تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
پاکستان ریلویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر علی بلوچ نے ہفتے کے روز اس اہم قومی منصوبے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مین لائن ون (ایم ایل ون) کی اپ گریڈیشن سے متعلق تمام تیاریوں کو تقریباً حتمی مرحلے میں پہنچا دیا گیا ہے اور ادارہ اب عملی اقدامات کے قریب ہے۔ ان کے مطابق اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو طویل عرصے سے زیرِ التوا اس منصوبے کا سنگِ بنیاد جولائی میں رکھا جا سکتا ہے، جو پاکستان کے ریلوے نظام کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔
ریلوے کے اعلیٰ حکام کے مطابق ایم ایل ون کا منصوبہ صرف ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں بلکہ ایک جامع اصلاحاتی پروگرام ہے، جس کا مقصد پورے ریلوے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس منصوبے کو ملکی معیشت، صنعتی ترقی اور عوامی سہولت کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ملک کے بڑے شہروں کو تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد ریل سروس سے جوڑا جائے گا۔
یہ بات لاہور میں ریلوے ہیڈکوارٹرز میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران سامنے آئی، جہاں منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات میں نہ صرف فنی معاملات بلکہ مالیاتی حکمتِ عملی اور مستقبل کے اہداف پر بھی کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اے ڈی بی کے وفد نے اجلاس کے دوران اپنی تکنیکی تجاویز اور زمینی حقائق پر مبنی مشاہدات پاکستان ریلویز کی اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ شیئر کیے، جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ منصوبے کی اہم تفصیلات کو جلد حتمی شکل دی جائے گی تاکہ کسی قسم کی مزید تاخیر سے بچا جا سکے۔
لاہور میں ہونے والی یہ ملاقات دراصل اس کے بعد ہوئی جب اے ڈی بی کی ٹیم نے حال ہی میں کراچی سے روہڑی تک کے ریلوے ٹریک کا تفصیلی معائنہ کیا، جو تقریباً 480 کلومیٹر پر مشتمل ایک انتہائی اہم حصہ ہے اور ایم ایل ون کے پہلے پیکیج کا بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے۔ اس حصے کو پاکستان کے ریلوے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔
حکام کے مطابق اس سائٹ وزٹ کا مقصد موجودہ انفراسٹرکچر کی حالت کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور ان شعبوں کی نشاندہی کرنا تھا جہاں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، خصوصاً ٹریک کی تجدید، سگنل سسٹم کی بہتری اور ٹرینوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ۔
ایم ایل ون پاکستان کے ریلوے نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جو کراچی سے پشاور تک تقریباً 1872 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور ملک کے بیشتر مسافروں اور مال برداری کی ذمہ داری اسی لائن پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس لائن میں بہتری پورے نظام پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد پرانے اور خستہ حال ریلوے نظام کو جدید بنانا ہے تاکہ ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ ہو، حادثات میں کمی آئے، مال برداری کی صلاحیت بڑھے اور بڑے شہروں کے درمیان سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد نہ صرف عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ صنعتی شعبے کو بھی سستی اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ کی سہولت ملے گی، جس سے مجموعی معیشت کو تقویت حاصل ہو گی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔
خاص طور پر تھر سے کوئلے کی ترسیل اور بلوچستان سے معدنیات کی نقل و حمل میں آسانی پیدا ہو گی، جو ملک کی توانائی اور معدنی صنعت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور مستقبل میں صنعتی ترقی کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔
تاہم اس منصوبے کی رفتار ہمیشہ ہموار نہیں رہی اور اب بھی کئی تجزیہ کار اس بات پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ واقعی جولائی میں اس کا سنگِ بنیاد رکھا جا سکے گا یا نہیں، کیونکہ ماضی میں ایسے کئی وعدے پورے نہیں ہو سکے۔
ان ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی متعدد بار ایسے بیانات سامنے آ چکے ہیں جن میں ایم ایل ون کو جلد شروع کرنے کے دعوے کیے گئے، مگر عملی پیش رفت نہ ہو سکی اور منصوبہ کاغذی کارروائیوں تک محدود رہا۔
اگرچہ ابتدائی فزیبلٹی کئی سال قبل تیار کر لی گئی تھی، مگر سنجیدہ پیش رفت اس وقت شروع ہوئی جب اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت شامل کیا گیا، جس سے اس منصوبے کو عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوئی۔
اس مرحلے پر چین نے منصوبے کے لیے مالی تعاون پر آمادگی ظاہر کی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاگت میں اضافہ، ڈیزائن میں تبدیلیاں اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں نے اس عمل کو سست کر دیا۔
منصوبے کی مجموعی لاگت میں بار بار نظرثانی کی گئی، جس کے باعث چینی حکام نے محتاط رویہ اختیار کیا اور پاکستان کے لیے آسان شرائط پر مالی معاونت کا حصول مشکل ہوتا چلا گیا۔
اسی دوران پاکستان کی معاشی مشکلات اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ نے بھی اس منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں حکومت کو متبادل ذرائع کی تلاش کرنا پڑی۔
چنانچہ پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے رابطہ کیا تاکہ نئے مالیاتی آپشنز تلاش کیے جا سکیں اور منصوبے کو کسی نہ کسی صورت آگے بڑھایا جا سکے۔
اگرچہ اے ڈی بی نے ابھی تک باضابطہ طور پر فنڈنگ کی منظوری نہیں دی، مگر حالیہ معائنوں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اے ڈی بی کی شمولیت سے منصوبے کو مختلف مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس سے مالی دباؤ کم ہو گا اور حکومت کے لیے اس پر عمل درآمد نسبتاً آسان ہو جائے گا۔
سابق ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اے ڈی بی کے ساتھ دوبارہ روابط ایم ایل ون کو زندہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس سے عالمی معیار کی تکنیکی رہنمائی اور شفاف مالیاتی ڈھانچہ میسر آ سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر بروقت مالی بندوبست ہو جائے اور طے شدہ ٹائم لائن پر عمل کیا جائے تو یہ منصوبہ کئی دہائیوں کے انتظار کے بعد حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے اور ریلوے کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
عوامی سطح پر بھی اس منصوبے سے بڑی توقعات وابستہ ہیں، کیونکہ بہتر ریلوے نظام نہ صرف روزمرہ سفر کو آسان بنائے گا بلکہ سڑکوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔
ماہرین کے نزدیک ایم ایل ون پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھ کر خالصتاً تکنیکی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے نہ صرف ایک جدید ریلوے نیٹ ورک کی بنیاد رکھے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی ایک طویل المدتی سہارا فراہم کرے گا۔
یوں ایم ایل ون کو محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ قومی مستقبل سے جڑا ہوا ایک کلیدی منصوبہ سمجھا جا رہا ہے، جس کی کامیابی یا ناکامی آنے والے برسوں میں پاکستان کے انفراسٹرکچر کی سمت کا تعین کرے گی۔
