کشمیر


بہانپتا ہوں میں یہاں کرب و بلا ہے ہر سو
کیوں مقدر میں مرے درد ملا ہے ہر سو
تیرے فریادی ہیں کشمیری خدایا کچھ کر
تیرے ہی نام کی یک بیک سدا ہے ہر سو
بات کرنے سے وہ پہلے بھی ذرا سوچے گا
کون آزاد ہے ہم سے بھی کوئی پوچھے گا؟
اپنے ہاتھوں سے کیے دفن بزرگاں دیکھے
نام لے کر وہ خدا تیرا شہیداں دیکھے
اپنی آزادی کی خواہش میں لپٹ کر روتے
یا خدایا وہ مسلمان پریشاں دیکھے
اس اذیت سے کہیں منہ میں کلیجا آئے
اس سے پہلے ہی گلستاں میں مسیحا آئے
خوشنما پھولوں کی تدفین کہاں تک ہوگی؟
میرے کشمیر کی توہین کہاں تک ہوگی؟
سارے اوراق لکھے ہم نے لہو سے اپنے
اور تاریخ یہ غمگین کہاں تک ہوگی؟
اک ترے نام کی تکبیر ہمیں حاصل ہو
کچھ نہیں اور یہ کشمیر ہمیں حاصل ہو
(علی رضا‘گوجرخان)


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

اپنا تبصرہ بھیجیں