چوہدری عدنان قتل کیس سابق سینیٹر چوہدری تنویر کی ضمانت خارج ،گرفتاری کا حکم

راولپنڈی (نمائندہ پنڈی پوسٹ)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی رانا سہیل نے سابق رکن صوبائی اسمبلی و تحریک انصاف کے سابق رہنما چوہدری عدنا ن قتل کیس میں نامزد مسلم لیگی رہنما سینیٹر چوہدری تنویرکی درخواست ضمانت خارج کر تے ہوئے گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے جبکہ ان کے 2 بیٹوں اور بھائی کی عبوری ضمانتیں کنفرم کر دی ہیں اور انہیں 2لاکھ روپے فی کس کے مچلکوں کے ساتھ شورٹی جمع کرانے کی ہدائیت کی ہے عدالت نے تمام ملزمان کی عبوری ضمانتوں کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد ایک روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا

گزشتہ روز فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر چوہدری تنویر اپنے بیٹوں رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری اور اسامہ چوہدری کے علاوہ اپنے بھائی چوہدری چنگیز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں پر عدالت نے ملزمان کی حاضری کے بعد انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی تھی تاہم بعد ازاں ملزمان کی عدم موجودگی میں سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے چوہدری تنویرکی ضمانت مسترد کر دی جبکہ ان کے 2بیٹوں اور بھائی کی عبوری ضمانتیں کنفرم کر دیں اس مقدمہ میں تمام ملزمان عبوری ضمانتوں پر تھے عدالت نے4صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ اگرچہ چاروں درخواست گزار مقدمہ میں نامزد ملزمان ہیں لیکن وقوعہ یا مقتول کو زخمی کرنے میں ان کا کوئی براہ راست کردار نظر نہیں آتا جبکہ مدعی مقدمہ نے بھی ایف آئی آر میں ان کے ملوث ہونے کے متعلق تاریخ وقت یا جگہ کا کوئی ذکر نہیں کیا

جبکہ دانش، جنید اور سہیل انجم پر مشتمل مقدمہ کے3شریک ملزمان گرفتار ہیں جنہوں نے پولیس تفتیش کے دوران یہ اعتراف کیا کہ انہیں چوہدری عدنان کے قتل کے لئے چوہدری تنویر نے کہا تھا جس کے لئے اس نے انہیں رقم اور اسلحہ بھی فراہم کیا جبکہ چوہدری تنویر اپنے لئے اضافی رعائت چاہتے ہیں لیکن ا س تناظر میں چوہدری تنویر ضمانت قبل از گرفتاری کے حقدار نہیں ہیں عدالت نے چوہدری تنویر کی پہلے سے منظور کی گئی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کالعدم قرار دیتے ہوئے ضمانت کنفرم کرنے کی استدعا مسترد کر دی جبکہ چوہدری تنویر کے بیٹوں بیرسٹر دانیال چوہدری اور اسامہ چوہدری کے علاوہ چوہدری چنگیز خان کے خلاف صرف سی ڈی آرڈیٹا کو ناکافی ثبوت بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقدمہ کے مدعی نے چوہدری تنویر کے قریبی ہونے کی وجہ سے انہیں مقدمہ میں نامزد کیا ہے

جس پر عدالت نے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر چوہدری دانیال، اسامہ چوہدری اور چوہدری چنگیز خان کی ضمانت کنفرم کرتے ہوئے 2لاکھ روپے فی کس کے مچلکے مع شورٹی جمع کرانے کا حکم دیا ملزمان پر سابق پارلیمانی سیکریٹری پنجاب چوہدری عدنان کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام ہے قتل کی تفتیش کے دوران ایک ٹارگٹ کلر کو پولیس نے کراچی سے گرفتار کرکے راولپنڈی منتقل کیا تھا گرفتار ملزم نے اپنے بیان میں چوہدری تنویر خان سمیت دیگر ملزمان کی نشاندہی کی تھی تاہم چوہدری تنویر نے اپنے بھائی چوہدری چنگیز اور بیٹوں بیرسٹر دانیال چوہدری وچوہدری اسامہ کے ملوث ہونے کی تردید کی تھی

یاد رہے کہ تھانہ سول لائنز پولیس نے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان کے قتل میں مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر ان کے چوہدری دانیال، اسامہ تنویر اور بھائی چوہدری چنگیز سمیت 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا یہ مقدمہ مقتول چوہدری عدنان کے برادر نسبتی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے تعزیرات پاکستان کی دفعات302/34، 109 اور 201کے تحت درج مقدمہ نمبر 253کے مطابق چوہدری عدنان اپنی اسلام آباد نمبر کی پراڈو گاڑی نمبر سی جے100کو خود ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ پچھلی سیٹ پر فضل ربی اور چوہدری ظہیر خان کے علاوہ پچھلی لینڈ کروزر نمبر ایس ٹی سی 4677 پر زاہد حفیظ اور احتشام سخاوت بھی موجود تھے عسکری 13 میں ہاؤسنگ کے دفتر سے واپسی پر جناح پارک کے قریب اشارے پر شلوار قمیص میں ملبوث 2 نامعلوم افراد نے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب سے چوہدری عدنان پر اس وقت اندھادھند فائرنگ کر دی جب گاڑی اشارے پر رکی ہوئی تھی

جس سے گولیاں مقتول کے چہرے اور سینے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر لگیں جبکہ حملہ آور سڑک کے دوسری جانب موجود موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے مقدمہ کے متن کے مطابق مقتول کی سیاسی معاملات اور سرکاری زمین واگزار کرانے پرچوہدری تنویر، چوہدری چنگیز خان، دانیال چوہدری اور اسامہ تنویر سے رنجش کے علاوہ کاروباری معاملات میں لقمان کامل سے زمین کی خریدوفروخت کے مقدمات چل رہے ہیں جس پر چوہدری عدنان اکثر کہتا تھا کہ مجھے ان لوگوں سے جان کا خطرہ ہے اور مجھے کچھ ہوا تو یہ افراد ذمہ دار ہوں گے رواں سال 12 فروری کی رات تھانہ سول لائن کے علاقے پولیس لائنز کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے عدنان چوہدری جان کی بازی ہارگئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں