پاکستان بھارت کے درمیان حالیہ تنازعہ میں جب ڈرون شہروں کے اندر پرواز کرتے پہنچے اور مختلف فوجی تنصیبات کے قریب ان ڈرون کی گرنے کی وجہ سے دھماکہ ہوئے تو عوام میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پائی گئی کیونکہ کئی لوگوں کے ایک نئی بات تھی اور ہر جگہ ان ڈرون حملوں کا چرچا جاری ہے کیونکہ بہت انقلابی خیالات رکھنے والے جذباتی لوگ اپنے ملک کے ایئر ڈیفنس سسٹم کے اوپر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔ حقیقت میں شاید کم لوگ ہی اس بات سے واقف ہونگے کہ ڈرون وہ جدید ہتھیار ہیں جنہیں نہ اسرائیل جیسی ماڈرن ٹیکنالوجی اور مضبوط ایئر ڈیفنس سسٹم رکھنے والی ریاست بھی نہ روک سکی اور نہ ہی روس جیسے طاقتور ملک، حتیٰ کہ حزب اللہ کا ڈرون اسرائیل کے وزیراعظم کے گھر تک پہنچ گیا کیونکہ یہ ریڈار پر نہیں آتے۔ پاکستان میں بیک وقت مختلف مقامات پر ہونے والے ڈرون حملے دراصل اعصابی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ ہیں، جن کا مقصد صرف عوام میں خوف، بےچینی اور افراتفری پھیلانا ہے۔ اس نازک وقت میں ہمیں صبر سے کام لینا پڑے گا ۔ اس وقت دنیا بھر میں ڈرون ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام جاری ہے، چھوٹے کامیکازی یعنی خودکش ڈرونز توپ خانے، اینٹی ٹینک میزائلز، مارٹرز، سنائپرز سمیت کئ ہتھیاروں کے جزوی کام سنبھالنے والے ہیں، ہو سکتا ہے مستقبل میں ڈرون ان سب ہتھیاروں کی جگہ لے لیں، بحرحال یہ ابھی مفروضہ ہی ہے کہ ایسا ہو سکے گا۔
رواں سال دنیا کے بڑے بڑے ممالک کامیکازی ڈرونز کے پروجیکٹس کو فنڈنگ جاری کرتے نظر آۓ۔ یوکرائن اس سال کے آخر تک دس لاکھ کامیکازی ڈرون بنانے کے پروجیکٹ کو مکمل کرنے والا تھا۔ اس طرح چین نے بھی دس لاکھ کامیکازی ڈرون بنانے کا ٹھیکہ اپنی ایک کمپنی کو دیا ہے۔
روس کے بارے ہم جانتے ہیں کہ اسکے پروڈکشن یونٹ یوکرائن کی نسبت کئ گنا زیادہ ہتھیار بنا رہے ہیں۔
بھارت بھی کامیکازی ڈرونز کے لیے بڑی فنڈنگ جاری کر چکا ہے، پاکستان کی دفاعی صنعت بھی اس پر کافی سنجیدہ ہے۔
یوکرائن میں ڈرونز کی کامیابی نے نیٹو ممالک کو بھی اس شعبے میں ترجیحی کام کرنے پر مجبور کیا ہے۔
لیکن حالیہ ڈرون حملے پاکستانیوں کے لیے ایک نیا معمول اور نئی نسل کے لیے دراصل اعصابی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ ہیں، جن کا مقصد صرف اور صرف عوام میں خوف، بےچینی اور افراتفری پھیلانا ہے۔ حالیہ حملے صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کئے گئے لیکن ان کی بدولت عوام میں کافی حدتک افراتفری پھیل گئی۔
جس طرح حالیہ کچھ عرصے سے جاری رہنے والی یوکرین روس جنگ نے جدید جنگ کی ایک نیا طریقہ متعارف کروایا ہے۔ ڈرونز کو نگرانی اور حملہ آور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانا، جو شہری اور فوجی دونوں طرح کے ڈھانچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ بغیر پائلٹ کے ہوائی گاڑیاں (UAVs) میدان جنگ پر ایک نیا معمول بن چکی ہیں، جو روایتی بھاری ہتھیاروں جیسے ٹینکوں سے ہونے والے نقصانات اور مہلک ہونے میں پیچھے چھوڑ رہی ہیں۔
کیونکہ جدید دور میں اب جنگ لڑنا معاشی طور ایک مشکل کام ہے جس کے لیے مہنگے ٹینکوں یا توپ خانے کے برعکس، ڈرون نسبتاً سستے ہوتے ہیں، جو سینکڑوں میل تک پرواز کر سکتے ہیں اور دور سے درست نشانوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اور انہیں جنگ میں شامل کرنا دونوں اطراف کے لیے قابل رسائی اور انتہائی مؤثر بناتا ہے۔
ایک واضح مثال ایران میں بنایا گیا شاہد ڈرون ہے، جو اربوں ڈالر کی امریکی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹمز کے باوجود روسی افواج کی مدد کر رہا ہے۔ دوسری طرف، یوکرینی افواج باقاعدگی سے ڈرون استعمال کرتے ہوئے ماسکو کے اندر تک حملہ کر رہی ہیں، ہوائی اڈوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس ڈرون جنگ نے فوجی حکمت عملیوں اور دفاعی ترجیحات کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
