افسانہ ”گفتار“

شہزاد احمد
احمد اور علی دو دوست ہیں کالج کے زمانے سے گہری دوستی چلی آ رہی ہے لیکن ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے برابر ہے اگر ایک مشرق کا ذکر کر دے تو دوسرا مغرب کا ذکر کیے بغیر نہیں رہے گا انہیں بس موضوع چاہیے اور پھر گھنٹوں طویل مباحثہ نتیجتاً ہوتا ہے_ اگر کسی بات پر دونوں متفق ہو جائیں تو بحث و تکرار کی نوبت کہاں آئے؟ دونوں میں ان 25 سالوں کی رفاقت میں صرف اس ایک نکتے پر اتفاق ہوا ہے اور وہ یہ کہ دوستوں میں ذہنی ہم آہنگی نہیں ہونی چاہیے_ اختلاف رائے دوستی کا حسن ہے اور دلی اور جذباتی وابستگی دوستی کی اساس، گالم گلوچ بھونڈا مذاق، تمسخر، طنز اور کبھی کبھار مار پیٹ کر لینا دوستی میں تڑکا کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن مشکل وقت میں یہ دونوں ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے _
آج دونوں ٹرین میں ساتھ بیٹھے ہوئے کسی کام کے سلسلے میں لاہور سے راولپنڈی جا رہے ہیں علی کے ہاتھ میں اخبار ہوتا ہے_
علی: یہ لو جب بھی اخبار اٹھاؤ خیر کی خبر پڑھنے کو نہیں ملتی
احمد: تم احمق ہو جو اخبار میں خیر کی خبر ڈھونڈ رہے ہو
علی: یہ کیا فلسفہ ہے؟ خیر کی خبر اخبار میں ہونا جرم ہے کیا؟
احمد: جرم نہیں اگر خیر کی خبر تم نے پڑھی ہوتی تو ایسا رد عمل دیتے؟ دراصل اخبار کی فروخت اس کی سنسنی کی مرہون منت ہے اسی لیے سنسنی خیز خبریں ہی اخبار میں چھپتی ہیں۔
علی: خبر خیر کو بھی سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
احمد: تم سے بحث فضول ہے بتاؤ تمہاری دم پر پاؤں کس خبر سے آیا؟
علی:(آہ بھرتے ہوئے) مسجد میں خود کش دھماکہ ہوا ہے اور خود کش بمبار نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور نتیجتاً سو نمازی شہید اور تقریبا 200 کے قریب زخمی ہو گئے۔
احمد: اس میں کوئی نئی خبر یا اتنا چونکنے والی بات کیا ہے؟ یہ تو گزشتہ کئی سالوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے تم حیرت کے سمندر میں غوطہ زن کیوں ہو؟
او قومی جذبات سے عاری شخص یہ خبر پڑھ کر مجھے شادیانے بجانے چاہییں؟کم از کم ایسے روح فرسا واقعات پر اظہار تا سف کرنا ہر ذمہ دار شہری کا اولین فرض ہے علی کہتا ہے۔
اچھا تو اگر تم نے 24 کروڑ عوام کی طرح اپنا فرض پورا کر لیا ہے تو اب کچھ اور پڑھ لو احمد جواب دیتا ہے۔
اللہ کے بندے! اتنا بڑا سانحہ ہو گیا ہے اتنی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی ہیں دنیا کے سامنے ہمارا تشخص مجروح ہو رہا ہے تمہارے نزدیک یہ سوہان روح واقعہ بے معنی ہے؟
یہ میں نے کب کہا کہ بے معنی ہے؟
مطلب تو یہی نکلتا ہے نا
نہیں تم غلط مطلب لے رہے ہو میرا اشارہ سانحے سے متعلق نہیں بلکہ اس کے رونما ہونے کے اسباب سے تعلق رکھتا ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ جیسی تعلیم دی جائے گی ویسا ہی نتیجہ نکلے گا نا! ہمارا ایک معاشرتی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں بدقسمتی سے ایسی تعلیم دی جاتی ہے جو عدم برداشت پر مبنی ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات کا ہونا سراسر ہمارے مدارس کی تعلیم کا نتیجہ ہے
کیا مطلب؟ کیا مدارس کی تعلیم یہ سب کرنا سکھاتی ہے؟ علی قدرے غصے سے کہتا ہے۔
