھ آیا کہ یہ خاموش ردعمل ان کی ثقافت کا حصہ ہے، اور اسی میں ان کی انفرادیت چھپی ہوئی ہے۔

یہاں کی قطاریں یا “queues” تقریباً مذہبی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں نے خود بارہا تجربہ کیا کہ اگر لائن توڑ دی جائے، تو کوئی لفظ نہیں بولے گا، مگر نظریں ایسی ہوں گی کہ فوراً شرمندگی محسوس ہو۔ یہ ایک نرمی اور خاموشی کے ساتھ دی جانے والی تنبیہ ہے، جو باہر سے آنے والے کو فوراً اپنی غلطی کا احساس دلا دیتی ہے۔

برطانیہ میں لوگ جذبات کم اور طنز زیادہ رکھتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ اگر کوئی دوست یا ساتھی کہے “Interesting”، تو اس کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ بات فضول یا غیر ضروری تھی۔ یہاں تعریف بھی محتاط انداز میں دی جاتی ہے، کیونکہ زیادہ تر جملے الٹی تلوار کی طرح واپس آ جاتے ہیں۔ اس سے سیکھنے کو ملا کہ یہاں ہر لفظ پر سوچنا ضروری ہے۔

اور پھر شراب کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ ہفتے کے دن یہ خاموش، مہذب لوگ اچانک سڑکوں پر گرتے، گاتے اور دوستوں سے بحث کرتے نظر آتے، کہہ رہے ہوتے ہیں “نہیں، میں بالکل ٹھیک ہوں”، جبکہ زمین ان کے نیچے گھوم رہی ہوتی ہے۔ اس کو دیکھ کر مجھے برطانوی مزاج کی تفریحی مگر شائستہ پہلو کا اندازہ ہوا۔

برطانوی موسم بھی ان کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ نہ مکمل خوش، نہ مکمل ناراض۔ سورج نکلے تو لوگ حیران، بارش ہو تو معمول کی بات۔ میں نے سیکڑوں بار محسوس کیا کہ یہی اعتدال پسند رویہ لوگوں کو صبر و تحمل سکھاتا ہے۔ یہاں چائے صرف مشروب نہیں بلکہ جذباتی سہارا اور روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔

یہاں کے لوگ خاموش پاگل پن کے مالک ہیں۔ میں نے کئی بار محسوس کیا کہ برطانوی لوگ اونچی آواز سے نہیں بلکہ خاموشی سے پاگل ہوتے ہیں، اور یہ پاگل پن بھی انتہائی شائستگی اور نظم کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ باہر سے آنے والے اکثر حیران رہ جاتے ہیں، مگر یہ ان کی روزمرہ زندگی کا معمول ہے۔


بات چیت کے دوران مسکراہٹ کم اور احتیاط زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے خود کئی بار دیکھا کہ یہاں لوگ جلد بازی یا جذبات میں فیصلے نہیں کرتے، بلکہ خاموش مشاہدے اور محتاط ردعمل کے بعد فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ رویہ ابتدا میں مجھے غیر معمولی لگا، مگر بعد میں سیکھا کہ یہ صبر اور سوچ کی علامت ہے۔

دوستی کا انداز بھی منفرد ہے۔ میں نے اپنے کئی دوست بنائے ہیں، اور ابتدا میں وہ جلد اپنا دل نہیں کھولتے، مگر جب تعلق مضبوط ہو جائے، تو اعتماد اور وفاداری میں مثال قائم کر دیتے ہیں۔ یہ مجھے سکھاتا ہے کہ یہاں تعلق بنانے میں وقت لگتا ہے، مگر مضبوط تعلق ہمیشہ دیرپا اور قابل اعتماد ہوتا ہے۔


یہاں کا عوامی ٹریفک اور روڈ کلچر بھی انتہائی منظم اور قابل تقلید ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ لوگ ٹریفک قوانین کی پابندی اور نظم و ضبط میں ایسے ماہر ہیں کہ کبھی کبھار باہر سے آنے والے مسافر حیران رہ جاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں نظم و ضبط کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

