انسانی معاشرے میں ایک نمایاں فکری مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ سچ کی تلاش کے بجائے اکثریت کے ساتھ چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ رویہ آہستہ آہستہ انسان کی اپنی سوچ، رائے اور شعور کو دبا دیتا ہے۔ جب انسان صرف اس بنیاد پر کسی بات کو قبول کر لیتا ہے کہ سب یہی کہہ رہے ہیں، تو وہ دراصل اپنی عقل کو معطل کر دیتا ہے، جو ایک خطرناک رویہ ہے۔
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو بات زیادہ لوگوں میں مشہور ہو یا جسے اکثریت مانتی ہو، وہ لازماً درست ہوگی، مگر یہ سوچ حقیقت کے برعکس ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کئی غلط نظریات، رسم و رواج اور فیصلے محض اس لیے قبول کیے گئے کیونکہ وہ عام تھے، نہ کہ اس لیے کہ وہ درست تھے۔ سچ ہمیشہ تعداد کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ دلیل اور حقائق اس کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔
بھیڑ چال کی ایک بڑی وجہ انسان کا سماجی دباؤ ہے۔ لوگ یہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہ اکثریت سے اختلاف کریں گے تو تنقید، مذاق یا تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔ یہی خوف انسان کو خاموش رہنے یا غلط بات کا ساتھ دینے پر مجبور کر دیتا ہے، حالانکہ اندر سے وہ جانتا ہے کہ وہ صحیح نہیں ہے۔
تعلیم اور شعور کی کمی بھی اس مسئلے کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ جب انسان کو سوچنے، سوال کرنے اور تجزیہ کرنے کی عادت نہ ہو تو وہ دوسروں کی رائے کو ہی اپنی رائے سمجھنے لگتا ہے۔ ایسا شخص نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بن جاتا ہے، جس سے معاشرے میں فکری جمود پیدا ہو جاتا ہے۔
سچ کی پہچان کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی عقل اور ضمیر کو استعمال کرے۔ سوال کرنا، تحقیق کرنا اور مختلف آراء کو سننا کسی بغاوت کی علامت نہیں بلکہ شعور کی نشانی ہے۔ جو انسان ہر بات کو بغیر سوچے مان لیتا ہے، وہ اپنی آزادیِ فکر خود اپنے ہاتھوں سے قربان کر دیتا ہے۔
تاریخ کے عظیم مفکرین، انبیاء اور مصلحین نے ہمیشہ اکثریت کے خلاف کھڑے ہو کر سچ کا ساتھ دیا۔ ابتدا میں ان کا مذاق اڑایا گیا، مخالفت کی گئی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ حق ہمیشہ تنہا ہی شروع ہوتا ہے۔ اگر وہ بھی بھیڑ چال کا حصہ بن جاتے تو دنیا کبھی ترقی نہ کر پاتی۔
بھیڑ چال انسان کو وقتی سکون تو دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ فکری کمزوری اور اخلاقی زوال کا سبب بنتی ہے۔ جب انسان خود سوچنا چھوڑ دے تو وہ آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ طاقتور طبقات ہمیشہ غیر شعوری معاشرے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایک باشعور انسان وہی ہے جو اکثریت کی بات سننے کے باوجود اپنا فیصلہ عقل، دلیل اور سچ کی بنیاد پر کرے۔ اختلاف رائے رکھنا بدتمیزی نہیں بلکہ فکری آزادی کی علامت ہے۔ معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب لوگ اندھی تقلید کے بجائے سوچنے کی جرات رکھتے ہوں۔
آخرکار یہ کہنا بجا ہوگا کہ سچ اور بھیڑ چال میں فرق کرنا ہر انسان کی ذمے داری ہے۔ اگر ہم نے اپنی عقل کو زندہ رکھا، سوال کرنے کی عادت اپنائی اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا تو نہ صرف ہم خود بہتر انسان بنیں گے بلکہ ایک بہتر اور باخبر معاشرہ بھی تشکیل دے سکیں گے۔