عام مشاہدے کی بات ہے کہ شدت پسندی کا جذبہ مدارس میں پڑھنے والے طلباء میں کوٹ کوٹ کر بھرا جاتا ہے ننھے منے معصوموں کو برین واش کیا جاتا ہے ان کے معصوم ذہنوں میں دوسرے فرقوں کے خلاف زہر افشانی کی جاتی ہے جنت کے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں اور پھر کیا ہوتا ہے معصوم ذہن ان کی باتوں میں آجاتے ہیں اور خودکش بمبار تک بن جاتے ہیں۔
یہ کیا منطق ہوئی؟ مومن کے دل میں اللہ تعالی کی محبت شدید ہونی چاہیے اس ضمن میں قرآن کی ایک آیت بھی ہے جس کا مفہوم ہے کہ مومن کے دل میں اللہ تعالی کی محبت شدید ہوتی ہے اور رہی بات فرقہ کی تعلیم کی تو وہ بھی مذہب کی ہی تعلیم ہوتی ہے نا اس میں کیا مذہب سے ہٹ کر کچھ سکھایا جاتا ہے ؟
میری جان اللہ سے شدید محبت ہونا ایک الگ بات ہے جبکہ شدت پسند ہونا یکسر مختلف ہے۔کیا جزو کل پر حاوی ہو سکتا ہے؟ احمد سوال پوچھتا ہے۔
نہیں جزو کل پر حاوی نہیں ہو سکتا تمہارا کہنے کا کیا مطلب؟
مطلب یہ کہ جس طرح جزو کل پر حاوی نہیں ہو سکتا اسی طرح فرقہ کی تعلیم مذہب کی تعلیم نہیں ہو سکتی کیونکہ فرقہ جزو ہے اور مذہب کل۔
یار ہونا تو یہ چاہیے کہ ریاست کوئی مربوط پالیسی مرتب کرے تاکہ مدارس فرقہ وارانہ تعلیم سے نکل کر مذہب کی تعلیم پر آئیں میں نے جو خبر پڑھی ہے ان کے الفاظ انتہائی قابل غور ہیں ذرا سننا کہ مسجد میں نمازی نماز پڑھ رہے تھے اور ایک شخص جس نے اللہ اکبر کہا اور خود کو بم سے اڑا دیا۔ ستم دیکھو کہ جنہوں نے اسے بھیجا ان کے نزدیک وہ شخص کہ جس نے خود کو بم سے اڑایا شہید ہے اور ہم جن کے بارے میں پڑھ کر افسردہ ہیں ہمارے نزدیک وہ شہید مطلب مارنے والا بھی شہید اور مرنے والے بھی شہید،کیا عجیب بات ہے کہ اغیار نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا ہے حیف صد حیف! کہ مارنے والا اور مرنے والے سبھی مسلمان ہیں، اس ضمن میں علمائے کرام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مابین ذہنی آہنگی لائیں ایک دوسرے پر کفر کے فتوے نہ لگائیں، تحمل برد باری اور برداشت کا درس دیں۔
ہاں ریاست کو یہ ضرور کرنا چاہیے مگر میرے بھولے دوست علماء اگر خود میں ہم آہنگی لے آئیں تو ان کے پاس عوام میں بیچنے کے لیے چورن کیا رہ جائے گا؟ کفر کے فتوے دھڑا دھڑ بانٹ کر اپنی دکانیں چمکا رہے ہیں نتیجتاً ہمارا مذہبی تشخص مجروح سے مجروح تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
عوام میں بیچنے کے لیے چورن، اپنی دکانیں، کیا مطلب”؟ علی حیرت سے کہتا ہے۔
مطلب یہ کہ اگر علماء فروعی اختلافات پس پشت رکھ دیں اور اختلافی مسائل کو نہ چھیڑیں تو یہ سادہ لوح عوام کے جذبات کو ابھاریں گے کیسے؟ ان میں آتشی جوش کیسے پیدا کریں گے؟ علماء نے در اصل عوام کا مزاج ایسا بنا دیا ہے جو اب ان کی مجبوری بن گیا ہے عوام کے نزدیک اختلافی موضوعات پر تقاریر ہی علماء کی علمیت کی بنیاد ہیں اس کے بغیر سب بے معنی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماء اختلافی مسائل و امور کو بطور محرک و آتش استعمال کرتے ہیں تو ان کا رنگ جمتا ہے تب جا کر وہ اپنی علمیت کی دھاک لوگوں پر بٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں ”
