وڈیو لنک کے خلاف دائر درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب


راولپنڈی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس طاہر محمود باجوہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں وڈیو لنک کے خلاف دائر درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کرلیا ہے گزشتہ روز پٹیشن کی ابتدائی سماعت کے موقع پر سابق چیئرمین کے وکلا سردار لطیف کھوسہ اور فیصل ملک عدالت پیش ہوئے سابق چیئرمین کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ وڈیو لنک پر اتنے اہم کیس کا فیئر ٹرائل ممکن نہیں درخواست گزار کی موجودگی میں صرف 31 گواہان ریکارڈ ہوئے حالانکہ مقدمے میں نامزد باقی ملزمان پیش ہوتے ہیں صرف سابق چیئرمین کو وڈیو لنک پر پیش کیا جاتا ہے

کیس کا آدھا ٹرائل جیل میں ہوا ہے اس تناظر میں پنجاب حکومت کے وڈیولنک ٹرائل کے نوٹیفکیشن کا کوئی جواز نہیں درخواست گزار کے وکلا نے استدعا کی کہ سابق چیئرمین کو عدالت پیش کیا جائے یا جیل میں ٹرائل کیا جائے عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی یاد رہے کہ سابق چیئرمین نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں وڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل سے متعلق حکومتی نوٹیفکیشن کو چیلینج کر رکھا ہے