ماہرین نےبڑھتے ہوئے پانی بحران پر خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ مربوط واٹر منیجمنٹ اپنائی جائے۔زرعی مقاصد کیلئے پانی کے استعمال کو موثر بنایا جائے۔بارشی پانی کو زیادہ سے زیادہ قابل استعمال بنایا جائے۔زیر زمین پانی پر انحصار کم کیا جائے۔ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان انڈس بیسن میں بارشوں کا آنے والا پانی صرف دس فیصد ذخیرہ کرپاتا ہے۔جبکہ دنیا میں یہ شرح چالیس فیصد ہے۔پاکستان کے تین بڑے پانی ذخیرہ کرنے والے زرائع کی1976-76میںگنجائش16اعشاریہ269ملین ایکٹر معکب فٹ تھی۔جو 2025میں 5اعشاریہ075ملین ایکٹر معکب فٹ رہ گئی ہے۔ تربیلا میں پانی کی سٹوریج1976-76میں9اعشاریہ 692ملین ایکٹر معکب فٹ تھی جو 2025میں 6اعشاریہ 047ایم اے ایف رہ گئی ہے۔منگلا میں1967-68میں 5اعشاریہ86ایم اے ایف تھی۔جو2012میںمنگلاڈیم اپ رائزنگ منصوبہ کے باعث بڑھ کر 8اعشاریہ237ایم اے ایف ہوگئی تھی۔اب2025میں7اعشاریہ 299ایم اے ایف ہے۔چشمہ کی1970-71میں گنجائش0.717ایم اے ایف تھی۔جو اب 0.227ایم اے ایف ہے۔پاکستان میں پانی کے بحران کا نجنیئرنگ حل کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ زرعی رویے تبدیل کئے جائیں چاول کی فصل کو پاآبی گزرگاہوں کے کناروں پر منتقل کیا جائے۔سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے محمد نعیم خان سابق سی ای او (پی ای ڈی او)خیبرپختونخواہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور پانی کے غیر مؤثر استعمال کی وجہ سے پاکستان پانی کی کمی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ جس کے حل کیلئے ہمیں مربوط واٹر مینجمنٹ اپنانا ہوگا ۔بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کار ی کرنی ہوگی۔ ڈاکٹر منظور احمد ملک سابق ڈائریکٹر (پی سی آر ڈبلیو آر)نے کہا کہ پانی کے وسائل کا مؤثر استعمال بے حد ضروری ہے۔ ہمیں پانی بچانے والی ٹیکنالوجیز کو رائج کرنا ہوگا۔ زرعی نظام کو پانی کے لحاظ سے مؤثر بنانا ہوگا اور آلودگی سے پانی کے ذرائع کو محفوظ رکھنا ہو گا۔ انجینئر ارشد عباسی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے آبی تحفظ کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہمیں بین الاقوامی سطح پر اپنا مؤقف مضبوط کرنا ہوگا اور بھارت کے ساتھ پانی کے حقوق پر سنجیدہ مذاکرات کرنے ہوں گے۔انجینئر ڈاکٹر بشا رت حسن بشیرنے کہا کہ پانی کی قلت سے خوراک اور توانائی دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ ہمیں قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر ہائیڈرو پاور کو فروغ دینا ہوگا اور زرعی طریقوں کو پانی کے لحاظ سے پائیدار بنانا ہوگا تاکہ ترقی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ پاکستان میں پانی کے بحران کا حل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