تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور دنیا بھر کے تجزیہ کار اس صورتحال کو انتہائی تشویش اور سنجیدگی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جو پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات اور طاقت کی کشمکش کا مرکز رہا ہے، اب ایک نئی ممکنہ جنگ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ اس تمام منظرنامے نے نہ صرف خطے بلکہ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی بے چینی کی ایک واضح لہر پیدا کر دی ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی کاؤنٹر ٹیررازم کے اعلیٰ عہدیدار جو کینٹ کے اچانک اور تہلکہ خیز استعفے نے اس کشیدگی کو مزید پراسرار اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ محض ایک سرکاری تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ بن چکا ہے جس نے امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کے پسِ پردہ عوامل پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے جواب ابھی تک واضح نہیں ہو سکے۔
جو کینٹ نے اپنے بیان میں یہ چونکا دینے والا دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے کوئی فوری یا براہِ راست خطرہ موجود نہیں تھا، جس کی بنیاد پر جنگ جیسے انتہائی اقدامات کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب انٹیلی جنس معلومات کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا پھر ان کی ایسی تشریح کی گئی جو مخصوص پالیسی فیصلوں کے حق میں جاتی تھی۔
یہ بیان اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسے شخص کی طرف سے سامنے آیا ہے جو نہ صرف امریکی سیکیورٹی اداروں کے اندرونی معاملات سے بخوبی واقف تھا بلکہ حساس معلومات تک براہِ راست رسائی بھی رکھتا تھا۔ ان کے الفاظ نے نہ صرف عام عوام بلکہ پالیسی سازوں، ماہرین اور عالمی میڈیا کے درمیان بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
جو کینٹ کے مطابق، ایران کے خلاف سخت اقدامات دراصل اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ تھے، جو خطے میں اپنے سیکیورٹی خدشات کے باعث امریکہ سے مزید جارحانہ پالیسی اپنانے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ یہ دعویٰ اگرچہ ماضی میں بھی مختلف تجزیوں میں سامنے آتا رہا ہے، مگر ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کی جانب سے اس کی کھلی تصدیق نے اسے غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔
امریکی حکومت کے اندر اس معاملے پر اختلافات کی خبریں بھی شدت سے سامنے آ رہی ہیں، جہاں کچھ حلقے ایران کو ایک حقیقی اور فوری خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ مخصوص جغرافیائی اور سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ یہ اندرونی تقسیم خود امریکی پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
ان اختلافات نے نہ صرف پالیسی سازی کے عمل کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا فیصلے واقعی زمینی حقائق اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں یا پھر اتحادیوں کے دباؤ اور اندرونی سیاسی مفادات ان پر غالب آ چکے ہیں۔
ایران کی جانب سے بھی اس صورتحال پر سخت اور واضح ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جنگ کے خواہاں نہیں، لیکن اپنی خودمختاری، علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار بھی نہیں ہیں، جس سے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خطے میں پہلے ہی موجود کشیدگی، جیسے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات، شام، عراق اور یمن کے جاری تنازعات، اس صورتحال کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایسی فضا میں ایک معمولی غلطی یا غلط اندازہ بھی بڑے پیمانے پر تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے جھٹکے محسوس کرے گی، خاص طور پر وہ ممالک جو توانائی اور تجارتی راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، اور مالیاتی منڈیوں میں شدید عدم استحکام ایسے ممکنہ نتائج ہیں جو عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی بحران کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، اس ممکنہ جنگ کا انسانی پہلو بھی نہایت خوفناک ہو سکتا ہے، جہاں لاکھوں افراد بے گھر ہونے، خوراک اور ادویات کی قلت، اور بنیادی سہولیات کی تباہی جیسے مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی اس حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔
جو کینٹ کے انکشافات نے امریکی عوام کے اندر بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا ان کے ملک کو ایک غیر ضروری اور طویل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس کے نتائج نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
کانگریس کے کچھ اراکین نے اس معاملے پر باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اصل حقائق کیا ہیں، اور آیا پالیسی فیصلے شفاف طریقے سے کیے گئے یا نہیں۔ یہ مطالبہ جمہوری عمل کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
دوسری جانب، کچھ سیاسی حلقے جو کینٹ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ذاتی رائے قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں تمام معلومات عوام کے سامنے نہیں لائی جا سکتیں، اور بعض فیصلے خفیہ بنیادوں پر ہی کیے جاتے ہیں۔
تاہم، اس بحث نے ایک اہم اور بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا جمہوری نظام میں عوام کو ایسے اہم اور حساس فیصلوں کے بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہیے یا نہیں، خاص طور پر جب ان فیصلوں کے اثرات پوری قوم پر مرتب ہوتے ہوں۔
ایران کے ساتھ کشیدگی کی تاریخ بھی خاصی طویل اور پیچیدہ رہی ہے، جس میں مختلف ادوار میں تعلقات میں بہتری اور خرابی آتی رہی ہے۔ مگر موجودہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نازک اور غیر متوقع دکھائی دیتی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ خطے میں بدلتے ہوئے اتحاد، نئی سفارتی صف بندیاں، اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت بھی ہے، جس نے حالات کو مزید غیر یقینی اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
چین اور روس جیسے ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور اگر کوئی بڑا تصادم ہوتا ہے تو ان کا کردار نہایت اہم ہو سکتا ہے، جو عالمی طاقتوں کے توازن کو مزید متاثر کرے گا۔
یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران جنگ 2026 محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا ممکنہ عالمی بحران ہے جس کے اثرات ہر براعظم تک پہنچ سکتے ہیں۔
عالمی برادری کے لیے یہ ایک کڑا امتحان ہے کہ وہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کس حد تک مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ سفارتی کوششیں، مذاکرات، اور ثالثی اس وقت انتہائی ضروری ہو چکے ہیں تاکہ جنگ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
جو کینٹ کا استعفیٰ ایک اہم وارننگ سائن کے طور پر سامنے آیا ہے، جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید حقیقت وہ نہیں جو بظاہر دکھائی جا رہی ہے، بلکہ اس کے پیچھے کئی پوشیدہ عوامل اور مفادات کارفرما ہیں۔
دنیا اس وقت ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، اور آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ آیا انسانیت ایک اور بڑی جنگ کی طرف بڑھے گی یا عقل، تدبر اور سفارتکاری کے ذریعے امن اور استحکام کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