مائیں‘ بہنیں‘بیٹیاں جنسی بھیڑیوں کے نشانے پر

پٹواری اور ان کے پرائیویٹ منشی لوٹ مار کی کہانیاں

کہتے ہیں ہر دس سال میں انسان بدل جاتا ہے اس کی کیفیت اس کی خواہشیں اس کی ضرورتیں بدل جاتی ہیں بچے ہیں ہیں تو کھلونے چاہیں بڑے ہوئے تو گھر پیسہ اور کامیابی چاہیے۔سکون چاہیے لیکن اپنی ضرورتوں اور سکون کے لیے کسی کاسکون چھین لینا کسی طور قابل فخر یا قابل ستائش نہیں ہوسکتا ایک تبدیلی مجھے بہت تکلیف دیتی ہے وہ یہ کہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے انسان کا اندر سے مردہ ہو جانا ہم کتابوں میں پھول رکھتے ہیں اور ایسے مرجھائے ہوئے پھول پسند بھی کرتے ہیں لیکن مرجھائے ہوئے چہرے اداس کر دیتے ہیں۔چہرے کیوں اداس ہوتے ہیں۔ہر چہرے کی اداسی اپنی ایک الگ کہانی لیے ہوئے ہوتی ہے۔جس کی کہانی سنیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔پریشان حال اور اداس چہرے پل پل مرتے دیکھائی دیتے ہیں اور ان کو مارنے والے ہمارے ہی معاشرے کے وہ کردار ہوتے ہیں جو اپنے منصب اپنی طاقت سے عوام میں اداسیاں بانٹنے کا سبب بنتے ہیں وطن عزیز میں ہر محکمہ اور اس محکمے میں بیٹھے عوام کے ملازمین اپنی اپنی طاقت کو اسی عوام پر استعمال کرتے ہیں جن فرائض کی ادائیگی کے لیے حکومت وقت عوام کی ٹیکسوں سے ان کو تنخواہیں ادا کرتی ہے ان ہی فرائض کی ادائیگی کے لیے یہ لوگ عوام سے رشوت طلب کرتے ہیں تعاون نہ کرنے والوں کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھا کر اس قدر پریشان کردیا جاتا ہے

کہ بلاآخر وہ مجبور ہوکر جائز کام کے لیے بھی رشوت دینے پر مجبور ہو جاتا ہے رشوت کی طلبی اور وصولی حق جان کر بڑی دیدہ دلیری سے کی جاتی ہے اور شکایات کہ بھی جائے تو کوئی سننے پر آمادہ نہیں کیونکہ رشوت ہمارے سماج میں ایک رواج کے طور پر رائج ہوچکی ہے۔دینا والا اسے سسٹم کا حصہ سمجھ کر ادا کرتا ہے اور لینے والا اسے اپنا حق سمجھ کر وصول کرتا ہے۔کیونکہ بحیث قوم ہم اندر سے مردہ ہوچکی ہیں گزشتہ دنوں پنڈی پوسٹ کے گروپ میں ایک عمر رسیدہ شخص کی پٹواری اور پٹواری کے پرائیویٹ منشی کی لوٹ مار کی داستان سننے کو ملی۔جس سے ثابت ہوا کہ پٹوار خانے پاکستان کے دیگر محکموں کی نسبت سو گنا زیادہ کرپٹ ہیں عمررسیدہ شخص محمد اسلم نے پنڈی پوسٹ کے دفتر میں اپنی ببتا سناتے ہوئے بتایا وہ تیس پینتیس سال سے اپنی زمینوں کے کاغذات کی درستگی کے لیے برسر پیکار ہے لیکن وہ اپنے قانونی حق سے محروم ہے محمد اسلم نے راولپنڈی کے موضع جھمٹ مغل کے پٹواری اور اس کے منشی پر الزام ہوتے بتایا کہ کاغذات
میں اس کے نام کی درستگی کے ایک معاملے میں مذکورہ پٹواری اور اس کے منشی سے ستر ہزار پر معاملہ طے پایا اور میرا نام کی درستگی کی گئی لیکن کچھ جگہ پھر بھی نام غلط رہا اب اسے اپنی زمینوں کے خسرہ نمبر اور ان کا ریکارڈ درکار ہے لیکن اسے خسرے نہیں دئیے جارہے۔ عمررسیدہ شخص کا کہنا ہے کہ موضع جھمٹ کا پٹواری اپنے سرکل میں بیٹھنے کے بجائے اڈیالہ روڑ پر کہیں بیٹھتا ہے جو موضع کے عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے زیادتی کا یہ واحد واقعہ نہیں ہے ہر جگہ اور ہر موضع کے پٹواری صاحبان اور ان کے منشی اسی قسم کے رویے اختیار کیے ہوئے ہیں

گوجرخان اور اردگرد کے سرکلز کے پٹواریوں بارے بھی یہ اطلاعات ہیں وہ مبینہ طور پر پرائیویٹ افراد کو منشی رکھ کر کام چلارہے ہیں جو پنجاب ہائی کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے اسی اطلاعات بھی ہیں کہ پرائیویٹ منشی سرکاری کاغذات تک رسائی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر بہت سے غیرقانونی کام بھی کرتے ہیں لوگوں کی زمینوں پر جبرا قبضے کی کوشش بھی کی جاتی ہے ھیر پھیر کے معاملات بھی کیے جاتے ہیں۔مبینہ طور پر ناپ تول میں گھپلوں کی صدائیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ایسے کافی واقعات موجود ہیں پٹواریوں کی جانب سے پرائیویٹ افراد کو سرکاری ریکارڈ تک رسائی ایک غیر قانونی عمل ہے جس پر ادارے کو ایکشن لینا چاہیے۔گوجرخان سرکل میں بہت سے معاملات توجہ طلب ہیں۔پنجاب ہائی کورٹ کو بھی اپنے احکامات پر عمل درآمد کے سلسلے میں ادارے کے خلاف ایکشن لینا ہوگا بصورت دیگر محمد اسلم جیسے عمررسیدہ لوگ در در انصاف مانگتے نظر آئیں گے۔کافی ہوش رُبا کہانیاں موجود ہیں جو کبھی پنڈی پوسٹ کے اوراق پر زیر قلم لاؤں گا۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.