حفصہ اقبال
وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے… مگر کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی عظمت ہمیشہ ایک جیسی رہنی چاہیے۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ مگر دل پر ہاتھ رکھ کر اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب سی کسک محسوس ہوتی ہے۔
مجھے آج بھی وہ وقت ہلکا سا یاد ہے… جب “استاد” واقعی استاد ہوا کرتا تھا۔ خاص طور پر ایف۔ایس۔سی کے دور تک میں نے اس عظمت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ اساتذہ علم کے ساتھ ساتھ کردار بھی بناتے تھے، شاگرد کی کامیابی پر فخر کرتے تھے، اور اس کی ہر کامیابی کو اپنی محنت کا صلہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں خلوص تھا، باتوں میں وزن تھا، اور دل میں صرف شاگرد کی بہتری کی خواہش۔
اسی سفر میں میرے اسکول کے ایک قابلِ احترام استاد، سر وقاص، بھی ہمیشہ یاد رہیں گے۔ وہ صرف ایک استاد نہیں تھے بلکہ ایک مخلص رہنما تھے، جنہوں نے مجھے ہمیشہ آگے بڑھتے دیکھنے کی خواہش کی۔ ان کی یہ خواہش میرے لیے حوصلہ بنی، اور آج بھی ان کی باتیں میرے لیے روشنی کا ذریعہ ہیں
مگر جیسے جیسے وقت آگے بڑھا، کچھ بدلنے لگا…استاد اور شاگرد کا وہ خالص رشتہ کہیں کہیں کمزور پڑنے لگا۔ بعض مقامات پر یہ محسوس ہونے لگا کہ تعلق خلوص سے ہٹ کر صلاحیتوں کے موازنہ تک محدود ہو گیا ہے۔ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کہیں کہیں یہ رشتہ شاگرد کی قابلیت کی بنیاد پر حسد کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔
یہ الفاظ لکھنا آسان نہیں…بلکہ بہت دکھ اور شرمندگی کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ میں خود بھی ایک استاد ہوں، اور اس عظیم پیشے سے وابستہ ہوں۔ یہ احساس دل کو اور بھی بوجھل کر دیتا ہے کہ جس رشتے کو مثالی ہونا چاہیے، اس پر ایسے سوالات اٹھنے لگیں۔
لیکن حقیقت کا سامنا کرنا بھی ضروری ہے۔
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اپنے شاگردوں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں؟ کیا ہم ان کی ترقی کو دل سے قبول کرتے ہیں؟ یا کہیں نہ کہیں ہمارا نفس ہمیں پیچھے کھینچ لیتا ہے؟
اسی کے ساتھ یہ بھی ایک روشن حقیقت ہے کہ آج بھی ایسے اساتذہ موجود ہیں جو اپنے شاگردوں کے لیے بے حد مخلص ہیں۔ میرے اپنے تعلیمی سفر میں بھی ایسے کئی قابلِ احترام اساتذہ شامل ہیں جو مجھے آج بھی اعلیٰ مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں، جو میری کامیابی کو اپنی دعا سمجھتے ہیں، اور جن کی رہنمائی میرے لیے سرمایۂ حیات ہے۔
تاہم، یہ بھی ایک سچ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عظیم رشتے کو دوبارہ اس کی اصل روح کے مطابق زندہ کریں۔ خود احتسابی کریں، اپنے رویوں کو بہتر بنائیں، اور شاگرد کے دل میں اعتماد اور احترام کو مضبوط کریں۔
کیونکہ استاد صرف پڑھانے والا نہیں ہوتا…وہ نسلیں بنانے والا ہوتا ہے۔
حفصہ اقبال راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی طالبہ ہیں