برما ٹاؤن کے قبرستان پر  خان نامی گینگ کا مبینہ قبضہ

اسلام آباد (حماد چوہدری)تھانہ کھنّہ کی حدود میں قبضہ مافیاء کا راج خوف خدا ختم قبرستان پر قبضہ مرنے کے بعد ریاست کی طرف سے دیے گئے قبرستانوں پر بھی قبضہ مافیاء سے اجازت لینا ضروری برما ٹاون میں CDA کی الاٹ شدہ قبرستان پر قبضہ مافیاء کے سرغنہ  کی اجازت کے بغیر قبر سے روک دیا جاتا ہے 

قبرستان کے اندر کوئی مزدور بھی باہر سے نہیں اسکتا گورکن بھی ان سے لینا ہوگا اور ان کی من مرضی کے مزدوری دینے ہوگئ  خان نامی مبینہ قبضہ مافیاء گینگ کا قبرستان میں میت کے وارثان کو گالی گلوچ کرنا اور سنگین نتائج کے دھمکیاں دینا معمول بن چکا ہے زرائع کے مطابق اس گینگ کی پشت پنائی با اثر سیاسی شحصیات کر رہے ہے جس کے آگئےمطلقہ ادارے بھی بے بس دیکھائی دے رہے ہیں

14 اگست جشن آزادی کے دن تھانہ کھنہ کی حدود میںCDA کی زمین پرقائم قبرستان کو  پٹھان سے آزاد کرایا جائے تاکہ غریب اور عام کھنہ کا رہائشی تدفین کر سکیں

گینگ کا سرغنہ جو قبائلی پٹھان ہے اور اس کا کہنہ ہے میں یہاں کا رہائشی ہوں اور میری اجازت کے بغیر کوئی یہاں قبر کرئے تو میرے کارندے اسے روک دیتے ہے اس گینگ نے قبرستان میں اپنا بورڈ آویزاں کیا ہوا ہے جس پر ان کے اصول درج ہے جو اصول کی خلاف ورزی کرئے گا اس کو قبر نہیں کرنے دی جائے گئی

غریب شہریوں کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں جینا تو مشکل تھا ہی مگر مرنے کے بعد تدفین اس  خان نامی نے مشکل بنا دئی

آئی جی اسلام آباد کمشنر اسلام آباد سے اپیل ہے ان قبضہ مافیاء کے خلاف قانونی کروائی کر کے ان سے قبرستان کی زمین کو وگزار کروایا جائے

تاکہ ہر امیر و غریب ہر خاص وعام اپنے عزیزواقارب کی تدفین عزت کے ساتھ کر سکے