تناسب کے اعتبار سے پاکستان میں اس کا نمبر دوسرا ہے۔ یہ عام طور پر ایسے لوگوں کو ہوتا ہے، جو پان، چھالیا، گٹکا، تمباکو، سگریٹ اور شراب کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اس مرض کی ابتدائی علامات مختلف قسم کی ہوتی ہیں، مثلاً ہونٹوں پر یا منہ کے اندر ایسے چھالے کا بنا جو کسی بھی طرح ٹھیک نہ ہو سکے۔ منہ کے اندرونی حصے میں سفید یا سرخ دھبوں کا نمودار ہونا، دانتوں کا ہلنا، منہ میں درد ہونا، نگلنے، چہانے اور منہ کھولنے میں تکلیف محسوس کرناوغیرہ۔ علاج کے باوجود 40 سے 50 فی صد مریض موت سے ہم کنار ہو جاتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے مریضوں کو بھی مشکل حالات اور تکلیف دہ زندگی کا سامنا کر نا پڑتاہے۔ (طاہرہ ادریس)