اخلاق کا لفظ ”خلق“ سے مشتق ہے۔خلق کے معانی خاصے جامع ہیں خلق کے چند اہم معانی طبیعت‘فطرت اور مزاج کے ہیں گویا اخلاق وہ مزاج ہے جو انسان میں قدرت نے نصب کر رکھا ہے اخلاق اس معاشرتی رویے کا نام ہے جو انسان میں ہونا چاہیے اور ہوتا بھی ہے پیدائشی طور پر جو مزاج انسانی روح میں پیوست ہوتا ہے وہ انتہائی نرم‘غیر جانبدارانہ‘ خالص اور خلوص پسند ہوتا ہے۔یہ ہمارا معاشرہ ہی ہے جو اس خداداد خوبصورتی کو بگاڑنے کا اصلی ذمہ دار ہوتاہے۔ہم دن میں بیسوں لوگوں سے ملتے ہیں خواہ وہ ایک ہی ثقافت سے تعلق رکھتے ہوں یا مختلف خواہ وہ ایک ہی طبقے کے ہوں یا مختلف ہر شخص اخلاق سے اپنی اپنی زبان اور ثقافت کے مطابق واقف ہوتا ہے ہر انسان‘ہر خطّہ‘ہر مذہب اور ہر قوم ا سے واقف ہے نہ صرف واقف ہیں بلکہ مغرب نے ان اخلاقیات کو اپنایا بھی ہے جبکہ اپنے آباء کی اس میراث کو شب و روز کی کروٹوں میں کھوتا نظر آتا ہے۔یہاں پر سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جب رب نے کائنات بنائی انسان پیدا کیا ور اسے علم آتا کیا تو رب نے اس علم کا ایک باب اخلاق کو کیوں منتخب کیا؟وہ چاہتا تو اخلاق نام کا لفظ ایجاد ہی نئی ہوتا،نہ تصّور ہوتا نہ گماں ہوتا تو رب نے ایسا کیوں کیا؟اسنے اپنی تعلیمات میں اخلاق کی اس قدر ترویج کیوں کی میں اسی بات پر آپکو دعوت فکردیتے ہوئے آج کے کے کالم کا اختتام کرتا ہوں بقول خالد ملک ساحل ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ اے ہیں ساحل ردی کے اسی ڈھیر میں آداب بھی پڑے تھے