انسان اس دنیا میں کیوں آتا ہے؟

انسان، مقصدِ حیات اور ہمارا زمینی نظام

انسان اس دنیا میں کیوں آتا ہے؟
یہ سوال صدیوں سے فلسفے اور مذہب کا موضوع رہا ہے، مگر اگر ہم اسے مذہبی اور اخروی تناظر سے ہٹا کر محض دنیاوی زندگی کے دائرے میں دیکھیں تو جواب خاصا سادہ نظر آتا ہے۔ انسان بہتر زندگی کے لیے جیتا ہے۔ اچھی تعلیم، مناسب صحت، بنیادی سہولتیں اور مستقبل کا تحفظ وہ خواہشات ہیں جو ہر انسان کے دل میں مشترک ہوتی ہیں۔ یہی وہ مقاصد ہیں جن کے لیے انسان اپنی پوری زندگی جدوجہد کرتا ہے، محنت کرتا ہے اور خواب دیکھتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ خواب سب کے لیے ایک جیسے پورے نہیں ہوتے۔ ہم سب بظاہر ایک جیسے انسان ہوتے ہیں، ایک ہی زمین پر پیدا ہوتے ہیں، ایک ہی ہوا میں سانس لیتے ہیں، مگر زندگی ہمیں یکساں مواقع فراہم نہیں کرتی۔ کوئی حکمرانی کے ایوانوں تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی ساری عمر محکومی کے دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ کوئی طاقت کا استعارہ بن جاتا ہے اور کوئی مظلوم کہلاتا ہے۔ کوئی دولت کے انبار لگا لیتا ہے اور کوئی علم، قابلیت اور محنت کے باوجود محرومی کی صف میں کھڑا رہتا ہے۔

یہاں سوال فرد کا نہیں، نظام کا ہے۔ وہ نظام جس میں اہلِ علم، اہلِ فکر اور اہلِ صلاحیت کو سر جھکائے کھڑا ہونا پڑتا ہے اور صاحبِ ثروت و طاقت کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ علم کی توقیر زبانی دعووں تک محدود رہ جاتی ہے اور عملی زندگی میں اصل طاقت دولت، اثر و رسوخ اور سیاسی تعلقات کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ سچائی اب کسی اخلاقی قدر کا نام نہیں رہی، بلکہ وہ تجارت، کاروبار اور سیاست کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

ہمارے معاشرے میں نسل در نسل ایسی تربیت کی جاتی ہے جس میں سوال کرنے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ طاقت کے سامنے سر جھکانا عقلمندی ہے، کرسی والوں سے فاصلہ رکھنا ضروری ہے اور بندوق والوں سے نظریں ملانا خطرناک۔ یوں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو بظاہر زندہ ہوتا ہے، مگر اندر سے خوف اور مصلحت کا شکار رہتا ہے۔

عوام کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ووٹ ان کی طاقت ہے۔ انتخابات کے دن عوام اس طاقت کا استعمال بھی کرتے ہیں، مگر اس کے بعد یہی عوام منتخب نمائندوں کے دروازوں پر اپنے ہی بنیادی مسائل کے حل کے لیے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ طاقت کا یہ توازن سوالیہ نشان بن جاتا ہے کہ اگر اصل اختیار عوام کے پاس ہے تو پھر عزت، سہولت اور انصاف کے لیے ہاتھ کیوں پھیلانے پڑتے ہیں؟

یہاں سے اجتماعی بے چینی جنم لیتی ہے۔ لوگ خود سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ ہم کون ہیں، ہماری حیثیت کیا ہے اور ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ عوام کی طاقت محض نعروں تک محدود کیوں ہے؟ ہمارا وقار کن فائلوں اور کن دفتری کمروں میں دفن ہو چکا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ یہ سسٹم آخر ہے کیا اور کس کے لیے کام کر رہا ہے؟

سسٹم کی فراہم کردہ سہولتیں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت، تعلیمی اداروں کا معیار اور روزگار کے مواقع سب کے سامنے ہیں۔ ایک طرف حکمرانوں کی زندگیاں ہر دور میں بدلتی رہتی ہیں، ان کے طرزِ زندگی، سہولتیں اور تحفظ میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف عوام کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، ناقص علاج اور غیر معیاری تعلیم عوام کا مقدر بن چکے ہیں۔

سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں قابلیت کے بجائے خوشامد کو فوقیت حاصل ہے۔ عقل، دیانت اور محنت کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ چاپلوسی کو مہارت کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس ماحول میں وہ لوگ سب سے زیادہ مایوس ہوتے ہیں جو علم اور صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، مگر انہیں راستے میں بند دروازے اور اونچی دیواریں ملتی ہیں۔

ایسے حالات میں یہ سوال غیر اہم ہو جاتا ہے کہ لوگ اس ملک میں رہیں یا اسے چھوڑ دیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلسل محرومی اور ناانصافی انسان سے اس کا احساسِ تعلق چھین لیتی ہے۔ جسم چاہے اسی زمین پر رہے، مگر دل آہستہ آہستہ ہجرت کر جاتا ہے۔ فرسٹریشن صرف غصہ نہیں ہوتی، یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان سے اس کا خواب، اس کی شناخت اور آخرکار اس کا وطن چھین لیتی ہے۔

اور شاید یہی کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