دنیا کے متعدد ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عالمی ادارہ صحت کے زیر نگرانی پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے کام جاری ہے مرکزی و صوبائی سطح پر ادارہ ہیلتھ و ریاست کے ذمہ دار افسران ملک میں ہونے والی پولیو کے قطروں کو پلانے کہ مہم کی برا ہ راست مانیٹرنگ بھی کرتے ہیں بلکہ اس تمام عمل کی نگرانی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی تواتر سے کرتی ہیں جب بھی ملک میں پولیو وائرس پر کنٹرول پانے کی غرض سے مہم کا آغاز کیا جاتا ہے تو ہمیں اپنے اپنے گلی محلوں اہم تجارتی مراکز میٹرو بس اسٹیشن ٹول پلازوں پر بھی پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیمیں دکھائی دیتی ہیں جو انتہائی کم معاوضے پر اہم زمہ داری ادا کر رہی ہیں یہ آپکو گرمی کی حدت سردی کی شدت کی تمیز کئے بغیر ملک بھر میں گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلاتے نظر آتے ہیں ان پولیو ٹیموں میں بچیاں بچے جان افشانی سے کام کرتے ہیں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و جسم سے روح جان کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لئے سفید پوش طبقہ اضطراب کا شکار ہے حکومت جہاں اپنے ریاستی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں و مراعات میں اضافے کا اعلان کرتی ہے مرحلہ وار نجی اداروں فیکٹریوں کارخانوں کے مزدوروں کے لئے بھی جہاں مختلف قوانین و بہتری کا اعلان کرتی ہے وہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو پولیو جیسی موذی و تکلیف دہ مرض سے نجات دلوانے کے گھر گھر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی مشکلات و ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ان کے لئے خصوصی ریلیف و مراعات کا اعلان کرے وزیر اعظم و وفاقی وزیر صحت کے ساتھ ساتھ صوبوں کے انتظامی امور کے سربراہ وزیر اعلی بھی ان کی ان کہی فریاد کو سمجھتے ہوئے ان کے پولیو مہم کے دوران ادا کئے جانے والوں معاوضوں میں دگنے اضافے کے ساتھ ساتھ پولیو قطرے پلانے کہ مہم میں شریک فیلڈ ورکروں کو ہیلتھ کارڈ کے اجراء کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ ان میں محنت و اپنے کام سے مزید لگاؤ لگے۔ پولیو مہم میں فیلڈ ڈیوٹیاں سر انجام دینے والے ہمارے بیٹے بیٹیاں سرکاری ملازم تو ہیں نہیں جو ماہانہ گھر بیٹھے کھاتے رہے انھیں محنت کرنا پڑتی ہے شہروں کی نسبت دیہاتوں میں ایک ایک بچے کے گھر پولیو کے قطرے پلانے کے پہنچنے کے لئے لمبا سفر بھی کرنا پڑتا ہے اور ساتھ جاری سامان کی حفاظت کو بھی ممکن بنانا ہوتا ہے وزیر اعظم عمران خان فیلڈ پولیو ورکروں کی زیر لب فریاد پر فوری احکامات جاری کر کے ان کے حوصلوں کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گلی گلی محلے محلے پولیو کے قطرے پلانے والے ہماری توجہ و محبت کے حق دار ہیں ان کے ڈیلی ویجز معاوضہ میں اضافے کا اعلان کیا جائے۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.