تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
میں پاکستان جا رہا تھا لیکن میرا سٹے بحرین ایئرپورٹ میں تین گھنٹے کا تھا۔ ایئرپورٹ کی وہ بڑی ہال، جہاں لوگ اپنے اپنے سفر کی کہانیاں لیے بھاگتے پھرتے ہیں، وہاں انتظار گاہ میں میرے سامنے ایک پردیسی بیٹھا تھا، جو چھٹی پر جا رہا تھا اپنا وطن دیکھنے۔ وہ شخص نہایت تھکا ہوا لگ رہا تھا، جیسے زندگی کی لمبی دوڑ نے اس کے جسم پر چھاپ چھوڑ دی ہو۔ اس کے چہرے کی کاسنی دھوپ کے نشانات کے ساتھ، آنکھوں میں نیند کی کمی، اور لہجے میں تھکن کی جھلک واضح تھی۔ ہر بار جب وہ اپنی ٹوپی کی نچلی سرحد کو تھامتا، ایسا لگتا جیسے دنیا کی بھاری ذمہ داریوں نے اس کے کندھوں پر وزن ڈال رکھا ہو۔میں نے ہمت کی اور پوچھا: ”کب سے ہو یہاں؟” اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی، اور مسکراہٹ اس کی تھکن کے باوجود کچھ سکون دیتی تھی، لیکن وہ مسکراہٹ ایسی تھی جیسے کوئی پرانا زخم پھر سے ہل گیا ہو، درد کے ساتھ یادوں کا احاطہ لیے۔ وہ ایک لمحے کے لیے خاموش رہا، پھر کہا: ”بیس سال ہو گئے ہیں، صاحب۔” اس کا لہجہ سیدھا، مگر بھرپور تھکن بھرا تھا۔
میں نے دوبارہ پوچھا: ”کیا حاصل ہوا؟”
اس نے سر ہلایا اور دھیرے سے بولا: ”پیسہ… اور کچھ نہیں۔” اس کے الفاظ میں ایک درد چھپا ہوا تھا، جو کسی عام گفتگو سے زیادہ دل پر اثر کر رہا تھا۔ پھر اس نے لمحہ بھر کو خاموشی اختیار کی، گویا کہ وہ اپنی یادوں کی گہرائیوں میں جا رہا ہو، اور آہستہ سے بولا: ”صاحب، اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دولت کے بدلے میں کیا دیا، تو میں کہوں گا جوانی۔”میں نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ اب بھی مسکرا رہا تھا، مگر آنکھوں میں چھپی ہوئی نمی نے وہ سب کچھ بیاں کر دیا جو الفاظ بیان نہیں کر سکتے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر کامیابی کے ساتھ، ایک قیمتی لمحہ اس کی زندگی سے چھن گیا ہو۔اس نے بات جاری رکھی: ”جب میں یہاں آیا تھا، تو ماں کے ہاتھوں کی بنی ہوئی روٹی، باپ کے سایے، دوستوں کی محفلیں سب پیچھے چھوڑ آیا۔ سوچا تھا دو تین سال کام کر کے واپس جاؤں گا۔ لیکن دو تین سال، دس بن گئے، اور اب بیس ہو گئے ہیں۔ اب ماں قبر میں ہے، باپ بیمار، بہنوں کے بچے اسکول جاتے ہیں، اور میں آج بھی یہاں انہی ٹن کے کمروں میں ہوں، ان دیواروں کے بیچ، جن میں ہر چیز میکانیکی اور سرد ہے۔”
میں خاموش رہا، اس کی باتوں نے میرے دل میں بھی ایک خالی پن پیدا کر دیا۔ وہ بولا:”صاحب، پردیس بہت کچھ دیتا ہے، عزت، پیسہ، سہولت، لیکن اس کی قیمت صرف ایک ہے: تنہائی۔ یہاں ہر دن آپ کو یہ یاد دلاتا ہے کہ آپ نے جو چھوڑا ہے وہ واپس نہیں آ سکتا۔ آپ اگر وہ برداشت کر سکتے ہیں تو آ جائیں، لیکن یاد رکھیں، یہاں ہر کامیابی کے پیچھے پسینے کے ساتھ آنسو بھی شامل ہوتے ہیں، اور یہ آنسو اکثر کسی کے ساتھ شیئر نہیں ہوتے۔”میں نے سوچا کہ شاید ہر کامیاب انسان کی زندگی کے پیچھے ایک داستان چھپی ہوتی ہے، جو آنکھوں میں چھپی ہوئی تنہائی، دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی اداسی اور ان لمحوں کا مجموعہ ہوتی ہے جو کبھی واپس نہیں آئے۔ ہر کامیابی کے ساتھ ایک قیمت چکائی جاتی ہے، اور یہ قیمت اکثر دنیا کے سامنے نظر نہیں آتی۔ کامیابی کی روشنیاں ہمیں بہکاتی ہیں، مگر حقیقت میں دل کے اندر ایک چھپا ہوا خالی پن بھی ہمیشہ رہتا ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ دولت کا حصول انسان کو طاقت ضرور دیتا ہے، انسان یہاں سب کچھ کما سکتا ہے،
لیکن وہ محبت، قربت، اور انسانیت کی گرمائش کبھی مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ آدمی بولا: ”یہاں وقت کا حساب ہے، ہر لمحہ قیمتی ہے، لیکن آپ کی یادیں، آپ کا دل، آپ کی جوانی پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہ وہ خزانہ ہے جس کی کوئی قیمت نہیں، اور جو ایک بار گم ہو جائے، وہ واپس نہیں آتا۔”
میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ کتنے لوگ ہیں جو اپنی زندگی کے سب سے قیمتی سال اس طرح گنوا دیتے ہیں، کہ پیسہ تو کماتے ہیں، مگر خود کو، اپنے رشتوں کو اور خوشیوں کو کھو دیتے ہیں۔ پردیس میں کامیابی کے نام پر ہم اکثر اپنی ذاتی زندگی کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اور پھر جب سال گزر جاتے ہیں تو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔یہ آدمی ایک مثال تھا کہ زندگی کے اصل خزانے پیسہ نہیں بلکہ وقت، محبت اور تعلقات ہیں۔ یہ بات اتنی عام لگتی ہے مگر حقیقت میں ہر انسان کے لیے اسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ انسان جب اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ، جوانی اور تعلقات، کھو دیتا ہے، تب اسے احساس ہوتا ہے کہ پیسہ کبھی سب کچھ نہیں بدل سکتا۔میں نے اس سے پوچھا: ”کیا آپ کو کوئی افسوس نہیں؟”
وہ بولا: ”افسوس ہمیشہ رہتا ہے، مگر میں نے جو انتخاب کیا وہ ضروری تھا۔ لیکن ہر دن اس تنہائی کا سامنا کرنا، یہ سب سے بڑی قیمت ہے۔ آپ کامیابی کے پیچھے بھاگتے رہیں، لیکن یاد رکھیں، کامیابی کا ہر لمحہ اپنی قیمت رکھتا ہے، اور یہ قیمت صرف پیسہ نہیں بلکہ آپ کی یادیں، آپ کا دل اور آپ کی جوانی بھی ہو سکتی ہے۔”میں نے سوچا کہ شاید ہر کامیاب انسان کی زندگی کے پیچھے ایک داستان ہوتی ہے، جو آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے اور دل کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی تنہائی سے بھری ہوتی ہے۔ ہر کہانی میں خوشی اور کامیابی کے ساتھ اداسی بھی چھپی ہوتی ہے، اور یہ اداسی کبھی مکمل طور پر بیان نہیں کی جا سکتی۔
ہم سب دولت کے پیچھے بھاگتے ہیں، لیکن اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ پیسہ وہ وقت کبھی واپس نہیں لا سکتا جو ہم نے اپنے بچوں کے ساتھ نہیں گزارا، ماں کے لمس کو محسوس نہیں کیا، یا باپ کی نصیحتوں کے لمحات سے محروم رہے۔ وہ لمحے جو جوانی کی گلیوں میں ضائع ہو گئے، وہ کبھی واپس نہیں آتے، اور اسی لیے ہر کامیابی کا سکون بھی ادھورا لگتا ہے جب دل خالی ہو اور یادیں بے رنگ ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم زندگی میں سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، مگر اپنی سب سے قیمتی چیز، وقت اور تعلقات کی قیمت میں کمی کبھی پورا نہیں کر سکتے۔پردیس میں قسمت ضرور چلتی ہے، مگر اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی ہوتی ہے، ہر کامیابی کی قیمت صرف محنت نہیں، بلکہ تنہائی، یادیں اور گزرے ہوئے لمحات بھی ہوتی ہیں۔
آپ اپنی جوانی، اپنے خواب، اور کبھی کبھی اپنی محبتیں بھی قربان کرتے ہیں، اور یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو زندگی کے آخر میں سب سے زیادہ یاد آتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو پردیس کی راہوں پر نکلتا ہے، اسے یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ کامیابی کا حقیقی پیمانہ صرف مالی فائدہ نہیں بلکہ وہ سکون اور محبت ہے جو ہم اپنی زندگی میں اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ بانٹتے ہیں۔پردیس کی راہیں کٹھن ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان اپنی بنیادیں مضبوط رکھے، وقت کی قدر کرے، اور اپنے تعلقات کو کبھی نظر انداز نہ کرے، تو یہ سفر بظاہر مشکل ہونے کے باوجود قابل برداشت ہو سکتا ہے۔
کامیابی کا سفر صرف دولت یا مقام حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کے سب سے قیمتی لمحات،ہمارے تعلقات، یادیں، اور محبتیں کبھی بھی پیسہ یا شہرت سے نہیں خریدا جا سکتا۔میں وہ دن کبھی نہیں بھولا، اور آج بھی جب بھی کسی پردیسی سے ملاقات ہوتی ہے، میں اس کی آنکھوں میں وہی کہانی دیکھتا ہوں، جو الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ وہ داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کے اصل خزانے پیسہ یا شہرت نہیں، بلکہ محبت، یادیں، اور تعلقات ہیں۔ یہی خزانے ہیں جو انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتے ہیں، اور یہی چیزیں ہیں جو زندگی کو سچ میں خوبصورت اور قابل قدر بناتی ہیں۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.