چک بیلی خان کو تحصیل کا درجہ دینا وقت کی ضرورت

پوٹھوہار کے خطے میں انتظامی سہولت کا سوال کسی ایک شہر یا علاقے تک محدود نہیں، مگر چک بیلی خان کے معاملے میں یہ سوال اب خصوصی توجہ کا متقاضی ہو چکا ہے۔راولپنڈی سے تقریباً 60 تا 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس علاقے کے عوام کو آج بھی کچہری، پٹوار، عدالتی امور اور دیگر سرکاری معاملات کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال کسی فرد یا ادارے پر الزام نہیں بلکہ نظام کی توجہ چاہتی ہے، کیونکہ ایک فعال ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ سہولت کو عوام کے قریب لانے کی مسلسل کوشش کرے۔چک بیلی خان کو تحصیل بنانے کا مطالبہ کسی وقتی جذبات یا سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں، بلکہ زمینی حقائق پر مبنی ایک سنجیدہ انتظامی تجویز ہے۔ ماضی میں اس علاقے کو سب تحصیل کا درجہ دیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں انتظامی ڈھانچے کی بنیاد پہلے سے موجود ہے۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس بنیاد کو عوامی سہولت میں تبدیل کرنے کا وقت نہیں آ گیا؟
وسائل اور معیشت
چک بیلی خان وسائل کے اعتبار سے بھی ایک امید افزا تصویر پیش کرتا ہے۔یہاں موجود تیل و گیس کے ذخائر قومی خزانے میں مسلسل حصہ ڈال رہے ہیں، جبکہ علاقہ تیزی سے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔چک بیلی خان کا بازار اس معاشی سرگرمی کی واضح مثال ہے، جہاں روزانہ درجنوں دیہات کے لوگ خرید و فروخت، روزگار اور ضروریاتِ زندگی کے لیے آتے ہیں۔ یہ بازار نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا دیتا ہے بلکہ پورے علاقہ سواں کے لیے ایک قدرتی تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جو کسی بھی تحصیل کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔آبادی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اپنی جگہ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تحصیل بنانے کا معیار صرف مردم شماری نہیں بلکہ فاصلے، عوامی سہولت اور انتظامی ضرورت کا مجموعہ ہوتا ہے، جیسا کہ کوٹلی ستیاں کی مثال سے واضح ہے۔
ٹرانسپورٹ اور رابطے
چک بیلی خان کی حیثیت بطور علاقائی مرکز پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام سے بھی نمایاں ہوتی ہے۔یہاں سے روزانہ درج ذیل دیہات اور علاقوں کے لیے بس یا شفٹ چلتی ہے:دھندہ، کولیاں گوہرو، ڈھوک گجری، مصریال، میانہ موہڑہ، مہوٹہ، کڑاہی، میال، کُرڑ، پنڈوڑی، حکیمال، رنوترہ، جھنگی دائم، ٹھلہ کلاں، ٹھلہ خورد، لڈوہ، بُرجی، ڈھوک مُزلہ، رائیکا میرا، کالے گجراں، بینس، ڈھوک بھٹی، بائیا، بندوٹی، محمودہ، کھبہ بڑالہ، پاپین، تلہ بجاڑ، لس ملائی، روپڑکلاں، روپڑخورد، بانیاں، مورجھنگ، جاڑے، پڑیال، گگن، چک امرال، ڈھیری، موہڑہ، چکری، ڈھڈمبر، ادھوال، سلمون، چونترہ، تترال، سروبہ، سنگرال، سہال، ڈھلیال، بھال، چک سگہو اور ماڑی بیر۔
اسی طرح، چک بیلی خان سے شہروں اور دیگر مقامات کے لیے ٹرانسپورٹ بھی دستیاب ہے:
لاہور، گوجرخان، ڈھڈیال، راولپنڈی، سیّدکسراں اور فتح جنگ۔یہ واضح ہے کہ علاقہ سواں کا عملی مرکز اگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف چک بیلی خان ہی ہے۔ راولپنڈی روٹ پر مسافروں کو روات میں اترنے پر مجبور ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری الیکٹرک بس سروس کی اشد ضرورت ہے‘ جس سے روزانہ کی آمد و رفت مزید سہل ہو سکتی ہے۔
تعلیم اور انسانی وسائل
تعلیم کے میدان میں بھی چک بیلی خان ایک مضبوط مرکز کی صورت میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں ہزاروں طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ ملحقہ دیہات کے تعلیمی ادارے بھی اسی مرکز سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ تعلیمی سرگرمی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ انتظامی سہولت ملنے کی صورت میں یہ علاقہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
پانی اور بنیادی سہولتیں
پانی کی کمی جیسے مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ مسئلہ صرف چک بیلی خان کا نہیں بلکہ پورے پوٹھوہار کا مشترکہ مسئلہ ہے۔پاپین ڈیم، مہوٹہ ڈیم اور رین واٹر ہارویسٹنگ جیسے منصوبے اس کمی کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔
حکومتی موقع
یہ امر خوش آئند ہے کہ چک بیلی خان کے عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور کمشنر راولپنڈی ڈویژن تک اپنا مؤقف باقاعدہ طور پر پہنچایا ہے۔اب یہ معاملہ حکومت کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ کرے جو عوامی سہولت، انتظامی بہتری اور علاقائی ترقی تینوں کو یکجا کر دے۔
واضح مؤقف
اگر ایک علاقہ خود کو وسائل، تعلیم، بازار، ٹرانسپورٹ اور عوامی ضرورت کے تمام پیمانوں پر پورا ثابت کر رہا ہے، تو اسے انتظامی سہولت دینا کوئی رعایت نہیں بلکہ اچھی حکمرانی کی عملی مثال ہے۔آخر سوال یہ ہے کیا ہم اتنے واضح حقائق کے باوجود عوامی سہولت کو نظر انداز کرتے رہیں گے، یا اب وقت ہے کہ چک بیلی خان کو اس کا جائز مقام دیا جائے؟

وقار احمد اعوان