عوامی جگہوں پر آواز بلند کرنے یا اپنی رائے زور سے پیش کرنے کا رجحان کم ہے۔ میں نے بارہا محسوس کیا کہ زیادہ تر لوگ خاموشی سے اپنے مشاہدے اور احساسات کو جمع رکھتے ہیں، اور کبھی کبھار چھوٹے اشارے یا جسمانی زبان کے ذریعے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

مزاح اور طنز کا استعمال بھی یہاں نرمی اور باریکی سے ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے طنزیہ جملے سامنے والے کو فوراً سمجھا دیتے ہیں، مگر کسی کی توہین یا بے عزتی نہیں کرتے۔ یہ معاشرتی مہارت اور شائستگی کی اعلیٰ مثال ہے۔


برطانیہ کے لوگ جذباتی طور پر کم مگر مشاہدے میں تیز ہیں۔ میں نے خود محسوس کیا کہ ہر چھوٹی حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے، اور ہر غیر معمولی فعل کو فوراً نوٹ کر لیا جاتا ہے۔ یہی خاموش نگرانی انہیں مختلف ماحول میں محفوظ اور منظم رکھتی ہے۔

ریستوران اور کیفے میں بھی میں نے یہ نظم و ضبط محسوس کیا۔ لوگ زیادہ بات نہیں کرتے، مگر کام اور آرڈر کی رفتار بے حد منظم اور مہذب ہوتی ہے۔ یہ مجھے سکھاتا ہے کہ یہاں کا ہر عمل ایک اصول کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔

چھوٹے چھوٹے معاملات جیسے لائن کا احترام، دروازہ کھولنا، یا کسی کو راستہ دینا، میں نے محسوس کیا کہ یہاں معاشرتی آداب اور شائستگی کی علامت ہیں۔ ہر عمل میں احتیاط اور مہارت چھپی ہوئی ہے، جو معاشرتی نظم کا حصہ ہے۔

سڑکوں پر چلنے والے افراد بھی اپنے رویے میں محتاط اور سوچ سمجھ کر حرکت کرتے ہیں۔ میں نے خود کئی بار دیکھا کہ لوگ ہنس سکتے ہیں یا بات کر سکتے ہیں، مگر ہر عمل میں شائستگی اور حدود کا خیال رکھتے ہیں۔

یہاں لوگ تنقید کرنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ میں نے بارہا دیکھا کہ وہ براہِ راست سخت الفاظ استعمال نہیں کرتے، بلکہ ہلکی ہلکی سرزنش یا طنزیہ جملے استعمال کرتے ہیں، جس سے سامنے والا فوراً سمجھ جائے کہ اعتراض کیا گیا ہے، مگر کسی قسم کی بے ادبی نہیں ہوئی۔

برطانیہ میں رہتے ہوئے میں نے یہ سیکھا کہ لوگ اپنے جذبات کو اندر دبانے میں ماہر ہیں۔ وہ اپنی ناراضگی یا مایوسی کو فوری ظاہر نہیں کرتے، بلکہ صبر و تحمل کے ساتھ حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور مناسب وقت پر ردعمل دیتے ہیں۔

لوگوں کے ساتھ تعلق قائم کرنا آسان نہیں، مگر میں نے دیکھا کہ ایک بار تعلق مضبوط ہو جائے تو بے حد وفادار اور قابل اعتماد ہو جاتے ہیں۔ یہ رویہ برطانیہ کی مہذب اور متوازن معاشرت کی ایک نمایاں مثال ہے۔

یہاں لوگ خاموش اور مہذب رہنے کے باوجود ہر چھوٹے بڑے واقعے پر نظر رکھتے ہیں اور کسی بھی غیر معمولی حرکت کو فوراً نوٹ کر لیتے ہیں۔ میں نے یہ مشاہدہ کئی بار کیا ہے اور محسوس کیا کہ اسی رویے سے معاشرتی نظم قائم رہتا ہے۔

برطانیہ وہ ملک ہے جہاں لوگ اونچی آواز سے نہیں بلکہ خاموشی سے پاگل ہوتے ہیں، اور یہ خاموش پاگل پن ان کی شخصیت کا سب سے بڑا حسن ہے۔ میں نے اپنے کئی سال یہاں گزارے ہیں اور یہ تجربہ ہمیشہ میرے لیے دلچسپ، تعلیمی اور کبھی کبھار حیران کن رہا ہے۔