پاکستان کے لیے، یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ مقامی ڈرون مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں بھاری سرمایہ کاری کی جائے۔ انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور دفاعی صنعتوں کو جدید مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز اور کاؤنٹر-ڈرون ٹیکنالوجیز جیسے خصوصی “ڈرون کلرز” تیار کرنے میں مدد کرنا قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
اس نئے دور میں، ڈرون اب صرف جاسوسی کے اوزار نہیں رہے بلکہ اہم جارحانہ ہتھیار ہیں جو جنگوں کے نتائج کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
حالیہ حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جدید جنگوں میں ڈرون ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات میں۔ دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں ڈرونز کو اپنی فوجی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے، جس میں جاسوسی، نشانہ بازی اور دفاعی مقاصد شامل ہیں۔
پاکستان کے موجودہ ڈرون بیڑے، جس میں چائنیز ونگ لونگ II اور مقامی طور پر تیار کردہ براق اور شہپر UAVs شامل ہیں، جنگ میں ماڈرن ٹیکنالوجی کا استعمال کی امید کی ایک کرن ہیں لیکن موجودہ اور مستقبل کے خطرات کے ساتھ قدم ملانے کے لیے انہیں وسیع اور جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے شاہین اور براق جیسے مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز بنائے ہیں، جو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ ان ڈرونز کو بنیادی طور پر سرحدی نگرانی، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں اور بھارت کی جانب سے ممکنہ جارحیت کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
2019ء کے پلوامہ بحران کے بعد، پاکستان نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا ہے۔ نصر اور شہباز جیسے جدید ڈرونز کو بھارت کے خلاف دفاعی اور جوابی کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بھارت نے بھی رستم اور تپش جیسے ڈرونز تیار کیے ہیں، جو پاکستان کی سرحدی چوکسی اور فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ 2019ء کے بعد، بھارت نے اسرائیلی Harop ڈرونز خریدے ہیں، جو خودکش ڈرونز ہیں اور دشمن کے ریڈر نظام کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فروری 2021ء میں، بھارت اور پاکستان کے درمیان جب کشمیر میں جھڑپیں ہوئیں، تو دونوں ممالک نے ڈرونز کے ذریعے ایک دوسرے کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔
مستقبل میں، پاک بھارت تنازع میں ڈرونز کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔ سوئارم ڈرونز (گروہی حملہ آور ڈرونز) اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے لیس ڈرونزجنگ کے طریقوں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک ڈرون ٹیکنالوجی میں ترقی کر رہے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی قسم کی جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
ڈرونز نے پاک بھارت جنگ کے میدان کو تبدیل کر دیا ہے۔ جاسوسی اور حملہ آور ڈرونز دونوں ممالک کی فوجی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ مستقبل میں، اگر ڈرونز کا استعمال بڑھا تو یہ خطے میں ایک نئی فوجی دوڑ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
جدید ہتھیاروں کا حصول قومی سلامتی کے لیے لازم ہے لیکن مہنگے ہتھیاروں کے برعکس جدید سستے ہتھیار جو کہ زیادہ موثر ہو اس وقت اور حالات کی اشد ضرورت ہے اور حالیہ کچھ عرصہ میں پاکستان نے ڈرون ہتھیاروں کے بنانے میں کافی حدتک کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس میدان میں مزید اہداف حاصل کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اپنے ملک کے دشمنوں کے حملوں کو مکمل طور روکا جا سکے۔


