ملک پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل و معدنیات سے نوازا ھے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بن مانگے اپنے فضل وکرم‘ احسان وعنائیت‘ شرف قبولیت جیسے احسانات عطاء فرمادئیے اور ہمارے پیارے وطن کوبے شمارنعمتوں سے مزین فرمادیا اسکے علاوہ ہمیں ہرطرح کی آب وہوا‘ رنگ برنگے موسم‘ بلندوبالاپہاڑ‘ میدانی علاقے‘ صحرائی ریگستان‘ بحری وبری سرحد‘ سمندر‘ ندی نالے، دریا وچشمے‘ لوہا‘ تابنا وغیرہ کی دھات‘ نمک ومعدنیات کی کان، پھل فروٹ کے باغات‘ خشک میوہ جات کی نعمت‘ سبزی گندم چاول سمیت دنیا کی ہر چیز عطاء فرمائی اس کے ساتھ پاکستان میں بسنے والے زندہ دل شیرجوان‘ مردآہن، مرد مجاہد، مرد قلندر،باحیا باضمیرانسانوں کی بھی کمی نہیں اسی لیے پاکستانی قوم دیگر ممالک میں شرم و حیا، شجاعت وبہادری، نڈر وجفاکش،کی وجہ سے پہچان میں ایک الگ مقام رکھتی ہے اللہ رب العزت کی طرف سے ہرنعمت سے مالامال ملک ھونے کہ باوجود ہماری قوم گھریلو حالات‘ سے مجبور ہوکر، بیرون ممالک روزگار وغیرہ کی تلاش میں جانے پرمجبورہیں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی دیگر ممالک خاص کرعرب کے تپتے صحرا‘ قیامت خیز گرمی اورخون کھولنے والی گرم لہو میں کھڑے ہوکرمحنت و مشقت‘ مزدوری و نوکری کررہے ہیں‘ وہ وہاں کن کٹھن حالات سے گزرکراپنے خاندان کی سہولیات کاسبب بن رہے ہیں‘کن مصائب کاشکار ہوکراپنے خاندان کی کفالت کررہے ہیں‘ کن حالات و واقعات سے گذر رہے ہیں ان سب باتوں کا احاطہ کرنا انکے گھر خاندان اور دیگر پاکستانیوں کیلئے مشکل ہے کیونکہ جب کوئی بھی پردیسی ائیرپورٹ پر بوجھل قدموں سے چلتا ہے اپنوں کو نم آنکھوں سے الوداع کرتا ہے، حالات سے مجبوری اسکونا چاہتے ہوئے بھی اپنوں سے دورکردیتی ہے، اس کے صبر و تحمل کا امتحان یہاں سے ہی شروع ہوجاتا ہے جب اپنی کمسن لخت جگر‘ چشم پدرکو‘ ضعیف العمر والدین کو‘ شریک حیات اورخاندان سمیت ہرعزیز و اقارب کو چھوڑ کرایسے ملک کی طرف روانہ ہوتا ہے جہاں اپنے کم پرائے زیادہ‘ جہاں راحت و سکون کم محنت و مشقت زیادہ‘ بلکہ یوں کہا جائے توبجا ہوگا کہ وہاں محنت و مشقت کاراج ہے،جہاں ہرطرف غیر ہی غیر اپنوں کا تصور نہیں،جہاں مال ودولت کی کشش میں باوجود اپنوں کی خوشی غمی میں عدم شرکت‘ جہاں کام کام صرف کام کی صدا بلند ہوتی ہے، جہاں عرب امارات کی بلند وبالا عمارات کے باہر لٹک کر صفائی و ستھرائی کرنے والے یہی پاکستانی ہیں‘ ٹاورکرین پر بیٹھ کر بلند و بالا عمارات کی تعمیر ہو یا پھر مزدوری کا بوجھ اٹھانے والے یہ سب ہمارے ہم وطن ہیں اگرکبھی بیماری سے دوچار ہونا پڑجائے تو بیمار و لاچار کی صورت میں ماں کی ممتانہی، شریک حیات کا جیسا ہمدرد میسر نہیں،کوئی مرحم رکھنے والانہیں،جہاں کام کہ دوران ذرا سی غفلت پر طرح طرح کی باتیں گالم گلوچ سننی پڑتی ہے جہاں محنت و مشقت زیادہ جبکہ اجرت کم ملتی ہے، دن کو عرب کہ تپتے صحرا میں گرم لہو میں گرما دینے والی