چہان کے تاجر سے 30 لاکھ روپے کا مبینہ فراڈ

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) چہان گاؤں، چکری روڈ راولپنڈی، تھانہ چونترہ کی حدود میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں علاقے کے معروف بزنس مین سیٹھ اشفاق احمد ایک منظم مبینہ فراڈ گینگ کا شکار ہو گئے۔ متاثرہ تاجر کے مطابق ملزمان نے خود کو کنسٹرکشن کے ٹھیکے دار ظاہر کرتے ہوئے 30 لاکھ روپے مالیت کا سیمنٹ حاصل کیا، مگر بعد ازاں ادائیگی سے انکار کر دیا۔
سیٹھ اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جعلی چیک اور تحریری اسٹام و ایگریمنٹ کے ذریعے ان کا اعتماد حاصل کیا، سامان وصول کرنے کے بعد نہ تو رقم ادا کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کا ازالہ کیا گیا۔

متاثرہ خاندان کے مطابق اس مقدمے میں نامزد ملزمان میں سردار آصف قیوم (سرغنہ) عاصم عباس (ساکن کرک) ساجد بیگ ولد اختر بیگ (محلہ خواجہ نگر، حسن ابدال) راجہ طاہر ولد محمد اکرم (بکرا منڈی، راولپنڈی) شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عاصم عباس اور ساجد بیگ کے ساتھ باقاعدہ اسٹام پیپر اور ایگریمنٹ موجود ہے۔ متاثرہ فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام افراد عادی مجرم ہیں اور خود کو کنسٹرکشن کے ٹھیکے دار ظاہر کر کے مختلف تاجروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ سیٹھ اشفاق احمد کے مطابق وہ گزشتہ پانچ برس سے انصاف کے حصول کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی، جبکہ مبینہ طور پر ملزمان ضمانت پر آزاد گھوم رہے ہیں، جو انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ متاثرہ تاجر نے بتایا کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ووٹر اور سپورٹر ہیں، اور انہیں اس بات پر شدید دکھ ہے کہ موجودہ دور میں، جب حکومت عوام کو دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے دعوے کر رہی ہے، وہ خود پانچ سال سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
متاثرہ فریق نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور سی پی او راولپنڈی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واضح نوعیت کے مبینہ فراڈ کیس کا فوری نوٹس لیں، ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ تاجر کو انصاف فراہم کیا جائے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر سی سی ڈی اور دیگر ادارے عوام کو فوری ریلیف فراہم کر رہے ہیں، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پرانے اور واضح شواہد پر مبنی مقدمات میں انصاف کی رفتار کب تیز کی جائے گی۔ علاقہ مکینوں اور تاجر برادری نے بھی اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کاروباری طبقے کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ تاجروں کا اعتماد بحال ہو اور ایسے واقعات کا سدباب ممکن بنایا جا سکے۔