” نہیں یار سارے ایسے نہیں ہیں میں چند ایسے علماء کو جانتا ہوں جن کی تقاریر و تبلیغ فرقہ کی نہیں بلکہ مذہب کی تبلیغ کی آئینہ دار ہوتی ہیں وہ نہ صرف فرقوں کے مابین بلکہ دنیا کے تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی سعئی کمال کر چکے ہیں ”_
” ہاں ہاں ٹھیک کہتے ہو چند ہیں مگر آٹے میں نمک کے برابر اور جن کی بات تم کر رہے ہو وہی ہیں نا جن کی فرقوں کے مابین ہم آہنگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں ان کے فرقے کے علماء نے اپنے فرقے سے خارج کر دیا اور بین المذاہب ہم آہنگی کی بقول تمہارے سعئی کمال کے بعد مذہب سے ہی خارج کر دیا_ احمد ہنستے ہوئے جواب دیتا ہے ”_
ہاں یہ ایک تلخ حقیقت ضرور ہے مگر یہ کوشش تو قابل ستائش ہے” _
”بالکل قابل ستائش ہے مگر نتیجہ”؟
”نتیجہ ایسا ہی ہو گا جب عوام کے جذبات کوحد درجہ بھڑکا دیا گیا ہو کہ وہ ایسا کچھ سننے کو تیار نہ ہوں ” _
”کس نے بھڑکایا؟ احمد ہنس کر کہتا ہے”
”ظاہر سی بات ہے علماء نے ”
” چلو آج اس بحث میں تم نے کم سے کم مجھ سے اتفاق تو کیا ”
” ارے او! زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی میرا مطلب یہ ہے کہ طلبہ جو مدارس میں پڑھتے ہیں وہ اور ان کے والدین قومی و ملی شعور کا مظاہرہ کریں والدین بچوں سے مسلسل رابطے میں رہیں، انہیں کیا تعلیم دی جا رہی ہے اس کی خبر لیتے رہیں اور بچوں کو یہ باور کر دیں کہ لکیر کے فقیر نہ بنیں تا کہ ان کے بچے قومی حمیت و غیرت کو دل میں جگہ دے کر تعلیم حاصل کریں تو ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے اور دنیا کے سامنے اسلام کا ایک بہترین تشخص پیش کیا جا سکتا ہے ”_
” تمہاری بے تکی تو جیہات تمہاری کم علمی اور سادگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، ارے احمق! مدارس میں پڑھنے والے بچے زیادہ تر یا تو یتیم ہوتے ہیں اگر ان کے والدین ہوں بھی تو نا خواندہ ہوتے ہیں یا واجبی سی تعلیم کے حامل ہوتے ہیں بیچارے غریب انہیں کھلا پلا نہیں سکتے اور مدرسے بھیج دیتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی ان کے بچوں کو ملتی رہے اور وہ پلتے رہے، انہیں کیا تعلیم دی جاتی ہے اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا اور رہی بات طلباء کی قومی حمیت و غیرت اور ذاتی وقار کی تو اس کا جنازہ جب وہ مدرسے کے لیے چندے یا خیرات کے پیسے یا کھالیں جمع کرنے کے لیے گھر گھر جاتے ہیں تو نکل جاتا ہےیہی سبب ہے کہ جہاں بھر میں ہم رسوا ہو کر رہ گئے ہیں صرف اغیار ہی مسلمانوں کے در پے نہیں مسلمان بھی مسلمانوں کے در پے ہیں اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ ہماری اس درجہ پست حالت کے ذمہ دار صرف اور صرف ہمارے علماء اور مدارس ہیں ” _
(ٹرین رکتی ہے اور کچھ مسافر ایک سٹیشن سے مزید سوار ہوتے ہیں) ایک مسافر ان کے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے اس کی نظر احمد اور علی پر پڑتی ہے تو وہ اچانک فرطِ جذبات سے پکار اٹھتا ہے ارے احمد اور علی تم؟ کیا حسین اتفاق ہے یہ؟ وہ بھی اسے دیکھ کر بے اختیار پکارتے ہیں عمران تم؟ اور گرم جوشی سے اس سے ملتے ہیں عمران بھی ان کا کالج کا دوست ہوتا ہے_