گرمی میں ریت پر ہی بیٹھ کرکھانا کھاتے اور دراز ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں جہاں ہر ماہ گزشتہ ماہ کی نسبت زیادہ پیسے بھیجنے کی فکر ہر ماہ گھر والوں کی طرف سے طرح طرح کی فرمائشیں بڑھتی ہی جاتی ہیں، پردیسی بیچارے اسی کشمکش میں بعض تو دو سال اور بعض حالات کے ستائے سالہا سال اپنے وطن کی مٹی دیکھنے کو ترستے ہیں اور بعض قسمت کے ماروں کو کفن پہن کر اپنے ملک میں سونا نصیب ہوتا ہے جبکہ بعض کوتواپنوں کہ ہاتھوں مٹی بھی نصیب نہیں ہوتی بحرحال اگر جائزہ لیاجائے کہ کیاچیز ہے جو انکو اپنے وطن
آنے اور اپنوں کی خوشی و غمی میں آنے میں حائل ہے تو دو طرح کے حالات سامنے آتے ہیں ایک انکی مجبوری دوسرا گھر والوں کی آرائش پہلی بات تو یہ ہے کہ انکی مجبوری اس طرح کہ جب پاکستان آنے لگتے ہیں تو جو لوگ تو کمپنی کی طرف سے ہوتے ہیں انکو آنے جانے کا ٹکٹ کمپنی دیتی ہے جبکہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو ٹکٹ بھی اپنا خریدتے ہیں دو سال گھر پیسہ بھی بھیجتے رھتے ہیں دوسال بعد انکو ویزہ کا بندوبست بھی کرنا ہوتا ہے ٹکٹ بھی خریدنا ہوتا ہے اور پھر خاندان سمیت ہر شخص کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ مہنگے سے مہنگا تحفہ میرے لئے خرید کرلائے اگر کوئی رہ گیا تو ناراضگی پکی دیار غیر میں جاکر خون پسینہ کی کمائی سے گھر کاخرچ‘اور دیگر آرائش کابندوبست کرنیوالا کس قدر مصائب سے گزر رہا ہے اگر یہ گھر والے وہاں کی ایک جھلک دیکھ لیں تو یہ آرائش ترک کردیں فاقہ کش بن جائیں لیکن کبھی بھی اپنے پیاروں کو ان ممالک میں بھیجنے سے گریز کریں لیکن سلام ہے ان باہمت پاکستانی نوجوانوں پر جو تمام ترحالات و واقعات کوخندہ پیشانی سے برداشت کرکہ دن کو محنت و مشقت کی چکی سے گزر کر شام کو جب گھر والوں سے بات کرتا ہے تو مصنوعی مسکراہٹ چھرے پر سجائے یوں احساس دلاتا ہے جیسے اسکو یہاں کوئی تنگی و تکلیف ہی نہیں راحت وآرام اس کے ساتھ سائے کی طرح ہے جبکہ حقیقت اسکے بلکل برعکس ہوتی ہے دوسری طرف آئے روز جو بھی چیز مانگی جاتی ہے ہر ممکن کوشش کرکے اوور ٹائم لگا کر وہ فرمائش بھی پوری کردی جاتی بچوں کہ روشن مستقبل کیلئے یہ مرد ساری زندگی دیار غیر میں گزار دیتا ہے، جوانی کی بہاریں عرب کی تپتے صحرا کی نذر کردیتا ہے لیکن جب بڑھاپے میں کمزورہڈیوں، لاغر جسم، محدود آمدنی کہ ساتھ واپس اپنے دیس کارخ کرتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے جوانی کی بہاریں‘ خوشگوار لمحات‘ جوان اولا‘ سمیت ہر چیز ہاتھ سے نکل چکی ہوتی ہے اب سوائے افسوس پچھتاوے اور حسرت بھری نگاہوں کہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اسلئے ہر سے پردیس کی وادی میں اپنے پیاروں کو بھیجنے والو انکی قدر کریں ان پر بوجھ کم سے کم ڈالیں‘ انکے احساسات و جذبات کو سمجھیں انکی قدر و منزلت کو رد نا کریں سمجھیں سوچیں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.