کٹی پتنگ نسل اور کیریئر کونسلنگ کی ضرورت

ہمارے ہاں تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ بچوں کو سالہا سال رٹا لگوا کر میٹرک اور ایف اے کی سندیں تو دے دی جاتی ہیں، مگر اس کے بعد انہیں کھلے آسمان کے نیچے یوں چھوڑ دیا جاتا ہے جیسے کٹی ہوئی پتنگ۔ نہ ان کے سامنے کوئی واضح منزل ہوتی ہے اور نہ ہی یہ شعور کہ اب زندگی کا رخ کس طرف موڑنا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ نوجوان اپنی اسناد ہاتھ میں اٹھائے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اور رفتہ رفتہ مایوسی، بے سمتی اور احساسِ ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان آبادی کے لحاظ سے نوجوانوں کا ملک ہے۔ ہمارے پاس دنیا کی بڑی نوجوان آبادی موجود ہے جو اگر درست سمت میں رہنمائی پا جائے تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہم اس قیمتی انسانی سرمائے کو ضائع کر رہے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنما انہیں سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال کرتے ہیں مگر ملکی ترقی کے لیے انہیں استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کو یہ نہیں بتاتے کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی صلاحیت کو پہچان کر معاشرے میں کارآمد بننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جانا چاہتے ہیں۔
اس المیے کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ جو نوجوان واقعی باصلاحیت ہوتے ہیں، جن میں تخلیقی سوچ اور محنت کی لگن ہوتی ہے، وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں یہاں مواقع، رہنمائی اور حوصلہ افزائی نظر نہیں آتی چنانچہ وہ ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ یوں ہماری تیار شدہ افرادی قوت سے دوسرے ممالک فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ نوجوان جو بہت زیادہ باصلاحیت نہیں ہوتے یا جن کی بنیاد اسکول ہی سے مضبوط نہیں کی جاتی، وہ یہیں رہ جاتے ہیں اور ساری زندگی چھوٹی چھوٹی نوکریوں کی تلاش میں کھپا دیتے ہیں، بغیر اس احساس کے کہ ان میں بھی کسی اور شعبے میں بہتر کرنے کی صلاحیت ہو سکتی تھی۔
ہمارے معاشرے میں بچوں کے ذہن میں شروع سے ایک ہی خواب ڈالا جاتا ہے کہ انہیں ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ 95 فیصد سے زیادہ بچے ڈاکٹر نہیں بن پاتے۔ جب وہ اس دوڑ میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ان کے سامنے کوئی متبادل راستہ ہی موجود نہیں ہوتا۔ انہیں یہ نہیں بتایا گیا ہوتا کہ دنیا میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں شعبے موجود ہیں جہاں وہ اپنی صلاحیت کے مطابق بہتر مستقبل بنا سکتے ہیں۔ اسکول کی زندگی میں اکثر بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر کے علاوہ کسی پیشے کا نام تک معلوم نہیں ہوتا۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ کیریئر کونسلنگ کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ بچوں کو اسکول ہی سے یہ شعور دیا جائے کہ زندگی میں کام کرنے کے کتنے شعبے ہیں، ان شعبوں کی نوعیت کیا ہے اور کس شعبے میں کس طرح کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔کسی میں سائنسی ذہن ہوتا ہے، کسی میں تخلیقی صلاحیت، کسی میں فنی مہارت اور کسی میں قیادت کا جوہر۔ اگر ان صلاحیتوں کو بروقت پہچان لیا جائے اور ان کے شوق کے مطابق رہنمائی دی جائے تو یہی بچے مستقبل میں ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ بن سکتے ہیں۔
برین ڈرین کسی بھی ملک کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہے، مگر افسوس کہ اقتدار میں بیٹھے بزرگ اس کی سنگینی کو پوری طرح محسوس نہیں کر پا رہے۔ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دے کر نہیں بلکہ درست سمت، مہارت اور اعتماد دے کر تیار کرنا ہوگا۔ جب تک ہم بچوں کو اسکول سے ہی مقصد، شعور اور سمت نہیں دیں گے، تب تک ہماری نوجوان نسل کٹی پتنگ کی طرح بھٹکتی رہے گی اور قوم ترقی کے بجائے صرف افسوس ہی کرتی رہ جائے گی۔

ضیاء الرحمن ضیاءؔ