عمران:”مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم دونوں سے 25 سال بعد یوں اچانک ملاقات ہوگی؟ عمران خوشی اور حیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ کہتا ہے” _
”ہاں یار مجھے بھی یقین نہیں آ رہا مگر زندگی اسی کا نام ہے علی کہتا ہے”
”تم دونوں آ ج بھی اکٹھے ہو جیسے کالج میں ہوا کرتے تھے عمران کہتا ہے”_
” ہاں نا عمران دیکھو تو میں نے اس غلاظت کو 25 سالوں سے اپنے ساتھ سمیٹا ہوا ہے احمد کہتا ہے ”_
” خیر مذاق چھوڑو احمد یہ بتاؤ کہ آج کل کیا ہو رہا ہے؟ تمہارے کتنے بچے ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ ان کی تعلیم کے بارے میں کچھ بتاؤ؟ عمران کہتا ہے ”_
” یار عمران! میری اچھی خاصی گورنمنٹ جاب ہے میرے دو بیٹے ہیں بڑا بیٹا سافٹ ویئر انجینئر ہے اور چھوٹا بیٹا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے اور امریکہ میں ہوتا ہے احمد کہتا ہے ”_
” ماشائاللہ احمد! تم تو بہت تیز نکلے اور بچوں کی تعلیم کا اہتمام انتہائی دانشمندی اور کمال منصوبہ بندی سے کیا ہے زبردست یار زبردست! ” اور علی اب تم اپنے بارے میں بتاؤ”؟
” یار الحمدللہ میں بھی well settled ہوں بہترین جاب ہے دو بیٹے ہیں اور ایک بیٹی ہے بڑا بیٹا سیCSP آفیسر ہے چھوٹا بیٹا UK گیا تھا study کے لیے تعلیم مکمل کر کے اب وہاں اچھی جاب کر رہا ہےاور حال ہی میں بیٹی ڈاکٹر بنی ہے علی جواب دیتا ہے ”
” ماشائاللہ یار! تم دونوں نے تو اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوا کر ان کی life set کردی ہے آفرین ہے یار آفرین ہے عمران کہتا ہے ”_
” بس یار یہ اللہ کا کرم ہے ورنہ ہم اس قابل کہاں تھے اب ذرا اپنے اور اپنے بچوں کے بارے میں بتاؤ؟ علی عمران سے کہتا ہے ” ” یار کیا بتاؤں میں پولیس میں سپاہی بھرتی ہو گیا تھا انٹرمیڈیٹ کے بعد حالات نے مزید پڑھنے کا موقع نہ دیا، دو بیٹیاں ہیں اور تین بیٹے، بیٹیوں کی شادی کر دی ہے بڑا بیٹا کچھ ذہین تھا وہ ایم اے کرنے کے بعد سکول ٹیچر بھرتی ہو گیا، چھوٹا بیٹا لاپروا تھا بمشکل میٹرک پاس ہوا اس کے بعد اسے پولیس میں سپاہی بھرتی کروا دیا ہے _ مگر یار میں سب سے چھوٹے کے بارے میں کافی فکرمند ہوں عمران کہتا ہے ”_
” وہ کیوں احمد پوچھتا ہے ”
” یار کیا بتاؤں بہت کند ذہن ہے پڑھائی میں اس کا دل بالکل بھی نہیں لگتا نہ ہی اسے کوئی ہنر سیکھنے کا شوق ہے، میرے لیے دردِ سر بن چکا تھا، محلے کے حافظ صاحب میرے اچھے دوست ہیں ان کا ایک مدرسہ ہے، کل میں بیٹے کو ان کے پاس لے کر گیا اور ان کے مدرسے میں ہی چھوڑ آیا ہوں اس تاکید کے ساتھ کہ یہ اب اللہ اور آپ کے حوالے ہے، اسے حافظ بنائیں عالم بنائیں یا جو مرضی میں نے اسے دین کے لیے وقف کر دیا ہے ”_
عمران کے منہ سے جو ں ہی یہ الفاظ نکلتے ہیں تو احمد اور علی ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھتے ہیں اور پھر نظریں چرا لیتے ہیں کیونکہ عمران کے آخری جملے سے ان کا طویل مباحثہ سمٹ چکا ہوتا ہے، بحیثیت قوم زوال کا سبب آشکار ہو چکا ہوتا ہے، ان کا اپنا کردار ان کی قومی، ملی و دینی جذبات و احساسات سے مزین گفتار کا تمسخر اڑا رہا ہوتا ہے وہ چلتی ہوئی ٹرین کی کھڑکی سے باہر قدرت کے حسین نظاروں میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں _